Dawate Allama G.A Parwez Khia hai by Omer Draz Sahib ( Late) از قلم: محمد عمر دراز

بِسمِ اللّٰہ اَلرَحمٰن اَلرّحِیم



پرویزؒ کی دعوت کیا ہے؟

از قلم: محمد عمر دراز

علامہ غلام احمد پرویزؒ مرحوم، قرآنی فکر کی ایک بلند پایہ فاضل شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنے عصر کے مایہ ناز اسلامی مفکرین، سرسید احمد خاںؒ، علامہ حافظ محمد اسلم جیراجپوریؒ اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے افکار سے استفادہ کیا اور ان کے تتبع میں رجعت الی القرآن کی آواز بلند کی اور تما م عمر قرآن کریم کے حقائق اور اسے لانے والے رسول اعظم علیہ التحیہ والسلام کی عظمت کردار کو قوم کے سامنے پیش کرتے رہے۔

جب مفکر پاکستان، علامہ محمد اقبالؒ نے 1930میں ہندوستان کی حدود میں اسلام کو ایک جیتے جاگتے نظام کی شکل میں قائم کرنے کے لیے ‘‘پاکستان’’ کا تصور دیا تو علامہ پرویزؒ اس کے سرگرم مبلغ بن گئے اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ اس مملکت کے حصول کی کوششوں میں ہراول دستہ کے رکن کی حیثیت میں کام کرنے لگے۔ تحریک پاکستان کی ابتدا سے ہی ہندوستان کے علمائے کرام نے اس تحریک کی مخالفت شروع کر دی۔ حضرت قائداعظمؒ نے پرویزؒ صاحب کو علامہ اقبال کی ترغیب پر اس ‘‘پاکستان مخالفت محاذ’’ کے سدباب کے لیے منتخب کیا اور انہوں نے اپنی شبانہ روز محنت سے اس مجوزہ مملکت اور اس کے قیام کی اہمیت کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ارشادات کی روشنی میں قوم کے سامنے پیش کی۔ آخر الامر حضرت قائداعظمؒ اور ان کے رفقا, کی حق پر مبنی ان کوششوں کو بارگاہ ایزدی سے شرف قبولیت حاصل ہوا اور پاکستان مخالف علما کے حصہ میں روسیاہی اور ندامت کے سوا کچھ نہ آیا۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان قائم ہو گیا۔ ان خدمت کے اعتراف کے طور پر انہیں 1989 میں ‘‘تحریک پاکستان گولڈ میڈل’’ بھی پیش کیا جا چکا ہے۔علماکرام اپنی اس شکست کو کبھی بھول نہیں پائے۔ چونکہ علما، علامہ غلام احمد پرویزؔ کو اپنی شکست کا ذمہ دار گردانتے تھے اس لیے انہوں نے شکست پندار کے انتقام کے طور پر پرویزؒ صاحب کے خلاف طرح طرح کے بے بنیاد الزامات لگانے شروع کر دیئے۔ پرویزؒ صاحب تمام عمر، ان الزامات اور بہتان طرازیوں سے بے پرواہ ہو کر قوم کے سامنے خلاف علیٰ منہاج نبوت کے قیام کے لیے اس نظام کے نقوش قوم کے سامنے پیش کرتے رہے جسے قائم کرنے کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا۔ ان کی فکری کاوشوں کو اب اندرون اور بیرون پاکستان سراہا جا رہا ہے اور یونیورسٹیوں کی اعلیٰ ڈگریوں کے لیے موضوع بنایا جا رہا ہے، اسی لحاظ سے یہ اعتراضات بھی پھر سے ابھارے جا رہے ہیں۔

ان ہی بے بنیاد الزامات کی ایک تازہ کڑی ایک پمفلٹ کی شکل میں سامنے آئی ہے جسے اسلامی ثقافتی مرکز کوپن ہیگن نے شائع کیا ہے۔ حسب معمول، انہوں نے بھی پرویزؒ صاحب کی تحریروں کو سیاق و سباق سے الگ کر کے مختلف بہتان طرازیوں کو موضوع بنایا ہے۔ جس میں نبی اکرمﷺ کی اطاعت سے انکار، حدیث سےا نکار، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سے انکار اور قرآن کریم کی تلاوت سے انکار کے عنوانات قائم کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پرویزؒ صاحب کی دعوت دراصل یہود و ہنود اور ابلیس کی دعوت ہے۔ اس سے پیشتر کہ ہم پرویزؒ صاحب کے عقائد پر روشنی ڈالیں، ہم پرویزؒ صاحب کی معرکہ آرا کتاب معراج انسانیت سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں، جسے پڑھ لینے کے بعد اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہنی چاہئے کہ ان کے نزدیک حضور نبی کریمﷺ کا مقام کیا تھا اور ایک مسلمان کے لیے حضور ﷺ کی اطاعت کس قدر لازمی ہے۔ آپ لکھتے ہیں۔

‘‘یہ آنے والا رسول کافۃ للناس اور رحمۃ للعالمین بن کر آیا اور اپنے ساتھ وہ نظام عدل و حریت لایا جو انسان کو دنیا بھر کی غلامی سے آزادی دلانے کا کفیل تھا۔ یہ پیغام کوئی انوکھا پیغام اور یہ تعلیم کوئی نئی تعلیم نہ تھی۔ صداقت جہاں کہیں بھی تھی، اسی کتاب مبین کا کوئی نہ کوئی ورق تھی جو محمدﷺ کی وساطت سے دنیا کو ملی۔ روشنی جس مقام میں بھی تھی، وہ اسی قندیل آسمانی کی کوئی نہ کوئی کرن تھی۔ جو قلب نبویﷺ میں اتاری گئی۔ شام جان نواز نے جہاں کہیں بھی عطر بیزی و عنبر فشانی کی، وہ لالہ و یاسمین کی انہی پتیوں کی رہن منت تھی جن کا گلدستہ اس نبی آخرالزماںﷺ کے مقدس ہاتھوں محراب کعبہ میں رکھا گیا۔ پیغام محمدیﷺ کیا ہے؟ ان اوراق کی شیرازہ بندی جنہیں حوادث ارضی و سماوی کی تیز آندھیوں نے صحن کائنات میں ادھر ادھر بکھیر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اور مقام محمدیﷺ کیا ہے؟ ان ہی درخشندہ و تابندہ ذرات نادرہ کا پیکر حسن و زیبائی جن کی حقیقی آب و تاب کو ان کے ستائش گروں کی غلو آمیز عقیدت کی رنگینیوں نے مستور کر رکھا تھا۔ وہاں یہ جوہر الگ الگ پڑے تھے، یہاں یہ پیکر جلال و جمال ان سب کا حسین مجموعہ تھا۔ وہاں یہ الفاظ بکھرے ہوئے تھے، یہاں ایک ایسے عدیم النظیر مصرعہ میں آب و تاب سے موزوں ہو گئے تھے جو ضمیر کائنات میں قرنہاقرن سے پہلو بدل رہا تھا۔ وہ موتی تھے، یہ مالا تھی۔ وہ پتیاں تھیں، یہ پھول تھا۔ وہ ذرے تھے، یہ چٹان تھی۔ وہ قطرےتھے، یہ سمندر تھا۔ وہ ستارے تھے، یہ کہکشاں تھی۔ وہ افراد تھے، یہ ملت تھی۔ وہ نقطے تھے، یہ خط مستقیم تھا۔ وہ ابتدا تھی، یہ انتہا تھا۔

خلق و تقدیر و ہدایت ابتدا است

رحمت، للعالمیتی انتہا است

خدائے جلیل نے اپنے بندوں سے جو کچھ کہنا تھا، آخری مرتبہ کہہ دیا۔ شرف انسانیت کی تکمیل کے لیے جو قوانین دئیے جانے تھے، وہ اپنی انتہائی شکل میں دیئے گئے۔ اس کے بعد انسان کو اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے کسی دوسری مشعل راہ کی ضرورت اور کسی اور ہادی طریقت کی احتیاج نہ رہی۔ اب انسانیت کے مقام بلند تک پہنچنے کے لیے وہی ایک صراط مستقیم ہے جس پر اس ذات اقدس و اعظم کے نقوش قدم جگمگ جگمگ کر رہے ہیں۔

(معراج انسانیت صفحہ79/74، پہلا ایڈیشن)

قرآن کریم کے مطابق حضور ﷺ ختم المرسلین تھے۔ یعنی سلسلہ نبوت حضورﷺ کی ذات اقدس و اعظم پر ختم ہو گیا۔ وقتاً فوقتاً مختلف ممالک میں مدعیان نبوت اٹھتے رہے اور ملت اسلامیہ مین انتشار اور فساد برپا کرتے رہے۔ ہندوستان میں بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ پرویزؒ صاحب نے احمدیت کی تحریک کو اپنی ایک مستقل تصنیف کا موضوع بنایا اور بتایا کہ اس تحریک کے اصل مقاصد کیا تھے اور حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد، دعویٰ نبوت کرنے والے کی حقیقت کیا ہے۔ اس سے قبل پرویزؒ صاحب ہی کے ایک مضمون سے استفادہ کر کے، بہاولپور کے ایک فاضل جج نے یہ فیصلہ دیا کہ حضور نبی اکرمﷺ کے بعد کسی بھی شخص کو نبی ماننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس کی تفصیل دلچسپ بھی ہے اور حقیقت افروز بھی۔ یہ مقدمہ‘‘مقدمہ بہالپور’’ کے نام سے معروف ہے۔ تفصیل اس طرح ہے۔

‘‘1926 کا ذکر ہے۔ ریاست بہاولپور کی ایک عدالت میں ایک مقدمہ دائر ہوا جس میں ایک مسلمان خاتون نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کے خاوند نے قادیانی مسلک اختیار کر لیا ہے جس کی وجہ سے وہ مرتد ہو گیا ہے۔ اس لیے اس شخص سے مدعیہ کا نکاح فسخ قرار دیا جائے۔ اس مقدمہ نے ملک گیر شہرت حاصل کر لی اور مسلمانوں میں ایک ہیجان پیدا ہو گیا۔ اس لیے نہیں کہ اس میں فریقین کی حیثیت بڑی ممتاز تھی، وہ تو بالکل غیر معروف سے تھے۔ یہ اس لیے کہ ہندوستان میں (غالباً) یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ تھا جس میں فیصلہ طلب سوال یہ تھا کہ ایک شخص قادیانی مسلک اختیار کرنے کے بعد مسلمان رہتا ہے یا نہیں۔ اس اعتبار سے یہ مقدمہ متعلقہ فریقین کا مابہ النزاع معاملہ نہ رہا بلکہ قادیانیوں اور غیر قادیانیوں کے مابین ایک دینی سوال بن گیاجا کا عدالتی فیصلہ، (ظاہر ہے کہ) بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ مقدمہ قریب نو سال تک زیر سماعت رہا اور آخر الامر محمد اکبر صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر نے (جواب مرحوم ہو چکے ہیں) 7 فروری 1935 کو اس کا فیصلہ سنا دیا۔ یہ فیصلہ اپنی شہرت اور اہمیت کے پیش نظر اس زمانے میں بھی الگ چھپ گیا تھا اور اس کے بعد بھی چھپتا رہا’’

(تحریک احمدیت اور ختم نبوت، ایڈیشن تیسرا)

حال ہی میں، اسلامک فائونڈیشن 1۔ ڈیوس روڈ لاہور نے اسے ‘‘مقدمہ مرزائیہ بہاولپور’’ کے عنوان سے من و عن تین جلدوں میں شائع کیا ہے اور اس کی ضحامت 1856 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس فیصلہ میں صفحہ 17 پر لکھا ہے کہ مدعیہ کی طرف سے چھ گواہان مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ عباسیہ بہالپور، مولوی محمد حسین صاحب سکنہ گوجرانوالہ، مولوی محمد شفیع صاحب ، مفتی دارالعلوم دیو بند، مولوی مرتضیٰ حسن صاحب چاند پوری، سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری (شیخ الحدیث دارلعلوم دیوبند) مولوی نجم الدین صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور پیش ہوئے۔ اس سے اس مسئلہ کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ اس مسئلہ کا سارا دارومدار اس بات پر تھا کہ نبوت کی حقیقت کیا ہے اور نبی کسے کہتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ :

‘‘موجودہ زمانے میں بہت سے مسلمان نبی کی حقیقت سے بھی آشنانہیں۔ اس لیے بھی ان کی دلوں میں یہ مسئلہ گھر نہیں کر سکتا کہ مرزا صاحب کو نبی ماننے میں کیا قباحت ہوتی ہے کہ جس پر اس قدر چیخ و پکار کی جا رہی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کی تھوڑی سے حقیقت بیان کر دی جائے’’

(فیصلہ مذکورہ صفحہ 53)

آگے چل کر فاضل جج نے لکھا ہے کہ مدعیہ اور مختلف علمائے کرام کی طرف سے پیش کردہ نبی کی تعریفیں میرا اطمیان نہ کر سکیں وہ لکھتے ہیں کہ

‘‘یہ تعریفیں چونکہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے کافی نہ تھیں، اس لیے میں اس جستجو میں رہا کہ نبی یا رسول کی کوئی ایسی تعریف مل جائے جو تصریحات قرآن کی رو سے تمام لوازم نبوت پر حاوی ہو۔ اس سلسلہ میں مجھے مولانا محمود علی صاحب، پروفیسر رندھیر کالج کی کتاب دین و آئین دیکھنے کا موقعہ ملا۔ انہوں نے معترضین کے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے نبوت کی حقیقت یہ بیان کی کہ جس شخص کے ول میں کوئی نیک تجویر بغیر ظاہری و سائل اور غور کے پیدا ہو۔ ایسا شخص پیغمبر کہلاتا ہے۔ اور اس کے خیالات کو وحی سمجھایا جاتا ہے۔ لیکن یہ تعریف بھی مجھے دلچسپ معلوم نہ ہوئی۔آخر کار ایک رسالہ میں ایک مضمون بعنوان میکانیکی اسلام از جناب چودھری غلام احمد میری نظر سے گزرا۔ اس میں انہوں نے مذہب اسلام کے متعلق آج کل کے روشن ضمیر طبقہ کے خیالات کی ترجمانی کی ہے۔ اور پھر خود ہی اس کے حقائق بیان کیے ہیں۔ اس سلسلہ میں نبوت کی جو حقیقت انہوں نے بیان کی ہے، میری رائے میں اس سے بہتر اور کوئی بیان نہیں کی جا سکتی ۔ اور میرے خیال میں فریقین میں سے کسی کو اس پر انکار بھی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے میں ان کے الفاظ میں ہی اس حقیقت کو بیان کرتا ہوں وہ لکھتے ہیں کہ آج کل کے معقولیت پسندوں کی جماعت کے نزدیک رسول کا تصور یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی لیڈر اور ایک مصلح قوم ہوتا ہے جو اپنی قوم کی نکبت اور زبوں حالی سے متاثر ہو کر انہیں فلاح و بہبود کی طرف بلاتا ہےا ور تھوڑے ہی دنوں میں ان کے اندر اضباط و ایثار کی روح پھونک کر زمین کے بہترین خطوں کا ان کو مالک بنا دیتا ہے۔ اس کی حقیقت قوم کے ایک امیر کے قسم کی ہوتی ہے جن کے ہر حکم کا اتباع اس لیے لازمی ہوتا ہے کہ اس سے انحراف سے قوم کی اجتماعی قوم میں انتشار پیدا ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور وہ دنیاوی نعمتیں جو اس کے حسن تدبیر سے حاصل ہوئی تھیں۔ ان کے چھن جانے کا احتمال ہوتا ہے۔ اس کا حسن تدبر عقل حکمت، ذہن انسان کے ارتقا کی بہترین کڑی ہوتا ہے اس لیے وہ اپنے ماحول کا بہترین مفکر شمار کیا جاتا ہے کثرت ریاضت سے برائی کی قوتیں اس سے سلب ہو جاتی ہیں۔ اور نیکی کی قوتیں نمایاں طور پر ابھر آتی ہیں انہیں قوتوں کا نام ان کے نزدیک ابلیس اور ملائکہ ہے۔ اس کا جواب پھر انہوں نے بحوالہ آیات قرآنی یہ دیا کہ رسول بلاشبہ مصلح اور مدبر ملت ہوتا ہے۔ لیکن اس کی حقیقت دنیاوی مصلحین اور مدبرین سے بالکل جداگانہ ہوتی ہے۔ دنیاوی مفکرین و مدبرین اپنے ماحول کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اور ان کا فلسفہ اصلاح و بہبود ان کی اپنی پرواز فکر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جو کبھی صحیح اور کبھی غلط ہوتا ہے۔ برعکس اس کے انبیا کرام مامور من اللہ ہوتے ہیں اور ان کا سلسلہ اس دنیا میں خاص مشیت باری تعالیٰ کے ماتحت چلتا ہے۔ وہ نہ اپنے ماحول سے متاثر اور نہ احوال و ظروف کی پیداوار ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کا انتخاب مملکت ایزدی سے ہوتا ہے اور ان کا سرچشمہ علوم و ہدایت علم باری تعالیٰ سے ہوتا ہے جس سے میں کسی سہو خطا کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ان کا سینہ علم لدنی سے معمور اور ان کا قلب تجلیات نورانی سے منور ہوتا ہے۔ دنیاوی سیاست و تفکر صفت ہے جو اکتساباً حاصل ہوتی ہے اور مشق و مہارت سے یہ ملکہ بڑھتا ہے۔ لیکن نبوت ایک موہبت ربانی اور عطائے یزدانی ہے جس میں کسب و مشق کو کچھ دخل نہیں۔ قوم امت کی ترقی ان کے بھی پیش نظر ہوتی ہے۔ لیکن سب سے مقدم اخلاق انسانی کی اصلاح مقصود ہوتی ہے۔ اس کا پیغام زمان و مکان کی قیود سے بالا ہوتا ہے اور وہ تمام انسانوں کو راستہ دکھلانے والا اور ان کا مطاع ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت میں خدا کی اطاعت اور اس کی معصیت، خدا کی معصیت ہوتی ہے۔ اور جو لائحہ حیات اس کی وساطت سے دنیا کو ملتا ہے اس میں کوئی دنیاوی طاقت ردوبدل نہیں کر سکتی، بلکہ دنیا بھر کی عقول میں جہاں کہیں اختلاف ہو اس کا فیصلہ بھی اسی کی مشعل ہدایت سے ہو سکتا ہے۔ ان کو خدائی پیغام ملائکہ کی وساطت سے ملتے ہیں جو اگرچہ عالم امر سے متعلق ہونے کی وجہ سے سرحد ادراک انسانی سے بالاتر ہیں لیکن ان کا وجود محض انسان کی ملکوتی قوتیں نہیں ہیں۔’’

