Dars-e-Quran by Allama G.A Parwez Sura 2 Verse 125-134 Chapter 29
Verse-No/Video Ayat Urdu Mafhoom Lughat Prevaling Translation Refrence Q & A remarks
Sura 2 Verse 125 وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ﴿١٢٥﴾ ابراہیم علیہ السلام کا قائم کردہ یہی وہ نظام تھا جس کا مرکز‘ کعبہ قرار دیا گیا تھا‘ تاکہ تمام نوع انسان‘ اپنے اختلافات دُور کرکے‘ ایک نقطہ پر جمع ہوجائے اور اس طرح‘ ہر قسم کے خطرات سے (جو گروہ بندیوں اور قومیت پرستی کا لازمی نتیجہ ہوتے ہیں) محفوظ ومامون ہوجائے.... یہی وہ مرکز ہے جس پر نوع انسان نے آخر الامر جمع ہونا ہے۔ اِسی سے اِنسانیت اپنے پاﺅں پر کھڑی ہونے کے قابل ہو سکے گی۔ (3: 96) ، ( 5 : 97 ) ، ( 14 : 35 ) ، ( 22 : 25 )۔اگر تم بھی مقامِ ابراہیمی حاصل کرنا چاہتے ہو‘ تو اُس کے مسلک ومنہاج کے پیچھے پیچھے چلو۔ہم نے (معماران حرم) ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام سے تاکید کی تھی کہ وہ اِس مقام کو عالمگیر نظامِ انسانیت کا مرکز بنائیں‘ اور اُسے ‘ انسانوں کے خود ساختہ تصورات ومعتقدات سے پاک وصاف رکھ کر‘ اُس جماعت (2 :143) کی تنظیم و تربیت کے لئے مخصوص کر دیں جس کاشیوہ زندگی یہ ہے کہ وہ قوانین خداوندی کے سامنے جھک کر‘ اور اُن کی پوری پوری اطاعت کرکے‘ ایسی پوزیشن اختیار کرلے کہ وہ تمام اقوامِ عالم کی نگران وپاسبان ہو‘ اُن کے اُلجھے ہوئے معاملات کو سنوارے‘ اور اُن کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو مجمتع کرے۔125   ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ﺛواب اور امن وامان کی جگہ بنائی، تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو، ہم نے ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ سے وعده لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔125   Sura 2 Verse 125  
Sura 2 Verse 126 وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـٰذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلًا ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَىٰ عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿١٢٦﴾ ابراہیم علیہ السلام نے اِس مرکزیت کا بنیاد رکھ دی اور خدا سے التجا کی ‘ اے وہ جو تمام کائنات کی نشوونما کا سامان بہم پہچانے والا ہے! تو ایسا کر دے کہ یہ مقام‘ ساری دنیا کے ستائے ہوئے انسانوں کے لئے‘ امن اور پناہ کی جگہ بن جائے (95 :3) ‘ اور اُن میں سے جو لوگ تیرے قوانین کی صداقتوں پر یقین‘ اور مستقبل کی زندگی پر ایمان رکھیں‘ خواہ وہ کہیں کے رہنے والے بھی کیوں نہ ہوں (22 :25) ‘ اُنہیں زندگی کی آسائشیں اور سامانِ زیست کی فراوانیاں عطا کر دے۔ (14 :37) ۔خدا نے کہا کہ بیشک اِن لوگوں کو یہ کچھ ملے گا۔ باقی رہے وہ جو اِس سے اِنکار کرینگے‘ تو ہمارے طبیعی قوانین کے مطابق ‘ اُنہیں بھی زندگی کے عاجلہ مفاد ضرور حاصل ہوں گے (17 :18-20) ‘ لیکن انجام کار وہ نہایت بے بسی کی حالت میں مصیبت کی زندگی کی طرف کھنچے چلے جائیں گے....کس قدر سوختہ بخت ہے وہ قوم جس کا مآل یہ ہو!126   جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار! تو اس جگہ کو امن واﻻ شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں، پھلوں کی روزیاں دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں کافروں کو بھی تھوڑا فائده دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بےبس کردوں گا، یہ پہنچنے کی جگہ بری ہے۔126   Sura 2 Verse 126  
