Sura 2 Al Baqara Ayha 7 by Allama G.A.Parwez (download video)

درس قرانِ حکیم مفکر قرآن علامہ غلام احمد پرویزؔ

سورۃ البقرۃ  (2) ( آیت نمبر  مسئلہ تقدیر اور اس کا حل )Sura 2 Al Baqara Ayha 7

عزیزان من ! آج جون 1968 ء کی 30 تاریخ ہے اور ہم اپنے قرآنِ کریم کے سلسلۂ نو کی ابتدائی آیات میں ہیں۔ آج سورۃ البقرۃ کی 7 ویں آیت زیرِ درس آئے گی : (2:7)

خدا خود ہی انسانوں کے دلوں پر مہر لگائے اور پھر خود ہی عذاب دے ۔یہ کیوں؟

سابقہ آیت میں‘ میں نے یہ بتایا تھا کہ یہ دو آیات ہیں جن کا صحیح مفہوم سامنے نہ ہونے کی وجہ سے صدیوں سے ہمارے ہاں بڑی الجھنیں سی پیدا ہوتی چلی آرہی ہیں۔ ان میں ایک آیت یہ ہے کہ

  اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ (2:6) ۔ اس کا عام ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ یہ جو کافر ہیں‘ ان کے لیے برابر ہے چاہے تُو انہیں ان چیزوں سے آگاہ کرے یا نہ کرے‘ وہ تو ایمان لائیں گے ہی نہیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں آپ دیکھیے کہ اس مفہوم کی رو سے پہلی دشواری تو یہی آتی ہے کہ اگر کافر ایمان ہی نہیں لائیں گے تو پھر یہ سارا سلسلۂ رشد و ہدایت کیا ہوا؟ یہی کہ وہ کافر ہیں‘ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ بہرحال یہ مرحلہ ہم نے پچھلے درس میں طے کرلیا تھا کہ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے۔ کہا تھا کہ یہ جو   اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا   (2:6) ہے‘ یہ کچھ کرنے کا کام ہے۔ جو لوگ یہ کرتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کے بعد اگلی الجھن اس سے پیدا ہوتی ہے کہ   خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ  ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِ‌هِمْ غِشَاوَةٌ  ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (2:7) ۔ وہ ایمان کیوں نہیں لائیں گے؟ اس لیے کہ خدا نے ان کے دلوں پر مہریں کردی ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ یہ ترجمہ الجھن در الجھن پیدا کرتا چلا جاتاہے۔ کافر ایمان نہیں لائیں گے تو یہ سارا ہی سلسلۂ رشد و ہدایت ( معاذ اللہ ) بیکار ہوگیا۔ وہ ایمان لائیں گے کیوں نہیں؟ اس لیے کہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں۔ چلیے یوں ہی سمجھ لیا کہ یہ تو نظری چیز ہے‘ اور یہ کہ ان کے لیے   عَذَابٌ عَظِيمٌ (2:7) ہے اور انہیں بہت بڑا عذاب دیا جائے گا !! اللہ نے مہریں لگا دیں‘ اس لیے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے یا لاسکتے نہیں اور پھر انہیں عذاب بھی دیا جائے گا‘ آخر یہ کیوں؟

صدیوں پہلے غلط کہی ہوئی بات آج تک ذہنوں پر اثر انداز ہورہی ہے

میں نے عرض کیا تھا کہ قرآنِ کریم کا صحیح مفہوم سامنے نہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کی ساری دشواریاں لاحق ہوتی ہیں۔ اور انسان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ صدیوں پہلے کسی ایک شخص نے‘ بہرحال انسانی ذہن تو ہے غلطی کر جاتا ہے‘ بات کو غلط سمجھا اور اس کے بعد وہ بات جو آگے چلی ہے تو تقلیداً چلتی آرہی ہے۔ سند یہ ہے کہ اسلاف نے یہ کہہ دیا۔ پہلے تو وہ سلف میں ایک ہی تھا اور وہ جو آگے جوں جوں زمانہ گزرتا چلا گیا‘ وہ سلف اسلاف میں بدلتے چلے گئے۔ اب وہ   Snowball   ( گولہ برف ) کی طرح وہ جو اتنی سی غلطی ہے‘ وہ اتنا بڑا ضخیم طو مار بن کر آگے آگئی۔ جوں جوں آگے بڑھی یہ سند اور محکم ہوتی گئی۔ پہلے سلف نے یہ کہا تھا اب اسلاف نے یہ کہا۔