پرویزؒ صاحب کا یہ اقتباس دینے کے بعد فاضل جج نے لکھا ہے:

‘‘اس حقیقت کو ذہن نشین رکھنے کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ سکتی ہے کہ رسول ﷺ کے بعد کسی دوسرے نبی کو تسلیم کرنے سے کیا قباحت لازم آئے گی۔ تصریحات قرآنی کی رو سے نیا نبی مطاع ہو جائے گا۔ اس سے اختلاف نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کی ہر بات کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ وہ جو حکم دے گا اس کی تعمیل لازمی ہی ورنہ اعمال کے خبط ہونے کا اندیشہ ہو گا۔ اس کی شان میں ذرا بھر گستاخی نہیں کی جا سکے گی۔ بلکہ اس کے سامنے اونچا بولنا بھی گناہ ہو گا۔ اس کی اطاعت، عین خدا کی اطاعت ہو گی۔ اور اس سے روگردانی ایمان سے خارج ہونے کا باعث اور موجب عذاب الٰہی ہو گی’’

اس کے بعد فاضل جج لکھتے ہیں

‘‘قرآن کریم میں حیات انسانی کی پوری انتہا واضح نہیں فرمائی گئی اور جیسا کہ چوہدری غلام احمد پرویز صاحبؒ مضمون محولہ بالا میں لکھتے ہیں، جنت بھی جو بالعموم منزل مقصود سمجھی جاتی ہے درحقیت اصل منزل مقصود نہیں بلکہ راستہ کا ایک خوشنما منظر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں جنتیوں کی اس دعا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یقولون ربنا اتمم لنا نورنا ۔ اس منتہیٰ کو ایک راز رکھا گیا ہے۔ نہ معلوم کہ حضورﷺ کے فیض سے امت کو کیا کچھ عطا فرمایا جائے’’

کہیے ایک ایسا شخص جس کے ایک مضمون کو پڑھ کر، جو براہ راست موضوع زیربحث سے متعلق بھی نہ تھا، ایک جج 9 سال پرانے مسئلے کو جو کسی طرح حل ہونے میں نہ آتا تھا، یوں سمجھ جاتا ہے کہ اس کی بنیاد پر یہ فیصلہ صادر کرتا ہے کہ حضورﷺ کے بعد کسی اور شخص کو نبی ماننے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، آپ کسی طرح بھی اس منکر شان رسالت کہہ سکتے ہیں؟ کیا ایسا شخص فی الواقعہ مقام نبوت کو ابھار اور نکھار کر دنیا کے سامنے پیش نہیں کر رہا؟

ناطقہ سرگریبان کہ اسے کا کہیے؟

ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد پرویزؒ صاحب کے دفاع میں کچھ اور لکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ عام طور پر ان کے خلاف مندرجہ ذیل اعتراضات اٹھاتے جاتے ہین اور اس پمفلٹ میں بھی ان کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ان تحریروں کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا جات اہے، جن سے غلط فہمی ہی نہیں بلکہ گمراہی پیداکرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس لیے ہم ان کا ذرا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔ یہ اعتراضات بالعموم اس قسم کے ہوتے ہیں۔

نبی اکرمﷺ کی اطاعت سے انکار کرتے ہیں۔

حدیث کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

نماز سے انکار کرتے ہیں۔

زکوۃٰ سے انکار کرتے ہیں۔

حج سے انکار کرتے ہیں۔

قربانی سے انکار کرتے ہیں

کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو بلا سمجھے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں

صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین کی راہ پر چلنے کو اندھی تقلید کہتے ہیں اور اپنی تقلید کی دعوت دیتے ہیں۔

جنت اور دوزخ سے انکار کرتے ہیں۔

اب ہم پرویزؒ صاحب کی تحریرات کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ جن سے ان کی ایک ایک بات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوتی ہے۔

پہلا اعتراض۔ پرویزؒ صاحب نبی اکرمﷺ کی اطاعت سے انکار کرتے ہیں

جو کچھ پرویز ؒ صاحب نے کہا ہے، وہ اس کے سوا کچھ نہیں جو قراان نازل کرنے والے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّـهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّـهِ وَلَـٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ   (79:3)

‘‘کسی شخص کو بھی اس کا حق نہیں کہ اللہ اسے (انسانوں کی ہدایت کے لیے) کتاب، حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور پھر وہ لوگوں سے کہنے لگ جائے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے بن جائو ( یعنی ڈا کے احکام کی بجائے میرے حکموں کی اطاعت کرو) وہ یہی کہے گا کہ تمہیں چاہیے کہ تم ربانی انسان (یعنی اللہ کے احکام کی اطاعت کرنے والے) بن جائو، اس لیے کہ تم کتاب اللہ کی تعلیم دیتے رہتے ہو اور اس کا مفہوم و مقصود سمجھنے سمجھانے میں کوشاں رہتے ہو’’

غور فرمایا آپ نے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اور تو اور نبی کو بھی اس کا حق نہیں کہ وہ لوگوں سے اللہ کے احکام کی بجائے اپنے حکموں کی اطاعت کروائے۔ وہ یہی کہے گا کہ

وَإِنَّ اللَّـهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ  ۚ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ (36/19)

‘‘اور بلا شبہ اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ پس اسی کی عبدیت (محکمومیت) اختیار کرو۔ یہی سچائی کا سیدھا راستہ ہے’’

رسولﷺ اسی ارشاد ربانی کے تحت یہ اعلان کرتا ہے کہ

قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ  ۖ   إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (9/46)

‘‘میں تو صرف اس کا اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے۔ اور میری حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ میں تمہیں (غلط روش زندگی کے نتائج سے) صاف صاف آگاہ کرنے والا ہوں’’

ان آیات جلیلہ سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ رسول اپنے خیالات و جذبات و احکامات کی اطاعت نہیں کراتا بلکہ صرف اور صرف ان احکامات کی اطاعت کراتا ہے جو اس پر اللہ کی طرف سے وحی کیے جاتے ہیں۔ یعنی اطاعت صرف اللہ کے احکامات کی ہے۔ لیکن اللہ کے احکامات کی اطاعت بہرحال رسول ہی کی وساطت سے ہو سکتی ہے کیونکہ وہی انسانوں کو بتاتا ہے کہ اللہ کے وہ احکامات بہرحال رسول ہی کی وساطت سے ہو سکتی ہے کیونکہ وہی انسانوں کو بتاتا ہے کہ اللہ کے وہ احکامات کیا ہیں جو اس پر وحی کئے جاتے ہیں۔ (تھے) ہم ان احکامات کو رسول کے وسیلہ کے بغیر جان ہی نہیں سکتے تو پھر رسول کے بغیر ان کی اطاعت کیسے کر سکتے ہیں۔ (اب یہ اطاعت قرآن کریم کی رو سے ہو گی) لہذا، رسول کی اطاعت درحقیقت، اللہ کی اطاعت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے، اپنی اور رسول کی اطاعت کے لیے صیغہ بھی واحد ہی استعمال کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ   (20/8)

‘‘اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو جب کہ تم سن رہے ہو (جو کچھ وہ کہتا ہے)۔’’

یہاں اللہ اور رسول کی اطاعت سے روگردانی کے لیے واحد ہی ضمیر عنہ، استعمال کی گئی ہے جس سے واضح ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت دو الگ الگ چیزیں نہیں، ایک ہی چیز ہے۔

اس سے تین آیات بعد کہا گیا ہے کہ

اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (24/8)

‘‘اللہ اور رسول کی دعوت پر لبیک کہو (اس کا جواب دو) جب وہ (رسول) تمہیں اس کی طرف پکارے جو تمہیں زندگی بخشنے والا ہے’’

یہاں بھی اللہ اور رسول کی دعوت (پکارنے) کے لیے واحد کی ضمیر ‘‘دعا’’ استعمال کی گئی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اللہ اور رسول کی دعوت الگ الگ نہیں، ایک ہی دعوت ہے۔

‘‘اللہ اور رسول کی اطاعت’’ کی ترکیب کو سمجھ لینا نہایت اہم ہے۔ اس کے صحیح مفہوم کے سامنے نہ ہونے سے اس قسم کا ابہام پیدا ہوتا ہے جس کا شکار اسلامی ثقافتی مرکز کوپن ہیگن کے مولوی صاحبان ہیں۔ ملاحظہ فرمائے۔ پرویزؒ صاحب اس بارے میں کیا لکھتے ہیں۔

اللہ اور رسول کی اطاعت

چونکہ نظام دین میں، اللہ کے احکامات حکومت خداوندی کی طرف نافذ ہوتے تھے اور یہ کہ اس حکومت کے احکام کی مرکزی قوت نافذہ رسول کی محسوس شخصیت تھی اس لیے ان مرکزی احکام کی اطاعت کو اللہ اور رسول کی اطاعت قرار دیا گیا، یعنی اس نظام خداوندی کی اطاعت جو رسول کے ہاتھوں میں متشکل ہوا ہے اور جس کی مرکزی اتھارٹی سب سے پہلے خود رسول ہے۔ اسلامی نظام میں یہ بڑا اہم نکتہ ہے جسے اچھی طرح سے سمجھ لینا نہایت ضروری ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت سے دو الگ الگ مطاعوں کی اطاعت متصور نہیں، اس لیے کہ جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں، یہ تصور قرآن کی بنیادی تعلیم کے منافی ہے اطاعت اللہ کے سوا کسی اور کی بھی ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ خود رسول کے متعلق واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بتلا دیا گیا کہ اسے بھی قطعاً یہ حق حاصل نہیں لوگوں سے اپنی اطاعت کروائے۔ لہذا للہ اور رسول سے مراد وہ مرکز نظام ( Central Authority ) ہے جہاں سے قرآنی احکام نافذ ہوں گے۔ حقیقت کہ اللہ اور رسول سے مرکز ملت مراد ہے، قران کریم میں ایسے واضح الفاظ میں اور اس شرح و بسط سے بیان ہوئی ہے کہ ان مقامات کو بغور دیکھ لینے کے بعد اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ جنگ احد میں مسلمانوں کی فوج میں خلفشار پیدا ہو گیا اور حضور تنہا رہ گئے تو آپ نے ان بکھرے ہوئے پروانوں کو آوز دی۔ اس آواز پر وہ سب پھر اس شمع کے گرد جمع ہو گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ آواز نبی اکرم نے دی تھی۔ لیکن چونکہ یہ بلاوا حضورﷺ کا ذاتی بلاوا نہ تھا بلکہ آپﷺ نے بہ حیثیت مرکز ملت یہ آواز دی تھی، اس لیے اس آواز کو خدا اور رسول کی آواز قرار دیا گیا۔

يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ (171/3)

‘‘جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی پکار کا جواب دیا (اور جنگ کے لیے تیار ہو گئے) باوجودیکہ (اس سے ذرا ہی پہلے وہ) زخم کھا چکے تے، سو یاد رکھو، ان میں جو لوگ نیک کردار اور متقی ہیں، یقیناً ان کے لیے (اللہ کے حضور) بہت بڑا اجر ہے’’

یہودیوں نے مدینہ میں اس عہد کو توڑا تھا جو انہوں نے نبی اکرمﷺ سے استوار کیا تھا۔ اس عہد شکنی کو ‘‘خدا اور رسول’’ کی مخالفت کہہ کر پکارا گیا ہے، اس لیے کہ یہ مخالفت نظام اسلام کی مخالفت تھی۔

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ  ۚ   وَمَن يُشَاقِقِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (13/8)

‘‘یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے‘‘اللہ اور اس کے رسول’’ کی مخالفت کی ہے اور جو کوئی اللہ (کے حکم) کی مخالفت کرتا ہے، تو (یاد رکھو) اللہ کا قانون (پاداشِ عمل میں) سخت سزا دینے والا ہے۔’’

نظام اسلامی کے خلاف بغاوت کر کے فتنہ فساد برپا کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ خدا اور رسول کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہیں۔

إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ  ۚ   ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا  ۖ   وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (33/5)

بلاشبہ ان لوگوں کی جو ‘‘اللہ اور اس کے رسول’’ کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور ملک میں خرابی پھیلانے کے لیے دوڑے پھرتے ہیں، یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں، یا سولی پر چڑھا دیئے جائیں، یا ان کے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے۔ (یعنی اس جیسی کچھ سزا ان کے لیے ضروری ہو انہیں دی جائے) یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے عذات ہے۔

جب نظام حکومت کے قیام کے بعد سب سے پہلا اجتماع عظیم (حج اکبر) ہوا تو اس میں اس حکومت کی طرف سے کچھ عام اعلانات کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا کہ اس حکومت کی پالیسی اور امور خارجہ میں مسلک کیا ہو گا۔ اس ضمن میں جو سب سے پہلا اعلان کیا گیا، اس کے الفاظ یہ تھے

بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ (1/9)

‘‘(اے پیرون دعوت ایمانی!) جن مشرکوں کے ساتھ تم نے (صلح و امن کا) کا معاہدہ کیا تھا، اب ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بری الذمہ ہونے کا اعلان ہے!’’