Sura 2 Verse 127-128 وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿١٢٧﴾ اِن حسین تمناﺅں اور مقدس آرزوﺅں کے ساتھ‘ ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام نے اِس مرکز نظام ِخداوندی کی بنیاد رکھی تھی۔ اُن کے ہاتھ اِس کی تعمیر میں مصروف تھے‘ اور لب پر یہ وجد انگیز دعائیں تھیں کہ‘ اے ہمارے نشوونما دینے والے! تو ہماری اِن ناچیز کوششوں کو شرفِ قبولیت عطا فرما دے‘ کہ تو دِل میں مچلنے والی آرزوﺅں کو جانتا اور لب تک آنے والی تمناﺅں کو سنتا ہے‘ اِس لئے تو خوب جانتا ہے کہ ہم کن اِرادوں کے ماتحت اِس مرکز کی تعمیر کے لئے کوشاں ہیں۔127   ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے۔127   Sura 2 Verse 127-128  
Sura 2 Verse 127-128 رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿١٢٨﴾ اور وہ ارادے اِس کے سوا کیا ہیں کہ‘ اِس مرکز کے ساتھ وابستہ رہ کر‘ ہم تیرے ضابطہ قوانین کے مطابق زندگی بسر کریں اور ہمارے سر اِس کے سامنے جھکے رہیں....نہ صرف ہم ہی‘ بلکہ ہماری آنے والی نسلوں میں بھی وہ لوگ پیدا ہوں جو ‘ اِسی طرح‘ تیرے قوانین کی اِطاعت کرنے والے ہوں۔اے ہمارے نشوونما دینے والے! تو ہمیں وہ طور طریق بتا دے جن سے ہم اِس مقصد عظیم کے حصول میں کامیاب ہو جائیں‘ اورتیری عنایات وانعامات کا رُخ ہماری طرف رہے۔ اِس لئے کہ تیرا ہی قانون وہ قانون ہے کہ ‘ جو نہی کسی نے اُس کی طرف رُخ کیا‘ وہ اپنے سامانِ رحمت و ربوبیت کو لئے خود اُس کی طرف بڑھ آیا (2 :186) ۔128   اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے۔128   Sura 2 Verse 127-128  
Sura 2 Verse 129-130 رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾ اے ہمارے پروردگار !ہماری اولاد میں یہ سلسلہ اِسی طرح قائم رہے‘ تانکہ اُن میں سے‘ اِس دعوتِ انقلاب کو لے کر‘ وہ رسول اُٹھ کھڑا ہو جو تیرے ضابطہ قوانین کی اُس کی آخری اور مکمل شکل میں اُن کے سامنے پیش کر دے (6 :116) ۔ اُنہیں اس ضابطہ (کتاب) کی تعلیم بھی دے‘ اور یہ بھی بتائے کہ اِن قوانین کی غرض وغایت کیا ہے اور ان پر عمل کرنے سے کیا نتائج مرتب ہوں گے ( 2 : 231 )، ( 17 : 39 ) ، ( 33 : 34 ) ۔ اور(صرف نظری طور پر ہی یہ تعلیم نہ دے ‘ بلکہ عملاً ایسا نظام متشکل کر دے جس میں) لوگوں کی صلاحیتوں کی برومندی اور اُن کی ذات کی نشوونما ہوتی جائے۔اِس قسم کی نشوونما‘ قوت اور حکمت‘ دونوں کے امتزاج سے ہو سکتی ہے ‘ اور اِن دونوں کا امتزاج ‘ تیرے متعین کردہ نظام ہی کے اندر ممکن ہے (57 :25) ۔129   اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے۔129   Sura 2 Verse 129-130  
Sura 2 Verse 129-130 وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ﴿١٣٠﴾ یہ تھا وہ مسلک ِزندگی جس پر ابراہیم علیہ السلام گامزن تھا.... وہ مسلک جس سے اُسے اِس دنیا میں بھی ممتاز اور برگزیدہ زندگی حاصل ہو گئی تھی ‘ اور جس سے آخرت میں بھی اُس کا شمار اُن خوش بخت لوگوں میں ہو گا جو اُس بلند وبالا زندگی کے بسر کرنے کی صلاحیتیں اپنے اندر رکھتے ہیں۔ ( 16 : 120 - 122 )۔اب غور کرو‘ کہ جو شخص ایسے مسلک ِحیات سے روگردانی کرکے‘ دوسرے راستوں پر چل نکلے‘ وہ اگر فریب ِنفس میں مبتلا نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ روش وہی شخص اختیار کر سکتا ہے جس نے کبھی اپنے متعلق غوروفکر سے کام ہی نہ لیا ہو۔ جس نے کبھی سوچا ہی نہ ہو کہ انسانی ذات کی قدر وقیمت کیا ہے اور اس کی صلاحیتوں کی برومندی کس قد ر ضروری ہے۔130   دین ابراہیمی سے وہی بےرغبتی کرے گا جو محض بےوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیده کیا تھا اور آخرت میں بھی وه نیکوکاروں میں سے ہے۔130   Sura 2 Verse 129-130  