کسی فرد کا سمجھا ہوا قرآن دوسرے کے لیے سند نہیں ہوسکتا

قرآنِ کریم نے اسی لیے ہرنسل اور ہرنسل کے ہر فرد کے لیے لازم قرار دیا تھا کہ وہ از خود قرآن پہ غور کرے۔ نہ کسی فرد کا سمجھا ہوا قرآن دوسرے کے لیے سند ہوسکتا ہے‘ نہ کسی ایک   Age   یا دور کا سمجھا ہوا قرآن کسی آنے والے زمانے کے لیے سند اور حجت ہوسکتا ہے۔ سند اور حجت‘ اور قرآن کے سمجھنے کے لیے انسانی علم اور بصیرت ازبس ضروری ہے۔

بہرحال پچھلی آیت تو سابقہ درس میں ہمارے سامنے آگئی تھی کہ یہ بات نہیں ہے کہ جو   Non Muslims   ( غیر مسلم ) ہیں وہ ایمان ہی نہیں لائیں گے‘ ان کے لیے برابر ہے کہ تُو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے یہاں   Muslim   ( مسلم ) اور   Non Muslim   ( غیر مسلم ) کا   Question   ( سوال ) نہیں ہے۔

دلوں پر مہریں لگنے کی اصلی وجہ تو انکے اپنے اعمال ہوتے ہیں

اب اگلی بات آئی کہ   خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ   (2:7) ۔ بات ذرا سی ہے۔ سمجھا یوں گیا کہ وہ جو کافر ہوئے ہیں‘ جو ایمان نہیں لائیں گے‘ وہ اس لیے ایمان نہیں لائیں گے کہ ان کے دلوں کے اوپر مہریں لگی ہیں۔ اور اس بات کو ذرا سا یوں لٹا دیجیے کہ چونکہ ان کے دلوں کے اوپر مہریں ہیں‘ اس لیے ان کے لیے برابر ہے چاہے تُو سمجھائے یا نہ سمجھائے یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی علت یہ ہے۔ یہ تو میں ابھی سمجھاؤنگا کہ اس کے کیا معنیٰ ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ سمجھ لیجیے کہ یہ کیوں ہے؟ پھر سمجھ لیجیے کہ ان کے دلوں کے اوپر مہریں کیوں لگی ہوئی ہیں؟ ہم نے یہ سمجھا کہ وہ اس لیے کافر ہوئے ہیں کہ ان کے دلوں کے اوپر مہریں لگی ہوئی ہیں۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ ان کے دلوں کے اوپر مہریں اس لیے لگی ہوئی ہیں کہ وہ کفر کرتے ہیں۔ یعنی کفر ایک   Positive Attitude   ( مثبت رویہّ ) ہے‘ ذہنیت ہے‘ عمل ہے‘ فیصلہ ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اس سے دلوں کے اوپر مہریں لگ جاتی ہیں۔ کفر کی وجہ سے دلوں کے اوپر مہریں لگتی ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ خدا نے پہلے مہریں لگا دی ہیں اس لیے وہ کفر کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔ یہ اس کے اندر دو آیتوں میں علت اور معلول   (Cause & Effect)   ہے۔ پھر سمجھ لیجیے کہ کفر اس لیے نہیں کرتے کہ اللہ نے دلوں پہ مہریں لگا دی ہیں۔ مہریں اس لیے لگتی ہیں کہ وہ کفرتے ہیں۔

کفر کا قرآنی مفہوم کسی حق بات کو عقل وفکر کی بنا پر سمجھنے سے ’’انکار کرنے ‘‘ کا ہے

کفر کا میں نے پچھلی دفعہ سمجھایا تھا کہ اگر ہر فردوہ کچھ کرے جو قرآن نے کرنے سے منع کیا تھا تو وہ اس وقت کفر کرتا ہے۔ اس میں پہلی چیز یہ تھی کہ وہ کہتا یہ ہے کہ میں سمجھنے سوچنے سے کام نہیں لونگا۔ اسے کہا تھا کہ یہ کفر کر رہا ہے۔ جو یہ کہتا ہو کہ میں سمجھنے سوچنے سے کام نہیں لینا چاہتا‘ اب اس کے لیے برابر ہے خواہ تُو اس کو ڈرائے یا نہ ڈرائے‘ آگاہ کرے یا نہ کرے۔ اور یہی چیز ہے جس نے اس کے دل پہ مہر لگا دی ہے کہ پھر وہ سمجھنے سوچنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ جو میں نے کہا ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں کے اوپر مہریں لگیں‘ یہ نہیں ہے کہ میں اپنے طور پر اس منطقی نتیجے پہ پہنچا ہوں۔