پھر تیسری آیت میں ہے

وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّـهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ  ۙ   وَرَسُولُهُ  ۚ   فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ  ۖ   وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّـهِ  ۗ   وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (3/9)

‘‘اور اللہ اور اس کے رسول’’ کی طرف سے حج کے بڑے دن کی عام منادی کی جاتی ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی (یعنی ان میں اور نظام حکومت خداوندی میں اب کوئی معاہدہ باقی نہیں رہا) پس اگر تم (اب بھی ظلم و شرارت سے) باز آ جائو تو تم نظام حکومت خداوندی کو عاجز نہیں کر سکتے۔ اور (اے پیغمبر اسلام!) جو لوگ کفر کی راہ پر چل رہے ہیں، انہیں عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دو’’

پھر ساتویں آیت میں

كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ اللَّـهِ وَعِندَ رَسُولِهِ إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ  ۖ   فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ  ۚ   إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (7/9)

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ (ان) مشرکوں کا عہد، اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عہد ہوَ جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے قریب (حدیبیہ میں) عہد و پیمان باندھا تھا(اور انہوں نے اسے نہیں توڑا، تو ان کا عہد ضرور عہد ہے اور) جب تک وہ تمہارے ساتھ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تم بھی ان کے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہو۔ اللہ انہیں دوست رکھا ہے جو (اپنے تمام کاموں میں) متقی ہوتے ہیں۔

‘‘اللہ اور رسول’’ سے مراد مرکز نظام اسلامی ہے۔

غور کیجئے یہ تمام معاہدات اسلامی حکومت کے ساتھ تھے اور اسی حکومت کے نمائندہ کی طرف سے اعلانات ہو رہے تھے، لیکن انہیں اللہ اور رسول کے منشورات کہا گیا ہے۔ اس بتیان حقیقت سے مقصود یہ ہے کہ لوگوں کی توجہات کو اس نقطہ ماسکہ کی طرف مرکوز کیا جائے کہ اگرچہ یہ تمام احکام رسول کی طرف سے صادر ہو رہے ہیں، لیکن درحقیقت ، یہ اللہ کے احکام ہیں، اس لیے کہ یہ نظام حکومت خداوندی کے مرکز کی طرف سے نافذ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دین کے غلبہ و تمکن اور حزب و اللہ کی کامیابی و ظفرمندی کے متعلق متعدد مقامات پر وعدے کیے ہیں۔ اس غلبہ و کامیابی کے متعلق فرمایا کہ یہ اللہ اور رسول کی کامیابی ہے۔

كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي  ۚ   إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (21/58)

‘‘اللہ نے لکھ دی اہے کہ میں اور میرا رسول ہی غالب رہیں گے۔ بلا شبہ اللہ قوت و غلبہ والا ہے’’

ظاہر ہے کہ یہ غلبہ اور تسلط اسلامی حکومت ہی کا تمکن و تسلط تھا، ورنہ اللہ تو ہر جگہ غالب ہے۔ لہذا للہ اور رسول اور غلبہ سے مراد نظام اسلامی کے غلبہ ہی سے ہے۔ جب مسلمانوں کی مملکت قائم ہو گئی (جسے حکومت خداوندی یا اسلامی نظام کہا جاتا ہے) تو ظاہر ہے کہ اس حکومت کی جو آمدنی ہوتی تھی وہ مملکت کی آمدنی تھی۔ اسے بھی قرآن کریم نے ‘‘خدا اور رسول’’ کی دولت کہہ کر پکارا ہے (1/8)۔ مال غنیمت کی تقسیم کے سلسلہ میں کہا کہ اس کا خمس (پانچواں حصہ) اللہ اور رسول کے لیے الگ کر لو (41/8) ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہی ہے کہ یہ پانچواں حصہ امور مملکت کی سرانجام دہی کے لیے صرف کیا جائے گا۔

  آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ

اب سورۃ نسا کی اس آیت کی طرف آئیے جس میں یہ نظام وضاحت سے بیان ہوا ہے (اور جس کے غلط مفہوم نے بدقسمتی سے ملت کو بہت سے مغالطوں میں الجھا رکھا ہے) ارشاد ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ  ۖ   فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ  ۚ   ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59/4)

اس کا لفظی ترجمہ ہے

‘‘اے پیروان دعوت ایمانی! اللہ کی اطاعت کرو، اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جو تم میں صاحب حکم و اختیار ہوں۔ پھر اگر ایسا ہو کہ کسی معاملہ میں باہم جھگڑ پڑو (یعنی اختلاف و نزاع پیدا ہو جائے) تو چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو (اور جو کچھ وہاں سے فیصلہ ملے، اسے تسلیم کر لو) اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان (یقین) رکھتے ہو (تو تمہارے لیے راہ عمل یہی ہے) اسی میں تمہارے لیے بہتری ہے اور اسی میں انجام کار کی خوبی ہے (کیونکہ اختلافات اور نزاع کے ابھرنے کا موقع نہیں رہتا اور فتنوں فسادوں کا دروازہ بند ہو جاتا ہے)،،

اس آیت کا صحیح مفہوم کیا ہے، اسے چند سطریں آگے چل کر بیان کیا جائے گا۔ لیکن جو مفہوم ہمارے ہاں عام طور پر لیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ

(1)   اللہ کی اطاعت سے مراد ہے قرآن کی اطاعت

(2)   رسول کی اطاعت سے مراد ہے، احادیث کی اطاعت،اور

(3)   اولی الامر کی اطاعت سے مراد ہے، حکومت کی اطاعت۔

اور اس کے بعد مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ اگر تمہیں کسی معاملہ میں حکومت سے اختلافات ہو تو اسے دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کی رو سے حکومت کے ساتھ مناظرہ کیا جائے اور جو ہار جائے، فیصلہ اس کے خلاف ہو جائے۔

اس مفہوم کی رو سے غور کیجئے کہ (علاوہ دیگر امور) دنیا میں کوئی نظام حکومت اس طرح سے قائم بھی رہ سکتا ہے جس میں حکومت کی حالت یہ ہو کہ حکومت ایک قانون نافذ کرے اور جس کا جی چاہے، اس کی مخالفت میں کھڑا ہو جائے اور قراان و حدیث کی کتابیں بگل میں داب کر مناظرہ کا چیلنج دیدے!

اس آیت مقدسہ کا کا م مفہوم بالکل واضح ہے۔ اس میں اللہ اور رسول سے مراد مرکز ملت یعنی نظام خداوندی کی ( Central Authority ) اور اولی الامر سے مفہوم ہیں افسران ماتحت۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مقامی افسر سے کسی معاملہ میں اختلاف ہو جائے، تو بجائے اس کے کہ وہیں مناقشات شروع کر دو، امر متنازعہ فیہ کو مرکزی حکومت کے سامنے پیش کر دو (اسے مرکزی حکومت کی طرف Refer کر دو) مرکز کا فیصلہ سب کے لیے واجب التسلیم ہو گا، یعنی اس نظام میں مقامی افسروں کے فیصلوں کے خلاف مرکزی عدالت عالیہ میں مرفعہ (اپیل) کی گنجائش باقی رکھی گئی ہے۔ یہ کہ اولی الامر سے مراد مقامی حکام ہیں، اسی سورۃ کی ایک دوسری آیت سے واضح ہے جس میں کہا گیا ہے کہ

وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ  ۖ   وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ  ۗ   وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا (83/4)

‘‘اور جب ان لوگوں کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچ جاتی ہے۔ تو یہ (فوراً) اسے لوگوں میں پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ اسے (لوگوں میں پھیلانے کی جگہ) اللہ کے رسول کے سامنے اور ان لوگوں کے سامنے جو ان میں صاحب حکم و اختیار ہیں، پیش کرتے، تو جو بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں، وہ اس کی حقیقت معلوم کر لیتے (اور عوام میں تشویش نہ پھیلتی)۔’’

یعنی اگر اس قسم کا واقعہ مدینہ میں ظہور پذیر ہو، تو اس کی اطلاع رسول اللہ کو دی جائے اور اگر کہیں باہر ہو تو مقامی حکام کو اس سے مطلع کیا جائے اس سلسلے میں قرآن کریم سے متعدد آیات پیش کی جا سکتی ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ مقصد پیش نظر کے لیے اتنی آیات ہی کافی ہیں۔

ان تصریحات سے واضح ہے کہ نظام قرآنی میں اطاعت، مرکز ملت کی ہے اور چونکہ یہ مرکز قوانین خداوندی کی تنفیذ کرتا ہے۔ اور سب سے پہلا مرکز رسول اکرمﷺ کی ذات گرامی تھی۔ اس لیے قرآن کریم میں مرکز ملت کو ‘‘اللہ اور رسول’’ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یاد رکھئے! ‘‘مرکز ملت سے مراد مسلمانوں کی ہر حکومت کا سربراہ نہیں۔ اس سے مراد اس حکومت کا سربراہ، مرکزی اتھارٹی ہے، جو قوانین خداوندی کو نافذ کرنے کے لیے قائم ہو۔ اس حکومت کو سب سے پہلے، خود نبی اکرمﷺ نے قائم فرمایا تھا اور وہی اس کے لیے اولین سربراہ تھے۔

اس ضمن میں قرآن کریم کی متعدد آیات یہ ثابت کرتی ہیں کہ اللہ اور رسول سے مراد ‘‘مرکز نظام اسلامی’’ ہے۔ اس نکتہ کو نہ سمجھنے والے اور ‘‘اسلامی ثقافتی مرکز’’ کو نوع کے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے کہا ہے۔ کہ یہ وہ لوگ ہیں:

یریدون ان یفرقوا بین اللہ ورستلہ

‘‘یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے درمیان فرق پیدا کر دیں (انہیں الگ الگ کر دیں)

ان کے لیے اللہ نے اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے’’ (150/4)

ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو، یہ حق نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنی اطاعت کرائے، تو اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب وہی ہے جسے قرٓان کریم نے ان چار لفظوں میں سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ کہ

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ     إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ   (4-3/53)

‘‘یہ رسول اپنے خیالات و جذبات کی بات نہیں کرتا۔ یہ جو کچھ کہتا ہے وہ اس پر وحی کیا جاتا ہے۔’’

لہذا اطاعت صرف وحی خداوندی کی ہے کسی اور چیز کی نہیں۔ رسول اکرمﷺ نے (جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے) خود فرمایا ہے کہ

  إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ (9/4)

اور اس ارشاد خداوندی کے بعد تو کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ رسول کی اطاعت کے معنی کیا ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

  يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ  ۖ   وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ  ۚ   وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ  ۗ   إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (67/5)

اے رسول! جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے، اسے دوسرے انسانوں تک پہنچا دو۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا’’

چلتے چلتے یہ کانٹا بھی نکال دیجیئے کہ حضور نبی اکرم ﷺ پر اللہ کی طرف سے نازل کیا ہوتا تھا۔ ارشاد خداوندی ہے۔

الرَّحْمَـٰنُ     عَلَّمَ الْقُرْآنَ   (2-1/55)

الرحمن (اللہ) نے قرآن کی تعلیم دی’’ اور حضور نبی اکرمﷺ کی لسان مبارک سے یہ اقرار کہ

قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً  ۖ   قُلِ اللَّـهُ  ۖ   شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ  ۚ   وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ (19/6)

‘‘(اے رسول!) ان سے کہہ دیجئے کہ سب سے بڑی گواہی (شہادت) کسی کی ہو سکتی ہے۔ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ شاہد ہے کہ مجھ پر یہ قرآن وحی کیا جاتا ہے تاکہ میں تمہیں بھی (غلط روش زندگی کے نتائج سے) آگاہ کروں اور ان کو بھی، جن تک (بعد میں) یہ پہنچتے۔’’

شق نمبر2۔

پرویز ؒ صاحب پر یہ الزام بھی قطعاً بے بنیاد ہے کہ وہ حدیث کو نہیں مانتے۔ ان کی سیرت نبی اکرمﷺ پر مایہ ناز تصنیف ‘‘معراج انسانیت’’ میں متعدد احادیث نقل کی گئیں ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ احادیث سے انکار نہیں کرتے۔ پرویزؒ صاحب جو کچھ کہتے ہیں وہ دراصل ‘‘مقام حدیث’’ سے متعلق ہے، یعنی دین میں سند اور حجت ہونے کے لحاظ سے حدیث کا مقام کیا ہے؟ وہ لکھتے ہیں کہ

‘‘میرا انکار حدیث’’ اتنا ہی ہے جو میں کہتا ہوں کہ جو حدیث قرٓن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے، رسول اللہ یا بزرگان دین کی طرف اس کی نسبت غلط ہے۔ وہ کوئی ایسی بات کہہ نہیں سکتے تھے جو قرآن کے خلاف ہو ۔۔۔۔۔ جو احادیث قرآن کے خلاف نہیں، میں انہیں تسلیم کرتا ہوں،،

(شاہکار رسالت1994 صفحہ 497)

‘‘میرے نزدیک دین میں سند اور حجت، خدا کی کتاب (قرآن مجید) ہے۔ جو کچھ اسلام کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، میں اسے قرآنی میعار پر پرکھتا ہوں۔ جسے اپنی بصیرت کے مطابق قرآن کے مطابق پاتا ہوں، اسے صحیح قرار دیتا ہوں۔ جو اس کے خلاف نظر آئے، اس غلط سمجھتا ہوں۔ مجھے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ لیکن اگر کوئی اس بات سے ناراض ہوتا ہے کہ اس کے کسی عقیدہ یا نظریہ کو، جسے میں قرٓن کے خلاف پاتا ہوں، غلط کیوں ٹھہرایا جاتا ہے، تو اس کے لیے میں معذور ہوں۔ قرآن کی رو سے کتمان حقیقت جرم عظیم ہے اور منافقت انتہائی د نائت’’ (شاہکار رسالت باب گذر گاہ خیال صفحہ 55)

پروفیسر حسنین کاظمی، ایم اے، استاد تاریخ اسلام،کا نیشنل کالج کراچی نے اپنا کتابچہ ‘‘غلام احمد پرویز، بنیادی افکار و تصورات کا تعارف’’ میں جسے ادارہ نشان راہ، 240 گارڈن ایسٹ کراچی نے مئی 1960 میں شائع کیا تھا لکھتے ہیں۔

پرویزؒ صاحب کو عام طور پر منکر حدیث کہا جاتا ہے۔ انہیں منکر حدیث کہنے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ حدیث قرآن کی آیت کو بھی منسوخ کر سکتی ہے۔ اور احادیث بھی وحی ہیں۔ وحی متلو اور غیر متلو کا فرق انہیں حضرات نے کیا ہے اور وہ بھی شامل ہیں جو احادیث کو وحی نہیں بلکہ نبی اکرمﷺکا کلام اور قرآن کریم کی تشریح سمجھتے ہیں۔ حدیث کو حجت اور پرویز کاومنکر حدیث قرار دینے والے یہ علما آپس میں احدیث کے مرتبہ اور سنت کی تعریف پر بھی متفق نہیں ہیں، بلکہ ایک دو سرے کو منکر حدیث قرار دینے میں مضائقہ نہیں سمجھتے، مثلاًمولانا محمد اسماعیل صاحب، مولانا مودودی کو منکرین حدیث میں شمار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ ان میں سے کچھ کے نزدیک بعض باتیں رسول اکرم ﷺ نے نبی کی حیثیت سے کیں اور کہیں اور بعض کو اس پر اصرار ہے کہ ہر بات اور ہر عمل آپ ﷺ نے نبی کی حیثیت سے کیا۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ حدیث کو حجت دین قرار دینے کے باوجود احادیث کی صحت و عدم صحت کے بارے میں بھی یہ علما متفق نہیں۔ مولانا اسماعیل صاحب کا عقیدہ ہے کہ ‘‘بخاری اور مسلم کی احادیث کی صحت پر امت متفق ہے ۔۔۔۔۔ ان احادیث کی صحت قطعی ہے۔’’ اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس باب میں یہ فرماتے ہیں کہ ‘‘یہ دعویٰ کرنا صحیح نہیں کہ بخاری میں جتنی احادیث درج ہیں، ان کے مضامین کو بھی جوں کا توں بلا تنقید قبول کر لینا چاہیے۔

حدیث کی صحت و عدم صحت کے با میں حضرت شاہ عبدلعزیز محدث دہلوی کے بتائے ہوئے کچھ اصول پہلے بابت میں درج کیئے گئے ہیں، وہ اصول بہرحال واضح ہیں، لیکن مودودی صاحب کا معیار ‘‘شاعرانہ’’ اور ‘‘صوفیانہ’’ ہے، یعنی احادیث کو بکثرت مطالعہ کرنے سے ‘‘انسان میں ایک ایسا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ جس سے وہ رسول اللہ کا مزاج شناس ہو جاتاہے۔’’ اور یہ مزاج شناس، جوہری کی طرح حدیث کو پرکھ لیتا ہے۔ ذرا غور کیجئے کہ جس چیز کو دین میں حجت قرار دیا جاتا ہے، اس کی پرکھ کا یہ طریقہ ہے۔ پھر یہ کب ضروری ہے کہ دو مزاج شناس، ایک جیسے ہوں، اس کے علاوہ

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

ہوس چھپ چھپ کر سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

اپنےمفادات کے تحت یہ مزاج شناس بھی ان نامعقول چھوٹے اقوال کو ذات نبی اکرم ﷺ سے وابستہ کر سکتا ہے، جنہیں اس ذات اقدس ﷺ سے کوئی علاقہ نہیں ہو سکتا اور جو اسلام کے دشمنوں نے گھڑے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ حجت وہی چیز ہو سکتی ہے جو ہر شک و شبہ سے بالاتر ہو اور یہ حیثیت صرف قرآن کریم کو حاصل ہے، جسے نبی اکرم ﷺ مرتب کر کے امت کو دے گئے اور جس کی حفاظت کی ذمہ داری خدا نے لی ہے۔ جہاں ‘‘اگر’’ اور ‘‘صحت و عدم صحت’’ کا سوال آ جائے وہ چیز حجت کیسے ہو سکتی ہے؟ ۔۔۔۔۔ سچ پوچھیے تو اس باب میں یہی دلیل کافی ہے اور زیادہ موشگافیوں کی ضرورت نہیں۔

پرویزؒ صاحب کو منکر حدیث کہہ دینا آسان ہے۔ لیکن ان پر تہمت تراشنے والوں پر اس وقت کیا بیتی جب کبھی انہیں پوری طرح یہ اندازہ ہو سکے گا کہ اس باب میں پرویز کا مسلک وہی ہے جو صحابہ کرامؓ اسلام کے ممتاز علما و فقہا اور محدثین کا رہا ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حدیث سماع موتی کو رد فرمادیا کہ وہ قرآن کے مطابق نہیں۔ کیا خاکم بدہن کسی میں اتنی جرات ہے کہ حضرت ام المومنینؓ کو منکر حدیث کہہ سکے؟ ۔۔۔۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے صحابہ کو روایت احادیث سے منع فرمایا۔قرآن کے مرتبہ اور احادیث کی دیینہ حییثت کے بارے میں پرویزؒ صاحب کے بنیادی خیالات درج ذیل ہیں۔