Sura 2 Verse 131-134 إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٣١﴾ یہ تھا مسلک ِابراہیمی علیہ السلام ....یعنی اُس ابراہیم علیہ السلام کا مسلک کہ جب اُس کے نشوونما دینے والے نے اُس سے کہا کہ ہمارے قوانین کے سامنے جھک جاﺅ‘ تو وہ اِس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے‘ اُن قوانین کے سامنے پوری طرح جھک گیا.... اُن قوانین کے سامنے جن کی رُو سے تمام کائنات کی نشوونما ہو رہی ہے۔131   جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی۔131   Sura 2 Verse 131-134  
Sura 2 Verse 131-134 وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٣٢﴾ وہ خود بھی اِس مسلک پر قائم رہا‘ اور اپنے بیٹوں کو بھی اِسی پر قائم رہنے کی تلقین کی۔ اِسی طرح ‘ (اِن یہودیوں کے جدامجد‘ اسرائیل‘ یعنی)یعقوب علیہ السلام نے بھی‘ اِسی مسلک کی تلقین کی۔ اِس نے اپنی اولاد سے کہا کہ یہی وہ نظام ِزندگی ہے جسے خدا نے تمہارے لئے منتخب کیا ہے۔ لہٰذا‘ تمہیں ‘ اپنی تمام زندگی اِس کے مطابق بسر کرنی چاہئے‘ اور مرتے دم تک اِس کی اِطاعت کرتے رہنا چاہئے۔132   اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا۔132   Sura 2 Verse 131-134  
Sura 2 Verse 131-134 أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَـٰهَكَ وَإِلَـٰهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿١٣٣﴾ کیا تمہیں معلوم ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے مرتے وقت اپنی اولاد سے کیا کہا تھا؟ اُس نے اُن سے پوچھا تھا کہ تم‘ میرے بعد‘ کس کی محکومیت اختیار کروگے ؟ اُنہوں نے کہا کہ اُس خدا کے قوانین کی جو تیرا بھی خدا ہے‘ اور تیرے آباء‘ ابراہیم علیہ السلام واسمٰعیل علیہ السلام واسحاق کا بھی خدا۔ وہ خدا جس کے سوا کائنات میں کسی کا اقتدار واختیار نہیں۔ ہم اُس کے قوانین کے سامنے سر بسجود رہیں گے۔133   کیا (حضرت) یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اوﻻد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباواجداد ابرہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ اور اسحاق ﴿علیہ السلام﴾ کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔133   Sura 2 Verse 131-134  
Sura 2 Verse 131-134 تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٣٤﴾ یہ تھے(اِن) یہودیوں کے اسلاف‘ جن میں سے ہر ایک نے قانون خداوندی کے مطابق اپنی عمر بسر کی۔ اب اُن کے یہ اخلاف ہیں جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ یہ محض‘ اُن کی اولاد ہونے کی بنا پر‘ زندگی کی اُن تمام خوشگواریوں سے بہرہ یاب ہوجائیں گے جو اِنکے بزرگوں کو‘ اُن کے حسن عمل کی بدولت ملی تھیں۔ اِن سے کہو کہ اعمال کے نتائج اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ اِس میں وراثت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو کچھ اُنہوں نے کیا‘ اُسکے ثمرات وبرکات اُن کے حصے میں آئے۔ جو کچھ تم کرو گے‘ اُس کا پھل تمہیں ملے گا۔ تم سے‘ تمہارے اعمال کی بابت پوچھا جائے گا۔ یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے اسلاف کے اعمال کس قسم کے تھے۔134   یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے۔134   Sura 2 Verse 131-134