قرآن حکیم کو سمجھنے کا طریق تصریفِ آیات ہے

میں نے آپ سے عرض کیا تھا اور بار بار یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآنِ کریم کے سمجھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک مقام پہ جو بات آئی ہو اس کے لیے یہ دیکھیے کہ قرآنِ کریم کے دوسرے مقامات میں اس کے لیے کیا آیا ہے۔ قرآن کا سمجھنے کا یا قرآن کا اپنے آپ کو سمجھانے کا طریقہ تصریفِ آیات ہے۔ اور تصریفِ آیات کے معنی ہوتا ہے بات کو پھیر پھیر کر‘ لوٹا لوٹا کر‘ مختلف مقامات پر‘ اس کے مختلف گوشوں کو سامنے لانا۔ سارے قرآن کا یہی انداز ہے۔ قرآن کی کسی بات کو کسی ایک مقام پہ نہ سمجھیے‘ یہ دیکھیے کہ اس کے متعلق باقی مقامات میں کیا کہا گیا ہے۔ اور یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اگر آپ کے سامنے یہ تمام متعلقہ مقامات آجائیں تو پھر کوئی آیت ایسی نہیں رہتی جو سمجھ میں نہ آئے اور اس کا ایک متعین   (Definite)   اور Precise   ( واضح‘ غیر مبہم ) مفہوم آپ کے سامنے نہ آجائے۔ یہ جو اور باتوں کے علاوہ آج کل بھی عام طور پر چرچا کیا جاتا ہے کہ صاحب ! ٹھیک ہے قرآن کا متن تو متفق علیہ ہے لیکن اس کی تعبیرات میں اتنا اختلاف ہے کہ پھر اس متن کا متفق علیہ ہونا کچھ معنی ہی نہیں دیتا کہ جی ! یہ بیکار ہوگیا   !!

قرآن کا دعوٰی یہ ہے کہ اس میں کوئی ایک بھی اختلافی بات نہیں‘ کوئی تضاد نہیں

خدا یہ کہہ رہا ہے کہ اگر قرآن خدا کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلافات ہوتے۔ متن تو متفق علیہ ہے‘ اب اگر اس متن کی کیفیت یہ ہے کہ وہ ہر سمجھنے والے یا ہر شخص کو اس کی مرضی کے مطابق معنی دیتا چلا جاتا ہے یعنی اس کتاب کا یہ نقص ہے ( معاذ اللہ ) تو اس کے متن کا متفق علیہ اور محفوظ رہنا کیا فائدہ دیتا ہے۔ یہ ساری الجھنیں اس لیے ہیں کہ قرآن کے اوپر نگاہ نہیں ہے ورنہ قرآن نے جس انداز سے اپنے آپ کو سمجھایا ہے‘ اگر اس انداز سے سمجھ لیا جائے تو یہ مشکل پیدا ہی نہیں ہوتی۔ عزیزانِ من ! چھوٹا منہ اور بڑی بات‘ چونکہ ایک عمر گزر گئی ہے اسی دشت کی سیاحی میں‘ اس لیے یہ چیز تو میں اپنے تجربے کی بنا پہ آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ قرآن کی کوئی آیت ایسی نہیں ہے‘ اس کا کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جسے اس نے خود اس طرح سے نہ سمجھا دیا ہو۔ اس کے کبھی دو معنی ہو ہی نہیں سکتے۔ بہرحال میں کہہ یہ رہا تھا کہ ان دو آیتوں کے اندر ربط یوں ہے کہ یہ نہیں ہے کہ چونکہ ان کے دلوں پہ پہلے سے مہر لگ گئی ہوئی ہے اس لیے وہ کفر کرتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ چونکہ وہ کفر کرتے ہیں‘ اس وجہ سے ان کے دلوں کے اوپر مہریں لگ جاتی ہیں۔ یوں کہیے کہ چونکہ وہ یہ چیز کہتے ہیں کہ ہم سمجھنا سوچنا چاہتے ہی نہیں ہیں‘ اس روش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ سمجھنے سوچنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے میں نے کہا تھا کہ میں خود اس نتیجے پہ نہیں پہنچا۔ سورۃ النسآء (4:155) میں اوپر سے یہودیوں کا ذکر چلا آرہا ہے جو کچھ وہ کرتے تھے‘ اس کے بعد یہ ہے کہ  بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِ‌هِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا   (4:155) ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں کے اوپر مہریں لگ گئیں۔ وہ دیکھا جو میں نے ابھی عرض کیا تھا کہ دل پہ مہریں لگنے کی وجہ سے کفر نہیں کیا بلکہ کفر کی وجہ سے دل پر مہریں لگ گئیں :   بَلْ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِ‌هِمْ   (4:155) ۔