دین میں حجت کا مرتبہ صرف قران کریم کو حاصل ہے۔ کیونکہ یہ لفظاً لفظاً وحی الٰہی ہے اور اس میں ایک نقطلہ کا ردوبدل نہ ہوا۔ نہ کبھی ہو سکے گا۔ (ایسے احادیث و روایات کے لحاظ سے قرآن میں کم از کم ایک آیت کم ہے۔ آیت رجم ۔۔۔۔۔۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر جلد سوم اردو ترجمہ مطبوعہ کراچی)

نبی اکرمﷺ نے اپنے اقوال کو ہمیشہ وحی الٰہی سے الگ رکھا اور ہمیشہ اس کی وضاحت کر دی۔ احادیث آپ کے اقوال تھیں، خدا کی وحی نہ تھیں۔

احادیث کے مجموعے تیسری صدی ہجری میں مرتب کیے گئے۔ (حال ہی میں ڈاکٹر حمید اللہ صاحب صحیفہ ہمام ابن منبہ شائع کیا ہے۔ یہ مجموعہ احادیث پہلی صدی ہجری کا ہے اور اس میں کل 128 احادیث ہیں۔ پہلی صدی ہجری کے مجموعہ میں کل 138 احادیث اور بعد کے مجموعوں میں ہزاروں احادیث ۔ ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے۔

درمیان میں کتنے ہی راوی آ گئے ۔۔۔۔ ان راویوں کی فہم و عقل ، علم حافظہ اور ذہانت میں بھی بدرجہا فریق تھا۔ اس لیے روایت معناً ہوتی تھی۔ لفظاً نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور معنوں میں لفظوں کی تبدیلی سے جو فرق پیدا ہو جاتاہے وہ ظاہر ہے۔

خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ احادیث کو اگر دین میں حجت سمجھتے تو حضرت عمرؓ دور رسالت ماب کے کئی فیصلہ تبدیل نہ کر دیتے۔

ہر وہ حدیث جو قرآن کے مطابق ہو، اسے پرویزؓ صاحب تسلیم کرتے ہیں۔کیونکہ وہ (قرآن کریم) کا مینارہ اور نشان راہ ہے۔ پرویز ؒ صاحب نے اپنی ایک تقریر میں اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ

‘‘جس طرح آنحضرت ﷺ کی زندگی کے 23 سال زمانے کے گلے میں پڑی ہوئی مالا کے سب سے قیمتی موتی ہیں، اسی طرح آپ کی احادیث کی چمک آج بھی ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے یہ وہ احادیث ہیں جو قرآن کے احکام کو ہم پر واضح کرتی ہیں۔ حجورﷺ کا مقصد خدا کی وحی کو انسانوں تک پہنچانا، اس کی وضاحت اور اسے ایک نظام میں ڈھالنا تھا۔ نبی اکرمﷺ سے بڑا امین تاریخ کی آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ نے اللہ کی امانت کو ہم تک پہنچایا۔ کسی تغیر و تبدل کے بغیر۔ حجۃ الوداع کا خطبہ اس کا شاہد ہے’’

‘‘معراج انسانیت’’ میں پرویز صاحب نے کتی ہی احادیث پیش کی ہیں اور حجۃ الوداع کے خطبہ کو اس انداز سے دہرایا گیا ہے کہ تیرہ سو برس سے بھی پہلے کا وہ منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتاہے۔ اس کے علاوہ طلوع اسلام کے سرورق پر بھی بارہا احادیث نبویﷺ پیش کی گئی ہیں۔ لیکن احادیث کا انتخاب پرویزؒ صاحب ‘‘مزاج شناسی’’ کے دعویٰ کی بنا پر نہیں کرتے بلکہ قرآن کی بنیادوں پر۔ یہ درست ہے کہ پرویزؒ صاحب ایسی احادیث کو نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ ان کی اعلانیہ مخالفت کو ایمان کا جزو سمجھتے ہیں جن سے نبی اکرم ﷺ کی توہین ہوتی ہو اور اسلام کے خدودخال مسخ ہوتے ہوں مثلاً

‘‘جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن الاکوع کا بیان ہے کہ ہم ایک لشکر میں تھے کہ حضورﷺ کا فرستادہ شخص ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ تمہیں اجازت دی گئی ہے کہ تم متعہ کرو۔ پس اب تم متعہ کر سکتے ہو۔’’

پرویزؒ صاحب احادیث کو دین میں حجت تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ اسلام ایک آفاقی نظام ہے۔ ہر ملک اور ہر زمانے کے لیے ۔۔۔۔۔ اسی لیے خدا نے محض اصول عطا کیے ہیں، جزیات متعین نہیں کیں اور یہ بھی واضح کر دیا کہ یہ سہو نہیں ہے۔ ۔۔۔۔ ان اصولوں کو آنحضرتﷺ نے جزیات کے ساتھ ایک عملی نظام کی شکل دی ۔۔۔۔۔ اس نظام کو خلفائے راشدینؓ نے آگے بڑھایا اور چونکہ اس قدر مختصر عرصے میں بھی بعض حالات بدل گئے تھے اس لیے خلفائے راشدینؓ نے جذیات میں تبدیلیاں کیں۔

پرویزؒ صاحب نے بار بار اس کو دہرایا ہے کہ اصول صرف قرآن سے لیے جائیں گے۔ اور جزیات کے سلسلے میں پہلے عہد رسالت ماب ﷺ کے فیصلوں کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔۔۔۔ اگر ہمیں اپنے مسئلہ کا حل ان میں مل جائے تو وہ قبول کر لیا جائے۔ اسی طرح خلفائے راشدین ؓ کے فیصلے سامنے رکھے جائیں۔ اور اگر ہمیں اپنے مسئلہ کا حل نہ ملے تو قرآن کریم کے اصولوں کے مطابق جزیئات کا تعین اسلامی مملکت ہی کرے گی’’

(مذکورہ پملٹ صفحہ 11تا14)

‘‘مقام حدیث’’ کے موضوع پر طلوع اسلام ٹرسٹ کی اسی نام سے شائع کردہ کتاب کا مطالعہ مزید مفید ہو گا۔

شق نمبر3

نماز سے انکار کا بہتان بھی پرویزؒ صاحب پر ایک بہتان ہے۔

پرویزؒ صاحب خود بھی باقاعدگی سے نماز ادا کرتے تھےا ور وابستگان طلوع اسلام کو بھی اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے تائید کرتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں۔

میں نماز کس طرح پڑھتا ہوں؟

اب آپ کے سوال کا دوسرا حصہ سامنے آتا ہے کہ میں نماز کس طرح پڑھتا ہوں۔ آپ کو اس سوال کے پوچھنے میں کسی معذرت طلبی کی ضرورت نہ تھی۔ اگر آپ میرے پاس ہوتے تو از خود دیکھ لیتے کہ میں نماز کس طرح پڑھتا ہوں۔ جس طرح جمہور مسلمان (فقہ حنفی کے مطابق) نماز پڑھتے ہیںَ اس فرق کے ساتھ کہ اگر کہیں فقہ حنفی کے علوہ دیگر طریقے پر بھی نماز ہو رہی ہو (اور مجھے وہ طریق آتا ہو) تو ان کے ساتھ شامل ہو جانے میں بھی توقف نہیں کرتا۔ (قرآنی فیصلے حصہ اول طبع 1992 صفحہ 1953)

لفظ نماز کے متعلق انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ حقیقت پر مبنی ہے، وہ رقم طراز ہیں۔

نماز، فارسی (بلکہ پہلوی) زبان کا لفظ ہے جو اہل ایران کے قدیم طریق پرستش کے لیے استعمال ہوتا تھا، بعد میں یہ لفظ اجتماعات صلوٰۃ کے لیے استعمال کر لیا گیا اور اب ہمارے ہاں یہی لفظ مروج ہے۔ (میں سمجھتا ہوں کہ جو اصلاحات قرآن کریم نے مقرر کی ہیں، انہیں اسی طرح استعمال کرنا زیادہ اچھا ہے) قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ ہے جو معنوی اعتبار سے بڑا جامع ہے۔ اس کے بنیادی معنی کسی کا اتباع یا اطاعت و محکومیت اختیار کرنا ہے۔ قرٓن کریم نے اس لفظ کو نماز کے اجتماعات کے لیے بھی استعمال کی اہے۔ لہذا جب ہم نماز کا لفظ بولیں گے تو اس کا مطلب، صرف نماز ہو گا۔ لیکن جب صلوٰۃ کا لفظ استعامل کریں گے تو اس میں نماز بھی آ جائے گی اور اس کے علاوہ اور مفہوم بھی۔ میں نے اکثر مقامات پر اس کی صراحت کر دی ہے۔ کہ صلوٰۃ کا لفظ نماز کے اجتماعات کے لیے بھی قرآن کریم میں آیا ہے۔ مثلاً لغات القرآن میں لفظ صلوٰۃ ( مادہ ص۔ ل۔ و) کے تحت آپ کو یہ عبارت ملے گی۔

‘‘صلوٰۃ کے جو مختلف مفاہیم اوپر بیان ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ ایک عبد مومن زندگی کے جس گوشے میں بھی قوانین خداوندی کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کرتا ہے، وہ فریضہ صولٰۃ ہی کو اد کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے لیے وقت مقام یا شکل کا تعین ضروری نہیں، لیکن قرٓان کریم میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں صلوٰۃ کا لفظ ایک خاص قسم کے عمل کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔’’

صلوٰۃ

اس کے بعد قرآن کریم کی وہ آیات دی گئی ہیں۔ جن میں صلوٰۃ کا لفظ نماز کے لیے آیا ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے۔

تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرٓن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ ان اجتماعات کے لیے بھی آیا ہے جنہیں عام طور پر نماز کے اجتماعات کہا جاتا ہے۔’’ (ایضاً صفحہ6)

اس موضوع پر پرویز ؒ صاحب کا اقتباس یوں ہے۔

‘‘اگر آپ میری تحریروں کا مسلسل اور بالاستیعاب مطالعہ کرتے چلے آ رہے ہیں تو ااپ یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ جہاں تک میں قرآن کو سمجھ سکا ہوں، قیام صلوٰۃ قرآن کی ایک نہایت جامع اور بلیغ اصطلاح ہے ، جس سے درحقیقت مقصود اس معاشرے کا قیام ہے، جس میں قانون خداوندی عملاً نافذ ہوں اور اس طرح ہر فرد معاشرہ کی مضمر صلاحتیوں کی پوری کی پوری نشونام ہوتی جائے۔ تاکہ وہ زندگی اور اس کے بعد کی زندگی کی سرفرازیوں سے بہریاب ہوتا ہوا اپنے ارتقائی منازل طے کرتا چلا جائے۔ لہذا نظام الصلوٰۃ ایک مرد مومن (یا جماعت مومنین) کی پوری پوری زندگی کو محیط ہو گا۔ ان کا ایک ایک سانس اس حقیقت کبریٰ پر شاہد ہو گا کہ وہ مصلی (یعنی خدا کے پیچھے پیچھے جانے والے کارواں کے افراد) ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک ایک گوشہ اور ایک ایک شعبہ عبادت (یعنی قانون خداوندی کی محکمومیت) کا مظہر ہو گا۔ ان کے کاروبار حیات کا فلم سامنے آ جائے تو وہ منشائے خداوندی کی جیتی جاگتی تصور دکھائی دے گا۔ اس اجتماعی نظام سے وابستگی کی بنا پر ان کی حیات ارضی، از ابتدا تا انتہا، اسلام کی جامع تفسیر ہو گی۔( ولا تموتن الا و انتم مسلمون )

اس نظام کے اجزا یہ ہیں۔

قرآن۔ یعنی ضابطہ آئن اسلام۔

مرکز۔ یعنی ضابطہ خدواندی کی قوت نافذہ۔ اور

جماعت۔ افراد معاشرہ جن سے یہ نظام متشکل ہوگا۔

اور اس کی عملی تشکیل کے اصول و معانی یہ ہیں۔

(الف) افراد معاشرہ میں کامل ائتلاف یعنی یک دلی و یک نگہی و یک قدی اور

(ب) مرکز کی اطاعت

ہمہ وقتی پروگرام

جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے، یہ نظام جماعت مومنین کی پوری کی پوری زندگی پر چھایا ہوتا ہے۔ اور دن اور رات میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہوتا جس میں وہ اس کے احاطے سے باہر ہوں۔ یہ ان کی ‘‘حیات انسانی’’ کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو ان کی ‘‘حیات طبعی’’کے لیے ہوا کی حیثت ہے۔ ہوا پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں جو اس کی ضرورت اور اہمیت کا معترف نہ ہو۔ لیکن بایں ہمہ ڈاکٹروں کو اکثر و بیشتر یہ فقرہ دہرانا پڑتا ہے کہ صحت اور زندگی کے لیے کھلی اور تازہ ہوا کی اشد ضرورت ہے۔ دہرانا اس لیے پڑتا ہے کہ اس کی یاد دہانی (ذکر) سے اس کی اہمیت ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ آئین خداوندی نے بھی اس کا انتظام کر رکھا ہے کہ اس نظام کی یاددہانی کروائی جائے تاکہ اس کے اصول مبانی اجاگر ہوتے جائین اور اس کی اہمیت نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ اس یاد دہانی کا نام صلوٰۃ کا فرقہ موقت ہے یعنی خاص اوقات کا اجتماع صلوٰۃ دین کے نظام (اسلامی معاشرہ) کا نبیادی اصول یہ ہے کہ فوزوفلاح کی زندگی انفرادی نہیں، اجتماعی ہے۔ اجتماعی صلوٰۃ کی ابتدا اسی اصول سے ہوتی ہے یعنی ایک آواز پر بکھرے ہوئے افراد کا ایک مقام پر جمع ہو جانا۔

دین کے نظام میں اگلا قدم اطاعت مرکز ہے، اجتماعی صلوٰۃ اس کا مظاہرہ عملی شکل میں سامنے آجاتقا ہے جب یہ اجتماع اپنے میں سے سب سے بہتر فرد کو بحثیت امام چن لیتا ہے۔ (اور بہتر ہونے کا معیار یہ ہوتا ہے کہ کس کی زندگی سب سے زیادہ قانون خداوندی سے ہم آہنگ ہے) یہی امام اس اجتماع کا نمائندہ ہوتا ہے اس ایک کی آواز پر سب کو اٹھنا ہوتا ہے اور اسی کی آواز پر جھکنا۔ اور یہ جھکنا اور اٹھنا ایک ساتھ ہوتا ہے جو شہادت دیتا ہے اس حقیقت کبریٰ کی کہ اس جماعت کے افراد میں کامل ہم آہنگی فکر و عمل ہے اس سے معاشرے کی ناہمواریاں مٹتی ہیں۔

امام

‘‘امام’’ اس تاگے کو کہتے ہیں جس سے معمار یہ دیکھا کرتا ہے کہ دیوار بالکل سیدھی اٹھ رہی ہے۔ اس کی اینٹیں آگے پیچھے تو نہیں ہیں)

دین کے نظام کا اگلا اصول یہ ہے کہ نظام عالمگیر حیثیت رکھتا ہے اور اس کا مرکز محسوس بیت اللہ ہے۔ لہذااجتماع صلوٰہ میں اس حقیت کی یاد دہانی کے لیے جماعت کا رخ قبلہ کی طرف رکھا جاتا ہے یعنی ساری دنیا کے مسلمانوں کا مطمع نگاہ اور نصب العین ایک ہی ہو گا۔’’

(ایضاً صفحہ 15-14)

نماز ، روزہ، حج اور زکوٰۃ سے متعلق بھی غلط بیانی سے کام لیا جاتاہے، پوری بات یوں ہے۔

ملی شعار

لیکن اس کے ساتھ ہی طلوع اسلام ایک اور بات بھی کہتا ہے۔ جو کچھ ہمارے ہاں مذہب کے نام پر ہو رہا ہے اس نے اپنی اپنی حیثیت تو کھو دی ہے لیکن وہ ہمارا ملی شعار سا بن چکا ہے۔ مثلاً سب سے پہلے اس کلمہ کو لیجئے جو دین کی بنیاد ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘دین کی رو سے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ میں اس حقیقت کبریٰ کا اعلان کرتا ہوں کہ کائنات میں خدا کے قانون و اقتدار کے علاوہ کسی کا قانون و اقتدار کارفرما نہیں۔ اس لیے میری زندگی بھی اسی قانون کے تابع رہے گی۔ میں اس کے سوا کسی اور قانون اور اقتدار کو تسلیم نہیں کروں گا اور یہ قانون ہمیں رسالت محمدیہﷺ کی وساطت سے ملا ہے، جو قرآن کے اندر محفوظ ہے۔’’ یہ ہے کلمہ کا مفہوم دین کی رو سے یہ ظاہر ہے کہ ہ۹مارے ہاں یہ کلمہ اپنا دینی مفہوم کھو چکا ہے لیکن یہ ہمارا اس قسم کا ملی شعار ظاہر ہے کہ جو شخص اس کلمہ کا اقرار کرتا ہے اسے ہم مسلمانوں کے گروہ کا ایک فرد سمجھتے ہیں اور جو اس سے انکار کرتا ہے اسے ہم اس گروہ سے باہر قرار دیتے ہیں۔ اسی کلمہ کا اشتراک ہے کہ (اگرچہ غیر قرآنی تصور حیات کے ماتحت دنیا کے مسلمانوں قوموں، نسلوں، جغرفیائی حد بندیوں اور سیاسی تقسیموں کے مطابق الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ چکے ہیں۔ (لیکن بایں ہمہ) دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے مسلمان اپنے اندر ایک غیر مرئی سی وحدت محسوس کرتے ہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ کلمہ ہمارا ملی شعار بند چکا ہے۔ یہی حیثیت دینی ارکان مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کی ہے۔ یہ سب اپنی دینی معنویت سے محروم ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ ہمارے ملی شعار بن گئے ہیں۔ چونکہ ملی شعائر بھی ایک حد تک افراد میں احسان یگانگت زندہ رکھنے کے موجب ہوتے ہیں، اس لیے طلوع اسلام کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ (اس دوران میں جب ہم صحیح قرآنی معاشرہ کی تشکیل کے لیے جدوجہد کریں) یہ ملی شعائر اسی طرح آگے منتقل ہوتے ہیں۔ (بجز ان کے جو قرآن کے خلاف ہوں) اس سے (جیسے کہ اوپر لکھا جا چکا ہے) مختلف افراد میں کچھ نہ کچھ احساس یگانگت تو باقی رہے گا۔ اگر ہم قرآنی معاشرہ کی تشکیل میں کامیاب ہو گئے تو یہی ملی شعائر، دینی ارکان بن جائیں گے اور ان سے وہی نتائج مرتب ہونے لگ جائیں گے، جن کی وضاحت قرآن نے کی ہے۔ یہ ہے وہ مقصد جس کے پیش نظر طلوع اسلام ان شعائر کو باقی رکھنے حق میں ہے اور انہیں مٹانے اور ان میں ردوبدل کر کے قوم میں تشت و انتشار پیدا کرنے کو سختی سے روکتا ہے۔ ہم سے پہلے جن حضرات نے قرآن کی طرف دعوت دینے کی جدوجہد کی (خدا انہیں ان کی نیک نیتوں اور حسن مساعی کا اجر دے) ایسا نظر آتا ہے کہ ان کے پیش نظر قرآنی معاشرہ کی تشکیل نہیں تھی، وہ صرف موجودہ (غیر قرآنی) فقہ کو قرآنی فقہ سے بدلنا چاہتے تھے۔ اس کوشش کا نتیجہ یہ ہوا (جیسا کہ ہونا چاہیے تھا) کہ معاشرہ میں کوئی تبدیلی تو واقع ہوئی نہ، اور قوم میں مزید تفرقہ پڑ گیا۔ طلوع اسلام کے پیش نظر قرآنی معاشرہ کی تشکیل ہے۔ اگر قرآنی معاشرہ قائم ہو گیا تو وہ اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق فقہی جزئیات میں خود بخود ضروری تبدیلیاں کر لے گا۔

شق نمبر4۔ کے متعلق حقیقت حال یہ ہے

لفظ زکوٰۃ کا مادہ (ز۔ ک۔و) ہے جس کے معنی ہیں بڑھنا، پھولنا، پھلنا، نشو و نما پانا، زکوٰۃ کے معنی ہیں، نشوونما، بالیدگی، پھولنا، پھلنا، بڑھنا، قرآن کریم میں اقامواالصلوٰہ اور اتوالزکوٰۃ کے الفاظ بار بار آئے ہیں اور بڑی تاکید کے ساتھ آئے ہیں۔ اتوالزکوٰۃ کے معنی ہوئے۔ ‘‘زکوٰۃ دو’’ اور لفظ زکوٰۃ کے معنی اوپر دیئے گئے ہیں ان کی روشنی میں سوچئے کہ ‘‘زکوٰۃ دینے’’ سے مراد کیا ہو گی۔ یہی کہ دوسروں کی نشوونما اور بالیدگی کا سامان بہم پہنچائو۔ یعنی جماعت مومنین کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ نوع انسانی کی نشوونما اور بالیدگی کا سامان بہم پہنچائے۔ وہ ایسا انتظام کرے جس سے افراد نسل انسانی کی صلاحیتوں کی نشونما ہوتی چلی جائے۔ اس میں اس کی طبعی زندگی کی صلاحیتوں کی نشوونما بھی شامل ہے۔ اور انسانی زندگی کی نشوونما بھی یعنی انسانی جسم کی پرورش بھی اور انشانی ذات کی بالیدگی اور ارتقا بھی۔ جماعت مومنین کی طرف سے یہ فریضہ ان کا نظام حکومت ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ

الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ  ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (41/22)

‘‘یعنی یہ وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ملک میں تمکن حاصل ہو گا تو یہ نظام صلوٰۃ قائم کریں گے اور ایتائے زکوٰۃ کا انتظام کریں گے۔ آپ نے غور کیا کہ قرآن نے ایتائے زکوٰۃ کو حکومت اسلامی کا فریضہ قرار دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ زکوٰۃ خیرات کا نام نہیں۔ خیرات ہم انفرادی طور پر ہر حالت میں دے سکتے ہی۔ اس کے لیے اپنی حکومت کی شرط نہیں۔ ہم انگریزوں کی حکومت کے زمانے میں بھی خیرات دیتے تھے۔ اب ہندوستان کے مسلمان، ہندووں کی حکومت بھی خیرات دے سکتے ہیں اور دیتے ہیں۔ ایتائے زکوٰۃ کے لیے اپنی حکومت کی شرط زکوٰۃ کی حقیقت کو واضح کر دیتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اسلامی حکومت اپنے اس عظیم فریضہ (یعنی نوع انسانی کو سامان نشوونما بہم پہنچانے کے لیے فریضہ) کو سرانجام کس طرح سے دے گی؟ اس کے لیے ظاہر ہے کہ سب سے پہلے ذرائع پیداوار حکومت کی تحویل میں رہنے چاہیں تاکہ وہ اس پیدار (رزق) کو ضرورت مندوں کی نشوونما کے لیے صرف میں لائے۔دوسرے یہ کہ افراد معاشرہ جس قدر کمائیں وہ اس طرح کھلا رکھیں کہ (ان کی ضروریات پوری ہونے کے بعد) مملکت اس میں سے جس قدر ضرورت سمجھے، ایتائے زکوٰۃ (دوسروں کی نشوونما) کے لیے لے لے۔ اس مقصد کے لیے قرآن کریم نے نہ کوئی شرح مقرر کی ہے نہ نصاب۔ اس میں سوال ضرورت پوری کرنے کا ہے۔ حتی کہ اس نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ افراد کی اپنی ضروریات پوری ہونے کے بعد جس قدر فاضل ہو وہ سب کا سب مملکت کی تحویل میں جا سکتا ہے تکاہ وہ اس سے دوسروں کی نشوونما ‘‘زکوٰۃ’’ کا انتظام کرے۔ (دیکھئے 2:219)

لیکن ظاہر ہے کہ اس قسم کا نظام مملکت بتدریج قائم ہو گا۔ جس عرصہ میں ایسا نظام ہنوز زیر تشکیل ہو، اس میں جماعت مومنین سے (آج کی اصطلاح میں) چندے اور عطیہ لیے جائیں گے۔ اس کے لیے قرآن نے ‘‘صدقات’’ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

یہ تھا زکوٰۃ سے مفہوم اسلامی نظام حکومت میں۔ لیکن جب وہ نظام باقی نہ رہا، دین اور سیاست میں جدائیگی پیدا ہو گئی، زکوٰۃ کا قرآنی مفہوم (یعنی نوع انسانی کو نشوونما دینا) نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ۔۔۔۔۔ حکومت نے اپنے ٹیکس وصول کرنے شروع کر دیئے اور مذہبی پیشوائیت ‘‘زکوٰۃ’’ کے نام سے اپنا ٹیکس وصول کرنے لگ گئی۔ باقی رہے غریب اور محتاج، سو ان کے لیے امیر آدمیوں کو خیرات کی تلقین ہونے لگی۔ چنانچہ یہی سلسلہ اب تک جاری ہے۔ لوگ حکومت کے ٹیکس الگ دیتے ہیں۔ سلانہ زکوٰۃ الگ اور خیرات ان دونوں سے الگ۔ حتیٰ کہ قرآن کریم نے باتیں ‘‘صدقات’’ کے متعلق کہی تھیں، وہ زکوٰۃ کے متعلق سمجھ لی گئی ہیں۔ مثلاً عام طور پر کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے ہیں۔ حالانکہ وہ مصارف ‘‘صدقات’’ کے ہیںَ زکوٰۃ کے نہیں (6/2)

تصریحات بالا سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اس وقت یا تو حکومت کے ٹیکس ہیں اور خیرات۔ خواہ اسے متعین طور پر زکوٰۃ کا نام دے دیا جائے یا غیر متعین طور پر صدقہ اور خیرات۔ زکوٰۃ (یعنی افراد معاشرہ کو سامان نشوونما بہم پہنچانا) نہ حکومت کا فریضہ سمجھا جاتا ہے نہ عوام کا۔ اسلامی نظام حکومت میں ‘‘زکوٰۃ دینا’’ حکومت کا فریضہ ہو گا اور اس مقصد کے لیے افراد جماعت مومنین اپنی ضروریات سے زائد سب کا سب دوسروں کے لیے کھلا رکھیں گے کہ اس میں سے جس قدر ضروری ہو اس مقصد کے لیے صرف کر دیا جائے۔ اس وقت انفرادی خیرات کی ضرورت نہیں رہے گی۔ خیرات لینے والے کا شرف انسانیت کچلا جاتا ہے۔ لیکن جب ایتائے زکوٰۃ اسلامی نظام کا فریضہ قرار پاتا ہے۔ تو ہر شخص اسے بطور اپنے حق کے لیتا ہے اور کسی کا کسی پر احسان نہیں ہوتا۔ قرآن، خیرات کو عبوری دور کی ضروریات کے لیے ہنگامی علاج بتاتا ہے اور زکوٰۃ کو اسلامی نظام کا بنیادی فریضہ اور لازمی شعار۔ یہ ہے زکوۃ کی حقیت ازروئے قرآن۔ (ایضاً صفحہ 144-116)

شق نمبر 5 ۔ حج کے موضوع پر پرویز صاحب لکھتے ہیں کہ

حج سے مفہوم

حج سے مفہوم یہ ہے کہ تمام دنیا کے انسان بلا تفریق رنگ و نسل اور بلا امتیاز وطن و زبان، جو اس نصب العین پر ایمان رکھتے ہوں ک دنیا میں کسی انسان کو دوسرے انسان پر حکومت کرنے کا حق نہیں، محکومیت صرف خدا کے قانون کی جائز ہے، اپنے اپنے ملکوں سے اپنے نمائندے چنیں۔ یہ نمائندے اپنے میں سے ایک منتخب کردہ امیر کی زیر قیادت، مرکز وحدت انسانیت یعنی کعبۃ اللہ کی طرف روانہ ہوں۔ عرفات کے میدان میں ان تمام نمائندگان کا باہمی تعارف ہو۔ پھر یہ تمام امرائے املت اپنے میں سے ایک امیر الاامر کا انتخاب کر لیں اور مختلف ممالک کے احوال و ظروف کو سامنے رکھ کر باہمی مشاورت سے ایک ایسا پروگرام مرتب کر لیں جو آئندہ سال کے لیے اصولی طور پر بطور مشترکہ پالیسی اختیار کیا جائے اور جو امن و سلامتی انسانیت کا ضامن اور فلاح و سعادت آدمیت کا کفیل ہو۔ ان کا منتخب کردہ امام اپنے خطبہ حج میں اس پروگرام کا اعلان کر دے جو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ جائے۔ اس کے بعد یہ تمام نمائندگان، مقام منی میں جمع ہو کر اس اصولی پروگرام کی تفصیلات و جزئیات پر گور کریں اور یہ سوچیں کہ ایک دوسرے ملک پر اس کا عملی اثر اور ردعمل کیا ہو گا۔وہاں باہمی مذاکرات بھی ہوں اور دعوتیں اور ضیافتیں بھی، جس کے لیے قربانی تجویز کی گئی ہے۔ اس کے بعد یہ نمائندگان اپنے اپنے ملکوں میں واپس جائیں اور طے شدہ پروگرام کے مطابق اپنے اپنے لوگوں کو چلائیں۔ یہ ہے وہ عملی طریقہ جو قرآن کریم نے تمام نوع انسانی کو، ایک امت واحدہ بنانے اور ان کے تمدنی مسائل کا حل تجویز کرنے کے لیے بتایا ہے۔ قرآن کریم نے حج کے اس مقصد اور غایت کو دو مقامات پر دو دو الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔ آپ ان مختصر ٹکڑوں کی جامعیت پر غور کیجئے اور پھر سوچیئے کہ کسی اجتماع کی غایت اس سے بلند اور کوئی انداز بیان اس سے بلیغ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ حج کے اجتماع سے مقصود یہ ہے کہ لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ (22:28) تاکہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اس میں ان کے لیے کس قدر فائدے ہیں اور اس کی غائت کیا ہے؟ قیٰماً للّناس (5:97) یعنی اس سے دنیا میں انسانیت قائم رہے۔

قیام انسانیت

غور کیجئے کہ کیا دنیا میں کسی کانفرنس، کسی اسمبلی، کسی پارلیمنٹ کسی اجتماع کا مقصد اس بلند ہو سکتا ہے کہ وہ دنیا میں شرف انسانیت کے قیام کا باعث ہو۔ قیاماً للناس کسی خاص قوم، خاص ملک، خاص ملت کے قیام کا باعث نہیں بلکہ تمام نوع انسانی کے قیام کا باعث یہ ہے کہ حج کے اجتماع کا مقڈس یعنی قیاماً للناس۔

حج کے متعلق میری متعدد شائع شدہ تحریریں موجود ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ میرے نزدیک اس عظیم اجتماع کی اہمیت کس قدر ہے۔ میں صلوٰۃ کے مقامی اجتماعات اور حج کے عالمگیر اجتماع کو اسلامی نظام زندگی کی بنیادیں قرار دیتا ہوں اور اسی لیے اس پر زور دیتا ہوں کہ ان اجتماعات کو رسمی طور پر منعقد نہ کیا جائے بلکہ اس مقصد کو پیش نظر رکھا جائے جس کے لیے یہ اجتماعات مقرر کیے گئے ہیں۔ مثلاً میری ایک ریڈیائی تقریر (مطبوعہ فردوس گم گشتہ) کے آخری میں آپ یہ لکھا ہوا پائیں گے۔

جمعیت آدم

حج سے مقصود اسی جمیعت آدم کی تشکیل تھا۔ اس حج سے جو آج چند رسوم کا بے جان اور بے مقصد مجموعہ بن کر رہ گیا ہے۔ لیکن اس آئین کہن میں آج بھی وہی روح پیدا کی جا سکتی ہے جو انسانیت کے شرف کی کفیل ہے۔ آج عالم اسلامی چاروں طرف سے مصائب و نوازل سے گھرا ہوا ہے۔ غیر خدائی قوتیں ان کے خلا ف متحدہ محاذ قائم کیے ہوئے ہیں۔ کہ دنیا کے نقشے پر کہیں ان کا نشان نہ رہنے پائے۔ مسلم اقوام کے نمائندے مختلف مقامات پر کانفرنسیں مقرر کر رہے ہیں کہ باہمی اتحاد سے ان مخالف قوتوں کا مقابلہ کیا جائے۔ تمام اسلامی ممالک میں اخوت اور راوبط کی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔ باہمی میل ملاپ کے سلیقے ڈھونڈے جا تے ہیں۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ لیکن کسی کی نگاہ اس طریق ربط و اخوت کی طرف نہیں اٹھتی جسے خدا نے ہمارے لیے متعین کیا تھا، جس سے ہمارے دلوں میں ائتلاف اور نگاہوں میں یک رنگی پیدا ہو جاتی تھی۔ ہم اسے بے کیف رسم بنائے ہوئے ہیں اور اس مین روح پھونکنے کی کوئی تجویز نہیں سوچتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم دیگر اقوام عالم کی تقلید میں کانفرنسیں طلب کرتے رہیں گے، ہماری کامیابی انہی کے پیمانوں سے ماپی جائیں گی۔ لیکن جس وقت ہم نے اپنے اللہ سے بھلایا ہوا عہد استوار کر لیا اور پھر اسی مرکز کو زندہ کر دیا جس کی زندگی سے تمام نوع انسانی کی زندگی وابستہ ہے، اقوام عالم کی امارت ہمارے حصہ میں آ جائے گی۔ ہماری زندگی کے چشمے کی سوتیں عرفات کے منبر سے پھوٹیں گی اور اسی سے ہماری کشت حیات سرسبز و شاداب ہو گی۔ آج مسلمانون عالم کو حج کا فریضہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

میں قوم کے نواجونوں کو تلقین اور تاکید کرتا رہتا ہوں کہ اگرچہ ان اجتماعات میں اس وقت ان کی حقیقی روح نہیں لیکن اس کے باوجود ان کا قائم رکھنا نہایت ضرورری ہے۔ اس لیے کہ:

اگر کبھی ہماری قسمت نے پلٹا کھایا اور ہم میں اس انقلاب کا احساس پیدا ہوا، جو قرآن پیدا کرنا چاہتا ہے تو انہی بےجان پیکروں میں پھر سے روح آ جائے گی اور یہ مناسک و شعائر جس نظام کی یادگار ہیں، اس کے از سر نو قیام میں آسانی پیدا ہو جائےگی۔ (سلیم کے نام خطوط،حصہ اول صفحہ 26) (ایضاً صفحہ 70-69)

قربانی کے متعلق پرویزؒ صاحب لکھتے ہیں

ہمارے سامنے جب یہ سوال آتا ہے کہ فلاں معاملہ کی دینی حیثیت کیا ہے تو ہم یہ نہیں دیکھتے کہ اس سے ذہنوں میں کس طرح کشمکش پیدا ہو رہی ہے اور ہمارے اقتصادی اور معاشرتی حالات پر اس سے کیا اثر پڑرہا ہے۔ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس باب میں خدا کا حکم کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب قرآن کا صحیح فیصلہ سامنے آ جائے اس سے وہ تمام ذہنی کشمکش دور ہو جاتی ہے جو انسانوں کے بنائے ہوئے مذہب سے ہر قلب سلیم میں پیدا ہوتی ہے اور اس فیصلہ سے ہمارے اقتصادی اور معاشرتی مسائل بھی خود بخود اعتدال پر آ جاتے ہیں کہ اگر قرآن یہ کچھ نہ کرے، تو وہ دین حقہ کیسے ہو سکتا ہے۔ لہذا قربانی کے سلسلہ میں ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ اس باب میں خدا کا حکم کیا ہے۔

پہلے یہ متعین کر لیجئے کہ مسئلہ زیر غور کیا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ

حج کے موقع پر حاجی مکہ معظمہ میں جانور ذبح کرتے ہیں، جسے قربانی کہا جاتا ہے۔

ایک ایک حاجی متعدد جانور ذبح کرتا ہے، ان جانوروں کو گڑھے کھود کھود کر دبانا پڑتا ہے۔

عید کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان اپنی اپنی جگہ پر جانور ذبح کرتے ہیں، اسے بھی قربانی کہا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بات کا حکم قرآن سے بھی ملتا ہے یا یہ چیزیں یونہی رسماً چلی آ رہی ہیں؟

سوال آپ کے سامنے آ چکا ہے۔ اب دیکھئے کہ اس باب میں قرآن کیا کہتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ قرآن نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے لیے کہیں ‘‘قربانی’’ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ نہ ہی اس نے اسے خاص طور پر قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہ تصور کہ جانوروں کے خون بہانے سے خدا خوش ہو جاتا ہے۔ اس لیے قربانی وجہ تقرب خداوندی ہوتی ہے، غیر قرآنی تصور ہے۔

قرآن جس تمدنی نظام ( Social Order ) کی تشکیل چاہتا ہے اس کا نقطہ آغاز الصلوٰۃ اور منتہی حج۔ یعنی ملت کی محدود وحدتوں ( Units ) کی صحیح تعمیر سے شروع کر کے پوری کی پوری ملت کو ایک مرکز وحدانیت پر جمع کرنا، انہیں قوانین خداوندی کے مطابق چلانا اور اس کے بعد ضابطہ حیات کو ساری دنیا میں نافذ کرنے کا ذریعہ بنانا۔ حج ملت کے اس عظیم القدر اجتماع کا نام ہے جس میں قرآنی نظام حیات کے پروگرام پر غور و خوض کر کے اسے نافذ العمل بنانے کی ترکیب کو سوچا جاتا ہے۔ اس اجتماع کا مرکز ‘‘بیت الحرام’’ (خانہ کعبہ) ہے جو ملت اسلامیہ کا مرکز محسوس ہے۔ اس عظیم الشان اجتماع کو کامیاب بنانے میں ہر کوشش مبارک اور ہر اقدام مسعود ہے۔ قرآن کریم میں جانوروں کے ذبح کرنے کا ذکر اسی اجتماع کے سلسلہ میں آیا ہے اور وہ آیات حسب ذیل ہیں (ان آیات پر الگ الگ نمبر بھی دیئے گئے ہیں تاکہ حوالہ میں سہولت ہو، نیز ان کا ترجمہ مروجہ ترجموں کے مطابق ہی کر دیا گیا ہے۔ تاکہ یہ اعتراض نہ پیدا کردیا جائے کہ ہم نے (خدانکردہ) اپنے مطلب کے مطابق معانی پیدا کرنے کے لیے ترجمہ کچھ کا کچھ کر دیا ہے۔ سورہ الحج میں ہے۔

وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ   ﴿ ٢٧   لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ  ۖ   فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ (28-27/22)

‘‘اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیدل بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز راستوں سے پہنچتی ہوں گی تاکہ لوگ اپنے فوائد کے لیےآ موجود ہوں اور تاکہ ایام مقررہ میں ان چوپایوں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کیے ہیں۔ سو جانوروں میں سے خود بھی کھائو اور محتاج کو بھی کھلائو۔’’

ان جانوروں کے متعلق آگے چل کر یوں ارشاد ہے۔

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (32/22)

‘‘ان جانوروں میں تمہارے لیے ایک مدت معینہ تک فائدہ اٹھاناہے اس کے بعد ان کے حلال کرنے کی جگہ بیت عتیق (خانہ کعبہ) کے قریب ہے۔’’

اس سے آگے ہے۔

وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّـهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ  ۖ   فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ  ۖ   فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ  ۚ   كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (36/22)

اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے اللہ کے دین کی یادگار بنایا ہے۔ ان جانوروں میں تمہارے لیے (اور بھی) فائدے ہیں۔ سو تم انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لیا کرو۔ پس جب وہ کسی کروٹ گر پڑیں تو تم خود بھی کھائو اور سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے محتاج کو بھی کھلائو۔ہم نے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم شکر کرو اور اس کے بعد ہے۔

لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ  ۚ   كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّـهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ  ۗ   وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ (37/22)

اللہ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون لیکن اس کے پاس تمہارا تقوٰی پہنچتا ہے۔ اس طرح اللہ نے جانوروں کو تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم اللہ کی برائی کرو۔ اس پر جس کی اس نے تمہیں ہدایت کی ہے اور محسنین کے لیے بشارت ہے۔

یہ سورج حج کی آیات ہیں۔ انہیں دیکھیے اور غور کیجئے کہ یہ مسئلہ پیش نظر کے متعلق کس قدر صاف اور واضح ہیں۔

آیت (1)۔ میں سلسلہ کلام آغاز ہی اعلان حج سے ہوتا ہے اور اسی ضمن میں فرمایا کہ جانوروں کو ذبح کرو اور ان میں خود بھی کھائو اور حاجت مندوں کو بھی کھلائو۔

آیت (2)۔ سے واضح ہے کہ یہ وہ جانور ہیں جن سے پہلے عام جانوروں کا کام لیا جاتا ہے ان پر سواری کر کے یا بوجھ لاد کر حج کے لیے آیا جاتا ہے اور پھر انہیں حج کی تقریب پر مکہ معظمہ میں ذبح کیا جاتا ہے۔

آیت (3) بھی آیت (2) کے مضمون کی تائید کر رہی ہے یعنی ان جانوروں کے فوائد (خیر) اور اس کے بعدذبح کر کے خود بھی کھانا اور محتاجوں کو بھی کھلانا (ان شعائر اللہ ہونے کا بیان آگے چل کر آئے گا)

آیت (4) میں اس غلط تصور کا بطلان کیا گیا ہے جس کی رو سے سمجھا جاتا تھا کہ قربانی کی حیثیت افادی نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی ہے جو خون بہانے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے قربانی کے جانور ذبح کر کے چھوڑ دینے چاہیں۔ اس کے برعکس یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ ان جانوروں کے ذبح کرنے سے مقصود خون بہا کر خدا کو خوش کرنا نہیں، بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ ان کا گوشت تمہارے اور دیگر ضروت مندوں کے کام آئے۔ اللہ کے نزدیک قابل قدر چیز تمہارا تقوٰی ہے۔ تقویٰ کی تشریح اگلے الفاظ سے کر دی جن مین بتایا گیا کہ تمہارا مقصود حیات یہ ہے کہ جس ضابطہ حیات کی طرف تمہاری راہ نمائی کی گئی ہے، اسے متکل اور مستحکم کرو اور اس طرح دنیا میں قانون خداوندی کی عظمت کبریائی کو ثبت کر کے دکھا دو۔ اجتماع حج اسی مقصد کے حصول کی کڑی ہے اور یہ جانور اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کے خوردونوش کا ذریعہ بنتے ہیں۔ قرآن کی رو سے دنیا میں دو ہی قومیں ہیں۔ ایک وہ جو ضابطہ خداوندی کے مطابق زندگی بسر کریں (مسلم) اور دوسری وہ جو اس کے علاوہ دیگر ضوابط زندگی کو اپنا مسلک بنائیں (غیر مسلم)۔ قرآن ان دونوں جماعتوں میں واضح اور غیر مبہم امتیازی خطوط قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں باآسانی پہنچانے جا سکیں۔ چنانچہ ہر وہ عمل یا وہ شے جو اس قسم کی پہچان کر اس کے شعائر اللہ کہلاتی ہے۔ شعار اس خاص نشان کو کہتے ہیں جو جنگ میں استعمال کیا جائے تاکہ وواس سے اپنے رفیق اور دوست پہنچانے جا سکیں۔ حج تمام دنیا کے مسلمانوں کا مرکزی اجتماع اور یک قلبی اور یک نگہی کا عملی مظاہرہ اور ایک ضابطہ قانون کے تابع زندگی بسر کرنے والوں کی تعارفی تقریب ہے اس سے بڑا دوستوں اور رفیقوں کا اجتماع اور کون سا ہو سکتا ہے اس لیے حج کے تضمنات (صفاو مروہ اور بدن وغیرہ) کو خصویصت سے شعائر اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے سورۃ مائدہ میں ہے۔

  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّـهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا (2/5)

‘‘اے ایمان والو! بے حرمتی نہ کرو شعائر اللہ اور نہ حرمت والے مہینے ، نہ حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کی اور نہ جانورو کی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو بیت الحرام کے مقصد سے جا رہے ہوں اور اپنے رب کے فضل اور رضامندی کے طالب ہوں’’

چونکہ حج سے مقصود، دنیا میں قوانین خداوندی کا عملی نفاذ ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نوع انسانی میں صحیح توازن پیدا ہو جائے گا اور اس طرح انسانیت اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو جائے گی اس لیے اللہ تعالیٰ نے جہالت بیت الحرام کو وجہ قیام انسانیت قرار دیا ہے اس کے ساتھ ہی اس کے تضمنات کو بھی انہی الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا۔

6 ۔   جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ   (97/5)

اللہ نے کعبہ کو، جو کہ حرمت والا مکان ہے، لوگوں کے قیام کا باعث قرار دیا ہے اور عزت والے مہینے کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں۔

آیات نمبر 1 تا 4 کو پھر سامنے لائیے۔ ان سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے کہ قرآن کی رو سے :

قربانی صرف حج کے موقع پر ہے۔

قربانی کا مقام مکہ معظمہ ہے جہاں حج ہوتا ہے۔

قربانی سے مقصود یہ ہے کہ ان جانوروں کا گوشت کھایا جائے۔

یہ سمجھنا کہ جانورو ذبح کرنے سے قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے، غلط ہے، ان حقائق سے یہ واضح ہو گیا کہ

(الف) حج کے علاوہ کسی اور تقریب پر قربانی کا ذکر نہیں۔

(ب) مکہ معظمہ کے علاوہ اور کسی مقام پر قربانی نہیں۔

(ج) جس جانور کا گوشت، کھانے کے کام نہ آئےاسے قربانی نہیں کہا جا سکتا۔

کیونہ اس کا صرف خون بہایا گیا ہے اور خون اللہ تک نہیں پہنچتا۔ لہذا ایسا کرنا اسراف ہے۔ یعنی بے نتیجہ اور بے مصرف ایک جانور ا ضائع کر دینا۔

فلھذا

(i)                 حج کی تقریب پر جانورں کو ذبح کر کے مٹی میں دبائے جانا، منشائے قرآن کے یکسر خلاف ہے اور

(ii)              یہ جو عید کی تقریب پر دنیا بھر کے شہروں میں قربانیاں دی جاتی ہیں، اس کا حکم تو ایک طرف، کہیں ذکر تک بھی قرٓان میں نہیںِ بلکہ یہ قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن نے قربانی کے مقام کو بالتصریح معین کر دیا ہے تو اس معین کو عام کر دینا قرآنی منشا کے خلاف ہے۔ مثلاً قرآن نے نماز کے لیے سمت قبلہ کو معین کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہر طرف منہ کر کے نماز پڑھنا قرٓانی حکم کے خلاف ہو گا۔ (ایضاً صفحہ 22تا 77)

(iii)            قرآن کریم کو بلا سمجھے پڑھنے سے متعلق پرویزؒ صاحب لکھتے ہیں۔

ہم پوچھتے ہیں کہ کیا دنیا میں کوئی اور کتاب بھی ایسی ہے جسے آپ بلا سمجھے پڑھتے ہیں کسی ایسی زبان میں لکھی ہوئی کتاب تو ایک طرف رہی جسے آپ جانتے ہی نہ ہوں، اگر کتاب کی زبان آپ جانتے ہوں اور وہ کتاب آپ کی استعداد سے زیادہ مشکل ہو تو بھی آپ اسے نہیں پڑھیں گے کہ جب کچھ پلے ہی نہیں پڑتا تو پھر اسے پڑھا کس لیے جائے۔

جب یہ کیفیت ہے تو پھر قرآن کو کیوں اس سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے؟ کتاب پڑھنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کتاب کے مضامین ( Contents ) کو سمجھ سکیں۔اگر آپ اس کے مافیہ کو نہیں سمجھ سکتےھ تو اس کا پڑھنا آپ کو کیا فائدہ دے گا۔ یہ ایک عام سمجھ کی بات ہے۔ پھر معلوم نہیں ‘‘مذہب’’ کے معمالہ میں سمجھ کو کیوں الگ رکھ دیا جاتا ہے۔ قرآن ایک کتاب ہے اور اس میں لکھا ہے کہ تمہیں دنیا میں زندگی کس طرح بسر کرنی چاہیئے۔ اب ظاہر ہے کہ اس کتاب کو پڑھا اس لیے جائے گا کہ سمجھا جائے، اور سمجھا اس لیے جائے گا کہ اس کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔ کہیئے! اس کے الفاظ کو دہرا لینے سے یہ مقصد حاصل ہو جائے گا؟ قرآن اپنے آپ کو ‘‘کتاب مبین’’ (ایک واضح کتاب) کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری زبان ‘‘عربی مبین’’ (صاف اور سلیس واضح عربی زبان ہے)۔ وہ اپنے آپ کو ہدایت (راہنمائی) اور نور (روشنی) بتاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس میں قوموں کے عروج و زوال کے بین اصول منضبط ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ اس میں ارتقا شرف انسانیت کے قوانین و آئین مندرج ہیں۔ وہ اپنے مضامین پر بار بار دعوت غور و فکر دیتا ہے۔ وہ ہر صاحب فکر و نظر کو اس میں تدبر و تفکر کے لکے تاکید کرتا ہے۔ وہ اس میں تدبر نہ کرنے والوں کو سطح انسانیت سے گرا ہوا قرار دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو عقل کی آنکھ کے لیے سورج کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کا یہ مقصد بلاسوچے سمجھے پڑھنے سے حاصل ہو سکتا ہے؟ ہم کہتے ہیں قرآن پر اس اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا کہ اسے بلا سمجھے پڑھا جائے۔ آپ کسی مصنف سے یہ کہے کہ میں تمہاری کتاب کے ایک لفظ کو بھی نہیں سمجھتا۔ لیکن اس کے باوجود ہر روز اسے پڑھتا ہوں حتیٰ کہ مجھے وہ زبان بھی نہیں آتی۔ جس میں تم نے کتاب لکھی ہے۔ اس کے باوجود کے الفاظ کو دہراتا ہوں۔ آپ خود ہی سوچئے کہ وہ مصنف آپ کو کیا جواب دے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ امت کو قرآن سے دور لے جانے کا سب سے موثر حربہ یہ تھا کہ اس کے دل میں اس خیال کو راسخ کر دیا جائے کہ قرآن کو بلا سمجھے پڑھنے سے بھی ‘‘ثواب’’ حاصل ہوتا ہے۔ یہ ان سازشوں میں سے بڑی سازش تھی جو دنیا میں اس عظیم المرتبت قوم کو اس کے مقام سے گرانے کے لیے سوچی گئیں۔ (ہم جانتے ہیں کہ وہ مسلمان جن کی زبان عربی ہے یا عربی جانتے ہیں، وہ بھی دوسروں کے ساتھ ہی ذلیل ہیں۔ لیکن اس کے لیے وجوہات ہیں) جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں یہ عقیدہ کہ بلا سمجھے قرآن کے الفاظ دہرانے سے ‘‘ثواب’’ ہوتا ہے۔یکسر غیر قرآنی عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ درحقیقت عہد سحر ( Age of Magic ) کی یادگار ہے۔ جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ الفاظ اپنے اندر تاثیر رکھتے ہیں (معنی نہیں بلکہ الفاظ) یہ قرآنی اعمال۔ تعویذ، تقوش، وظائف اوراد، سب اسی عقیدہ کی مستعار شکلیں ہیں۔ قوم ہزار برس سے ان توہمات میں الجھی چلی آ رہی ہے اور ان سے نجات کی بھی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے کہ قوم کو جہالت کی ان وادیوں میں گھیرے رکھنے سے ایک طبقہ کی روٹی وابستہ ہے۔ اس لیے وہ اسے ظلمات سے نکلنے ہی نہیں دیتا۔ جب اللہ کا کوئی بندہ اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو بھوک کا تصور اس طبقہ کو ہر قسم کی مخالفت کے لیے کمربستہ کر دیتا ہے اور اس آواز کو ‘‘مذہب اور سلف صالحین کے طریقہ’’ کے خلاف قرار دے کر عوام کے جذبات مشتعل کر دیتا ہے۔ یہی ہے مترفین اور دوسروں کی کمائی پر زندگی بسر کرنے والوں کا وہ گروہ جو ہمیشہ حق کے خلاف محاذ قائم کرتا ہے، اور آج بھی یہی کچھ کر رہا ہے۔ اس لیے کہ انہیں معلوم ہے کہ قرآن (حضرت) موسیٰ کا وہ اژدہا ہے جو ان ساحرین کی نگاہ فریب رسیوں کو صاف نگل جائے گا۔ اس لیے وہ قرآن کریم کو قوم کے سامنے کبھی بے نقاب نہیں ہونے دیں گے، اور اس کے لیے وہ ان پڑھوں کو قرآن الفاظ دہرانے کے ‘‘ثواب اور لکھے پڑھوں کو اسرائیلی روایات پر مشتمل تفاسیر کے فریب میں مبتلا رکھٰں گے تاکہ۔ ہو نہ جائے آشکارا شرع پیغمبر کہیں۔’’ (ایضاً صفحہ 263۔261۔1953)

شق نمبر8۔ صحابہ کرامؓ اور سلف صالحینؓ

اس کے متعلق اس سے زیادہ کیا کہا جائے جو شخص صحابہ کرامؓ کا زبان پر نام آتے ہی رضی اللہ عنہم و رضواعنہ کا قرآنی ورد کرتا ہو اس کے متعلق اتنا بڑا جھوٹ بولنے والوں کو بارگاہ ایزدی سے ہی سزا مل سکتی ہے۔ اگر یہ لوگ پرویزؒ کی کتاب ‘‘شاہکار رسالت’’ فاروق اعظمؓ ہی پڑھ ہی لیتے تو انہیں پتا چل جاتا کہ پرویزؒ صاحب کے نزدیک حضور نبی اکرمﷺ کے ان رفقا کا مقام کیا ہے۔ ہم پرویزؒ صاحب کے مفہوم القرآن سے سورۃ الفتح کی آیت 29 کا پرویزؒ صاحب کا بیان کردہ مفہوم درج ذیل کرتے ہیں تاکہ قارئین یہ اندازہ لگا سکیں کہ پرویز صاحبؒ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اصحاب کی عظمت پر کس طرح جھوم جھوم جاتے ہیں۔

‘‘محمدﷺ اللہ کا رسول اور اس کے رفقاکار کی جماعت۔ یہ جماعت بھی کیا عجیب و غریب جماعت ہے ان کی کیفیت یہ ہے کہ یہ حق کے مخالفین کے مقابلہ میں چٹان کی طرح سخت ہیں لیکن باہم دگر بڑےہی نرم دل اور ہمدرد (54/5) تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ کس طرح ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے جھک جاتا ہے کہ وہ کس طرح ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے جھک جاتے ہیں اور قوانین کے سامنے پیکر تسلیم و رضا بن جاتے ہیں (لیکن یہ تارک الدنیا راہبوں کی جماعت نہیں) یہ قانون خداوندی کے مطابق، سامان زیست کی تلاش میں مصروف تگ و تاز رہتے ہیں اور اس کے ساتھ اس کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ ا ن کا ہر عمل قانون خداوندی سے ہم آہنگ اور ان کی سیرت صفات خداوندی سے یک رنگ ہو جائے۔ اس سے انہیں جو سکون قلب اور حقیقی مسرت حاسل ہوتی ہے، اس کے اثرات ان کے چہروں سے نمایاں نظر آتےہیں۔ ان کی یہ علامات سابقہ کتب آسمانی ۔۔۔۔ تورات وا نجیل ۔۔۔۔ میں بھی مذکور تھیں۔

انہوں نے نظام خداوندی کو جس طرح قائم کیا اور پروان چڑھایا ہے، اس کی مثال یوں سمجھو کہ جب عمدہ بیج سے شگوفہ پھوٹتا ہے تو اس کی پہلی کونپل بڑی نرم و نازک ہوتی ہے۔ پھر جوں جوں اس کی جڑ مضبوط ہوتی جاتی ہے اس کی نال موٹی ہوتی جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ اپنے سہارے آپ محکم اور استوار طریق پر قائم ہو جاتی ہے (اس میں خوشے لگتے ہیں اور خوشوں میں دانے پڑ کر سخت اور مضبوط ہو جاتے ہیں۔ یوں وہ ننھا سا بیج پکی ہوئی فصل میں تبدیل ہو جاتا ہے) جب کاشتکار اپنے محنت کو اس طرح ثمربار ہوتے دیکھتا ہے تو وجد و مسرت سے جھوم اٹھتا ہے لیکن یہی چیز اس کے مخالفین کے سینے پر سانب بن کر لوٹنے لگ جاتی ہے۔

اسی طرح اللہ ہر اس جماعت کو جو اس کے قوانین کی صداقت پر ایمان لا کر اس کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل پیرا ہوتی ہے، اس امر کا وعدہ دیتا ہے (یعنی یہ اس کا قانون ہے) کہ ان کی کوششوں کا ننھا سا بیج تمام خطرات سے محفوظ رہے گا اور ان کی کھیتی پک کر بہترین ثمرات کی حامل ہو جائے گی۔ (55/24) (لیکن اس کے لیے اس قسم کی محنت اور استقامت کی ضرورت ہو گی جس قسم کی محنت اور استقامت کا ثبوت کسان دیتا ہے (تخم صالح، قوانین فطرت سے مطابقت، مسلسل محنت اور استقلال و استقامت، کھیتی کی برومندی کے لیے یہ تمام شرائط لا ینفک ہیں)۔

جہاں تک سلف صالحین کا تعلق ہے، پرویزؒ صاحب لکھتے ہیں۔

‘‘ہر فرقہ اپنے نظریات و معتقدات کو اپنے بزرگوں کی طرف منسوب کرتا ہے۔ ان میں سے جس نظریہ یا عقیدہ کو میں قرآن کے خلاف پاتا ہوں، اس کے متعلق بنا بر احتیاط و احترام، یہ سمجھتا اور کہتا ہوں کہ بزرگوں کی طرف اس کی نسبت صحیح نہیں۔ وہ کوئی ایسا نظریہ یا عقیدہ پیش نہیں کر سکتے تھے جو قرآن کے خلاف ہو۔ لیکن اگر ان کے متبعین اس پر اصرار کریں کہ ان کی طرف اس کی نسبت صحیح ہے، انہوں نے ایسا ہی کہا یا کیا تھا، تو میں کہہ دیا کرتا ہوں کہ ایسا کہنا آپ کو مبارک، میں ان کے متعلق سوئے ظن سے کام نہیں لینا چاہتا۔ میں ان کا احترم کرتا ہوں’’

(شاہکار رسالت ایڈیشن نمبر 1994 صفحہ 56)

شق نمبر 9۔ جنت اور دوزخ سے انکار

پرویزؒ صاحب جنت اور دوزخ سے انکار نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنت اور دوزخ صرف اخروی زندگی ہی سے متعلق نہیں بلکہ ان کی ابتدا اسی زندگی سے ہو جاتی ہے اور اس کے تسلسل میں حیات آخرت میں بھی جنت اور دوزخ کی زندگی ہے۔ اور یہ مفہوم قرآن کریم ہی کی زندگی سے حاصل کیا گیا ہے۔ جنت کے متعلق ارشاد ہے۔

جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133/3)

‘‘وہ جنت جسے اللہ تعالیٰ نے متقین کے لیے تیار کر رکھا ہے، اس کی وسعتیں آسمانوں اور زمین کو محیط ہیں’’

قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جنت کا بیان تمثیلی ہے سورۃ رعد میں ہے۔

مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ  ۖ   تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ  ۖ   أُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا  ۚ   تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوا  ۖ وَّعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ   (35/13)

‘‘جس جنت کا وعدہ متقیوں سے کیا جاتا ہے اس کی مثال یوں سمجھو کہ (ایک باغ ہے جسے) آب رواں سیراب کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ کبھی پژمردہ اور خشک نہیں ہوتا۔ اس کے درختوں کا سایہ بھی دائمی ہے اور پھل بھی۔ یہ متقیوں کے انجام کی بات ہے۔ باقی رہے کفار سو ان کا انجام آگ کا عذاب ہے۔’’

اسی طرح سورۃ محمدؐ میں بھی کہا گیا ہے کہ

مَّثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (15/47)

جس جنت کا وعدہ متقیوں سے کیا جاتا ہے اس کی مثال یوں سمجھو کہ اس کا پانی رواں رہتا ہے جس کی وجہ سے اس میں سرانڈ پیدا نہیں ہوتی۔ (وہاں کے رزق پر لوگ بند لگا کر نہیں بیٹھ جاتے)اور دودھ کی ندیاں جس کا ذائقہ بگڑتا نہیں اور خمر کی ندیاں جس کی لذت بڑی ہی خوشگوار ہےاور نہایت صاف و شفاف شہد کی ندیاں اور ہر قسم کے پھل اور سامان حفاظت ۔۔۔۔۔ (خمر کے متعلق دوسرےمقامات میں ہے کہ اس سے نشہ آور شراب مراد نہیں)

سورہ آل عمران میں ہے   وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ (132/3) ‘‘ایسا باغ جس کی وسعت ارض و سماوات (جملہ کائنات) کو محیط ہے’’ دوسری جگہ ہے۔ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ   (21/57) ‘‘اس کا عرض زمین اور آسمان کے عرض کے مثل ہے۔’’ ان تصریحات سے واضح ہے کہ جنت کسی خاص مقام کا نام نہیں۔ اس کے چشموں کے متعلق کہا کہ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّـهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا (6/76) ‘‘اللہ کے بندے پیتے ہیں اس چشمے سے جسے وہ خود پھاڑ کر نکالتے ہیں’’ یعنی وہ چشمہ ان کے اپنے قلب کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے کہیں خارج میں واقع نہیں ہوتا۔ اس چشمے کو سلسبیل کہتے ہیں (18/76) سلسبیل (سل+سبیل) کے معنی ہیں جو راستہ پوچھتے ہوئے خود بخود آگے بڑھتا چلا جائے۔

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (17/32)

‘‘کوئی شخص (اپنے شعور کی موجودہ سطح پر) نہیں جان سکتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا وہ سامان جو اس وقت اس کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے، کیا ہے؟ وہ اس کے اعمال کا فطری نتیجہ ہو گا’’

اس سے واضح ہے کہ جنت اخروی کی کنہ و حقیقت اور ماہیت و کیفیت کو ہم اس زندگی میں سمجھ نہیں سکتے، اس کے تمثیلی بیان سے بس کچھ اندازہ سا کر سکتے ہیں۔ اس حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ان تشبیہات و استعارات کے الفاظ تو ہماری (عربی) زبان کے ہیں ان کا مفہوم مجازی ہے۔ شکوک و شبہات کے تمام کانٹے اس بنیادی حقیقت کو نظر کر دینے سے ابھرتے ہیں۔ اسی طرح جہنم کی بھی تفاصل قرآن کریم کے مختلف مقامات پر بکھری پڑی ہیں۔

پرویزؒ صاحب نے اخروی زندگی اور اس کے متعلق قرآن کریم کے تشبیہانہ انداز سے متعلق تفصیلات پر اپنی مستقل تصنیف ‘‘جہان فردا’’ میں بحث کی ہے۔ اس کا مطالعہ ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کر دیتا ہے۔ پرویزؒ صاحب چونکہ اپنی تمام تر فکر کی بنیاد قرآن کریم کی تعلیمات پر اٹھاتے ہیں اس کے لیے قرآن کریم میں بیان کردہ ہر صداقت پر ان کا ایمان ہے جیسا کہ ہر مسلمان کا ہونا چاہیے۔

اس مقام پر ہم اسباب زوال امت کے آخر میں دیے گئے، پرویزؒ صاحب کے نام ایک خط اور اس کا جواب نقل کرتے ہیں، جس کے بعد پرویزؒ صاحب کی دعوت کے متعلق کسی قسم کا کوئی ابہام اور کوئی غلط فہمی نہ رہنی چاہیئے غور فرمائیے۔

ایک خط اور اس کا جواب

میرے جو خیالات سابقہ اوراق میں آپ کی نظروں سے گزرے ہیں انہون نے فضا میں خاصا تحرک پیدا کر دیا، اس حر کت کہ میرے ایک شفیق دوست نے ان سے متاثر ہو کر ، مجھے ذیل کا خط لکھا۔

پچھلےدنوں کئی آوازیں میرے کانوں میں آئیں کہ:

پرویزؒ صاحب کا یہ اندازہ خود پسندانہ ہے کہ گزشتہ صدیوں میں اسلام کی جتنی تعبیرات ہوئی ہیں وہ از الف تا ی غلط ہیں اور سوفیصد صحیح تعمیر ( Interpretation ) ۔۔۔۔ وہ ہےجو میں کر رہا ہوں۔ ممکن ہے کسی خاص جملے سے یہ بات ظاہر نہ ہوتی ہو، لیکن پوری تحریرات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پچھلی صدیوں میں جہاں، جب اور جو کچھ ہوا، وہ سازش عجم ہی کا نتیجہ تھا۔’’

اگر یہ اعتراض جو آپ کی نگارش پر سننے میں آئے ہیں کسی حد تک صحیح ہوں، تو میری مخلصانہ رائے ہے کہ اس روش میں ایک حسین ترمیم یوں کر دی جائے کہ ‘‘پچھلوں نے جو کچھ بھی لکھایا کیا ہے، وہ سب کا سب سازش عجم، اس لیے کل کا کل غلط نہیں، بلکہ ان کا بیشتر حصہ صحیح ہے۔ لیکن بات صرف اتنی ہے کہ وہ تعبیرات اپنے اپنے ادوار کے لیے اور اپنے اپنے عصروں تقاضوں کے مطابق تھے۔ اب فلاں فلاں گوشوں کو جدید مقتضیات میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ان کی تعبریں یوں ہونی چاہیں اور یہ تعبیرات بھی دائمی نہ ہوں گی۔ جب نئے تقاضے سامنے آئیں گے، تو یہ بھی نیا لباس پہن لیں گی۔ میرا خیال ہے کہ یہ انداز زیادہ موثر اور جاذب اور حکمت تدریج کے مطابق ہو گا۔’’

اس کے جواب میں، میں نے یہ لکھا۔

گذارش ہے کہ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ پچھلی صدیوں میں جہاں، جب اور جو کچھ ہوا، وہ سازش عجم کا نتیجہ تھا اور جو تعبیرات میں پیش کر رہا ہوں، وہ سو فیصد صحیح اور دائمی ہیں۔

شق اول کے متعلق جو کچھ میں کہتا ہوں، وہ فقط اتنا ہے کہ میرے نزدیک الذین منزل من اللہ (خدا کی طرف سے نازل شدہ) ہے اور وہ قرآن کے اندر محفوظ ہے۔ جو کچھ ہمیں آج دین کے نام سے بتایا جاتا ہے، اس میں جو بات قرآن کے خلاف ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔

اس کے جواب میں مجھ سے کہا جاتا ہے کہ جس چیز کو تم قرآن کے خلاف کہتے ہو، وہ فلاں روایت میں لکھی ہے اور فلاں بزرگ کی کتاب میں درج ہے۔

میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ میرے نزدیک نہ رسول اللہ ﷺ کوئی بات (معاذ اللہ)قرآن کے خلاف فرما سکتے تھے۔ اور نہ ہی میں ان بزرگوں کے متعلق ایسا گمان کر سکتا ہوں۔ کہ انہوں نے قرآن کے خلاف کچھ پیش کیا ہو۔ لہذا یہ چیزیں رسول ﷺ اور آئمہ ملت کی طرف غلط منسوب کر دی گئی ہیں اور یہی عجم کی ساز تھی۔ اگر اس پر بھی کسی کو اصرار ہے کہ نہیں! ۔۔۔۔۔ یہ باتیں رسول اللہ ﷺ اور آئمہ کرام ہی کی ہیں، تو میں صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ یہ جرات آپ کو مبارک، میں تو اس کے تصور سے بھی کانپتا ہوں کہ کسی ایسی بات کو جو قرآن کے خلاف ہو (معاذاللہ) رسول اللہ ﷺ یا حضور ﷺ کے کسی سچے متبع کی طرف منسوب کی جائے۔

اب رہا یہ سوال کہ اس کا کیا معیار ہے کہ فلاں بات صحیح ہے اور فلاں غلط۔ سو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ اس کا معیار قرآن ہے۔

اگر آپ اس معیار پر متفق ہو جاتے ہیں، تو پھر بات پر سہل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کچھ فرق ہو گا، قرآن کی تعبیر کا ہو گا، سند اور حجت کا نہیں ہو گا۔ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ میری تعبیر سو فیصد صحیح اور دائمی ہے۔ اس کے برعکس، میں شروع سے آج تک مسلسل و متواتر کہتا چلا آ رہا ہوں کہ آپ یہ نہ دیکھئے کہ میں کیا کہتا ہوں۔ آپ از خود، براہ راست قرآن پر غور کیجئے اور پھر سوچیئے کہ اصل دین کیا ہے۔ میری زندگی کا مقصد مسلمانوں کو براہ راست قرآن تک پہنچانا ہے اور بس!

میں نے آج تک جو کچھ لکھا ہے، وہ قارئین کے سامنے ہے۔ میں ہر سوچنے والے کو ہمیشہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ میری تحریر کو قرآن کے معیار پر پرکھے اور جہاں کوئی غلطی نظر آئے، اس سے مجھے مطلع کرے جسکے لیے میں اس کا شکر گزار ہوں گا۔ اس کے جواب میں معترضین کی طرف سے آج تک کبھی کسی نے یہ نہیں لکھا کہ تمہاری فلاں بات قرآن کے خلاف ہے۔ ہمیشہ یہ کہا ہے کہ تم احادیث کے منکر ہو اور اسلاف کے ناقد ہو، اس لیے مرتد کافر اور نہ جانے کیا کیا ہو۔؟

باقی رہا کسی تعبیر کا دائمی ہونا، سو اس کے متعلق میں متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ ہم قرآن کو اپنے زمانے کی علمی سطح کے مطابق ہی سمجھ سکتے ہیں۔ آنے والے زمانے میں جب علمی سطح اور بلند ہو جائے گی، تو وہ لوگ قرآن فہمی میں ہم سے آگے بڑھ جائیں گے۔ اس لیے میں اپنی کسی تعبیر کو دائمی کس طرح کہہ سکتا ہوں؟ لیکن کسی تعبیر کا اصول قرآن کے خلاف ہونا اور بات ہے اور اس کا کسی ایک زمانے کی علمی سطح کے مطابق ہونا اور بات ہے۔ میں جس بات کی مخالفت کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ کوئی تعبیر اصول قرآن کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ اب رہی میرے محترم کی ترمیم، سو اس کے دو حصے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قراان کریم میں جن امور کا اصولی طور پر ذکر ہے، ان کے جزئی قوانین ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مدوون کیے جائیں گے۔ مثلاً قرآن میں زکوۃٰ کا اصولی حکم ہے۔ اس کی جزئیات ہر دور کا قرآنی نظام خود متعین کرے گا۔ اس باب میں یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ان امور کی جزئیات اپنے اپنے دور کے لیے اور اپنے اپنے عصری تقاضوں کے مطابق تھیں۔ اس چیز کو میں اپنی تحریروں میں بار بار دہرا چکا ہوں۔ اور میرے نزدیک اسلامی نظام کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے۔

دوسرا حصہ یہ ہے کہ کسی دور میں کوئی ایسا اصول وضع کر لیا جائے جو قرآن کے خلاف جاتا ہے تو اس کے متعلق نہیں کہا جا سکے گا۔ کہ وہ اصول اس دور کے لیے صحیح تھا اور اس لیے اب نئے سانچے میں ڈھالنا چاہیے۔ یہ قرآن پر اضافہ ہے جو میرے نزدیک قطعاً جائز نہیں۔ مثلاً یہ عقیدہ کہ قرآن کے ساتھ قرآن کی مثل کچھ اور بھی ہے (مثلہ معہ) اور یہ وہ مجموعہ روایات ہے جسے رسول اللہ ﷺ کے دو اڑھائی سو سال کے بعد لوگوں نے انفرادی طور پر مرتب کیا۔ یہ ایک اصولی عقیدہ ہے جو قرآن کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن بے مثل و بے نظیر ہے۔ یہ عقیدہ نہ اپنے دور میں صحیح تھا اور نہ اسے آج ہی کسی اور سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک یہ عقیدہ خالص عجم کی سازش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس سے بہت ہی غیر قرٓانی چیزوں کو عین اسلام بنانا بالکل آسان ہو جاتا تھا۔ اگر قراان کے اندر محدود رہتا تو غیر قرآنی تصورات کو اسلام بنانے کی گنجائش نہ رہتی۔ اس قسم کی خلاف قرآن چیزوں کے متعلق میں کہتا ہوں کہ یہ بلا تامل و توقف رد کر دینے کے قابل ہیں، بلکہ یہ کہ جب تک انہیں رد نہ کیا جائے، حقیقی اسلام اجاگر ہو کر سامنے نہیں آ سکتا۔

یہ ہے مختصر الفاظ میں، اس ضمن میں میرا مسلک ۔ اس باب میں، میں نہ کسی حکمت تدریج کا قائل ہوںنہ اصول کو پس پشت ڈال کر انداز و اسلوب کو زیادہ موثر و جاذب بنانے کی مصلحت اندیشیوں کا حامی (حکمت تدریج کے اور مقام ہوتے ہیں) میرا خیال ہے کہ ہمیں اس قسم کی مصلحت کوشیوں کے ہاتھوں یہ دن دیکھنے نصیب ہوئے ہیں۔ اس لیے کوئی وقت تو ایسا آنا چاہیے جب ہم بلا محابا یہ کہہ سکیں کہ یہ کچھ دین ہے اور یہ کچھ دین نہیں۔ میں مبدا فیض کی اس کرم گستری پر قدم قدم پر سپاس گذار ہوں کہ اس نے مجھے یہ توفیق عطا فرمائی ہے۔ کہ میں قرآن کے معاملہ میں صاف صاف، بغیر لگی لپٹی، دو ٹوک بات کہہ سکوں اور اس پر بحضور رب العزت سجدہ ریز ہوں کہ

زبرون ورگشتم ز درون خانہِ گفتم

سخنے نہ گفتے راہ چہ قلندرانہ گفتم

دین کا نظام، پرویز صاحب کے نزدیک کس طرح قائم ہو سکتا ہے، اس پر پرویز صاحب اسباب زوال امت میں تتمہ کے طور پر لکھتے ہیں کہ

اضافہ

آخر میں، میں مختصر الفاظ میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ دین کا نظام قائم کس طرح ہوتا ہے۔ اس طرح کہ:

ایک آزاد مملکت اس امر کا علان کرے کہ اس کا تمام کاروبار قرآن کریم کے مطابق ہو گا۔

قرآن کریم میں کچھ احکام و قوانین، متعین شکل میں دیئے گئے ہیں اور بعض اقدار اصول کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔ قرآن کے اصول و قوانین ہوں یا اقدار، سب غیر متبدل ہیں اور تمام مسلمانوں پر ہمیشہ کے نافذ العمل رہنے کے لیے دی گئی ہیں۔

جن اقدار کے صرف اصول دیئے گئے ہیں، مملکت کے ارباب فکر و نظر، نمائندگان ملت ، ان اصولوں کی روشنی میں، اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق، ان کی جزئی مرتب کریں گے۔ جو کچھ پیچھے چلا آ رہا ہے، اس میں جو قوانین ایسے ہوں گے جوقرآنی اصولوں کے مطابق ہوں اور جو ہمارے زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں، انہیں ویسے ہی رہنے دیا جائے گا۔ جن میں تبدیلی کی ضرورت ہو گی، ان میں تبدیلی کر لی جائے گی۔ جہاں نئے قانون کی ضرورت ہو، نیا قانون بنا لیا جائے گا۔ اس طرح قرآن کے اصول غیر متبدل رہیں گے اور ان کے اندر وضع کردہ قوانین، زمانے کی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ بدلتے جائیں گے۔ یوں مستقل اور قابل تغیر و تبدل عناصر کے حسین امتزاج سے، کاروان ملت آگے بڑھتا چلا جائے گا۔

دین کا مقصد، انسان کے اس دنیا کے معاملات کو اس طرح حل کرنا ہے کہ اس سے وہ فساد (ناہمواری) ختم ہو جائے جس کی وجہ سے افراد اور اقوام اس بری طرح جہنم کے عذاب میں گرفتار ہیں ارو اس کے ساتھ ہی افراد کی ذات کی نشوونما اس طرح ہوتی جائے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی کی ارتقائی منازل طے کرنے کے قابل ہو جائے۔ اگر اس سے نتائج مرتب نہیں ہوتے، تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں کہیں خرابی ہے۔ اس خرابی (یا خربیوں کا سراغ ہمیں قراان کریم کی روشنی میں مل سکتا ہے۔ میری حقیر کوششوں سے مقصود یہ ہے کہ ہم خرابیوں کا ازالہ کر کے دین کے نظام کو انہی خطوط پر متشکل کر سکیں جن پر یہ حضور رسالت مآب ؐ کے عہد مبارک میں استوار ہوا تھا۔

اس کے ساتھ اتنا اور سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک وہ نظام قائم نہ ہو، (جسے خلاف علی منہاج رسالت کہا جاتا ہے) اس وقت تک امت جس جس طریق سے اسلام کے ارکان کو ادا کرتی چلی آ رہی ہے، اس میں نہ کوئی تبدیلی کی جائے اور نہ کوئی نیا طریقہ وضع کیا جائے۔ اس سے خواہ مخواہ مزید اختلاف اور انتشار پیدا ہو گا۔ البتہ جو نطریات و تصورات یا رسوم اور رواج قرآن کے خلاف رائج ہیں، ان کی بابت یہ بتایا جائے کہ یہ قرآن کے خلاف رائج ہیں۔ اور قرآنی نظام کی صحیح شکل کو اجاگر کر کے امت کو اس طرف آنے کی دعوت دی جائے۔ جب وہ نظام قائم ہو جائے، تو یہ اس کا فریضہ ہو گا کہ دیکھے اور فیصلہ کرے کہ مسلمانوں کے موجودہ اختلافات کو مٹا کر ان میں پھر سے وحدت فکر و عمل کیسے پیدا کی جائے جو عہد رسالت مآب میں وجہ بالیدگی ملت تھی۔ میری کوشش بس اتنی ہے۔

ہم اسلامی ثقافتی مرکز والوں اور دیگر معترضین سے صرف اتنی گذارش کریں گے کہ اگر ان کا اللہ پر ان معانی میں ایمان ہے کہ انہوں نے ایک دن اس کے حضور پیش ہونا ہے اور ان سے ایک ایک بات، قول، فعل، عمل، دلوں میں اٹھنے والے خیالات اور نگاہوں کی خیانت تک کا حساب لیا جائے گا، تو اپنی اس قسم کی حرکتوں کو آئینہ قرٓان میں دیکھنے کی کوششیں کریں۔ اور سیاق و سباق سے توڑ کر پرویزؒ صاحب کی تحریروں کو غلط رنگ میں پیش نہ کریں۔

حضور نبی کریمﷺ کی ذات اقدس و اعظم سے ان کی عقیدت اور ان کے احترام کا اظہار ان کی متعدد تحریروں سے ہوتا ہے اس کی ایک جھلک آپ اس مقالے کی ابتدا میں دیکھ چکے ہیں۔ ہم آپ کے سامنے ان کے اپنے الفاظ میں ان کی عقیدت اور ان کے احترام کی ایک اور تصویر پیش کرتے ہیں جسے دیکھ لینے کے بعد پرویزؒ صاحب کے معتقدات کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ رہنا چاہیے۔ وہ اپنی کتاب شاہکار رسالت میں اپنی گذرگاہ خیال کے باب میں لکھتے ہیں کہ اپنے ابتدائی دور میں جب وہ روائتی اسلام کےلٹریچر بالخصوص احادیث میں ایسی باتیں پڑھتے جو کسی طور پر حضور نبی اکرمﷺ کے شایان شان نہ ہوتیں تو بے حد مضطرب ہو جاتے۔

یوں کہیے کہ میں اس زمانے میں لاَ کی مزل سے گزر رہاتھا اور الا ہنوز میرے سامنے نہیں آیا تھا۔ ان حالات میں عین ممکن تھا کہ میں اسلام ہی سے برگشتہ ہو جات اہے۔ لیکن (میری انتہائی خوش بختی کہ) اس ورطہ لا میں ایسا جذبہ موجود رہا جو ان تلاطم خیزیوں میں میری کشتی کا لنگر بن گیا اور وہ جذبہ تھا حضور نبی اکرمﷺ کی ذات اقدس و اعظم کے ساتھ میری بے پناہ عقیدت ہی نہیں محبت۔ میرا ایمان تھا کہ ایسی عظیم ہستی، جس نے انسانوں کی داخلی اور خارجی دنیا میں ایسا تحیر انگیز انقلاب برپا کر دیا تھا، نہ تو (معاذ اللہ) فریب خوردہ ہو سکتی ہے نہ فریب کار، اس لیے جب آپؐ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید نہ میری، نہ کسی اور کی فکری تخلیق ہے بلکہ یہ خدا کا کلام ہے، تو مجھے اس دعویٰ کو یوں ہی نہیں جھٹک دینا چاہیے، انتظار کرنا چاہیے تاآنکہ میں قرآن کو خود سمجھتے کے قابل ہو جائوں۔ بس یہ تھا ایک سہارا ( اور کس قدر محکم سہارا) جس نے مجھے ان طوفانوں میں تھامے رکھا اور میرے پائوں میں لغزش نہ آنے دی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے کم کشش کی کوئی قوت مجھے اس ورطہ میں سنبھال نہیں سکتی تھی۔ سچ ہے۔

تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو

عشق خوداک سیل ہے، سیل کو لیتا ہے تھام

کس قدر احسان عظیم ہے اس ذرہ ناچیز پر اس آفتاب عالم تاب کا جس کی رحمۃ اللعالمیتی کے تصدق مجھے منزل ملی، مقام ملا، مدعا ملا

کوثر چکد از لبم، بایں تشنہ لبی

خاور دمد از شبم، بایں تیرہ شبی

اے دوست ادب کہ در حریم دل ماست

شاہنشاہ انبیاؐ ر سول عربی

(56/33) شاہکار رسلات صفحہ 36 ایڈیشن 1994)

قرآن کریم کے ایک معروف سکالر ڈاکٹر سید عبدالودود صاحب

جو قرآن اور سائنس کے موضوع پر Quran and the Phenomena of Nature اور The Heavens The Earthland and the Quran جیسی مشہور زمانہ کتابوں کے مصنف ہیں اور جنہوں نے Gateway to the Quran اور Conspiracies Against Quran جیسی کتابیں بھی تصنیف کی ہیں، پرویزؒ صاحب کے متعلق لکھتے ہیں

علامہ پرویزؒ صاحب کا شمار چوٹی کی ان نابغہ روزگار علمی شخصیات میں ہوتا ہے کہ جو پچھلی دو صدیوں میں برصغیر پاک و ہند میں پیدا ہوئیں۔ ان کا فلسفہ، فلسفہ قرآن تھا۔ انہوں نے قرآن کریم کا اس گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا کہ اپنے اوائل عمر ہی سے قرآن کریم پر ان کی فراواں تحریریں مفصل، صاف و صریح ، قابل فہم، غیر مبہم اور موثر انداز لیے ہوئی تھیں۔ انہوں نے جو کچھ سمجھا اور تحریر پیش کیا، وہ بالعموم قرآن حکیم ہی کی تعلیمات پر مبنی ہوتا تھا۔ قرٓانی موضوعات پر ان کی تقریریں ایسی دل نشین اور موثر ہوا کرتی تھیں کہ فوراً سامعین کے دل و دماغ میں سرایت کر جاتی تھیں، یہاں تک کہ انہیں ایک دفعہ سننے والا زندگی بھر کے لیے ان کے درس قرآن کا مستقل سامع بن جاتا’’

(اقتباس از ترجمہ پیش لفظ دولت پرویزؒ صفحہ1)