مہریں پہلے نہیں لگتیں بلکہ پہلے انسان کفر اختیار کرتا ہے

اب یہ چیز کہ ان سب نے یہ کہا ہوا ہے کہ اللہ نے مہریں لگا دیں۔ یہ بات میں آگے چل کر واضح کرونگا۔ سرِدست اتنا سا سمجھتے چلے جائیے جو میں عرض کر رہا ہوں کہ یہ کفر کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ یہ نہیں تھا کہ پہلے مہریں لگی ہوئی تھیں اس لیے انہوں نے کفر کیا‘ اب نہ مہریں توڑ سکتے ہیں نہ ایمان لاسکتے ہیں۔ یہ صورت نہیں ہے۔ کفر کی وجہ سے مہریں لگیں‘ کفر کرنا چھوڑ دیں گے تو مہریں ٹوٹ جائیں گے۔

دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ تقدیر اور عقیدہ جبر ہے

یہ آیت چونکہ شروع میں ہی آئی ہے‘ اس سے بہت بڑا مسئلہ جو صرف دین کا ہی نہیں بلکہ انسانی فکر کا‘ مذہب کی دنیا کا‘ بڑا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ اور یہ وہی ہے جسے ہمارے ہاں مسئلہ تقدیر کہا کرتے ہیں آپ نے   خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ (2:7) کہا تو انسان مجبور محض ہوکر رہ گیا‘ اللہ نے ان کے دلوں کے اوپر مہریں لگا دیں اور ان مہریں لگنے کی وجہ سے انہوں نے کفر کیا‘ کفر کیا تو ان کے لیے برابر ہے خواہ آگاہ کرو یا نہ کرو ‘وہ ایمان ہی نہیں لائیں گے۔ آپ نے دیکھا کہ کس طرح سے   Determinism   ( جبر ) کے اوپر آپ آگئے انسان صاحبِ اختیار رہا ہی نہیں لیکن آپ کو معلوم ہے کہ کس بات نے یہ   Suggestion   ( تجویز ) دی کہ نہیں ! جلدی سے یوں نہ سمجھ لو‘ بات کچھ گہرائی میں جانے کی ہے‘ سطحی بات نہیں ہے۔ کس چیز نے یہ Suggest   ( تجویز ) کیا؟ کس چیز نے آپ کے دل کے اندر یہ کھٹک پیدا کی؟ یہ خود آپ کے دل کے اندر کی کسی چیز نے نہیں کی۔ قرآن ہے‘ برادرانِ عزیز ! اس نے جو کہا ہے کہ   وَّ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ   (2:7) یہ ہے وہ مقام جہاں ایک غور کرنے والا کھڑا ہو جائے گا کہ اگر مہریں اللہ نے لگائی ہیں‘ اگر انہوں نے کفر اس کی وجہ سے کیا ہے‘ تو یہ جو اگلی چیز وہ کہہ رہا ہے کہ ان کے لیے عذاب عظیم ہے‘ یہ دو ایسی چیزیں ہیں جو آپس میں میل نہیں کھاتیں‘ ان میں ربط نہیں ہے‘ بڑی بے جوڑ سی چیز ہے‘ یہ دھاندلی ہے۔ قرآن پہ تدبر کا نتیجہ آپ نے دیکھا کہ کیا نکلا۔ ایسی چیز پہ اگر کوئی یوں گزر جاتا تو ذہن میں یہی ہوتا کہ ہاں صاحب ! مہریں خدا ہی لگاتا ہے‘ اس کی وجہ سے کفر ہوتا ہے۔ اب یہ سیدھی بات ہے کہ اگر تو خدا کے ہاں سے ہر شخص کے متعلق چیزیں پہلے سے طے شدہ ہیں کہ یہ ایمان لے آئے گا‘ یہ کفر کرے گا‘ اس لیے یہ باقی جو کچھ انسان کوششیں کرتا ہے‘ دھندہ کرتا ہے‘ یہ تو بے معنی چیز ہے۔ یہ ہے عقیدۂِ تقدیر۔ یہ سب سے بڑا اور قدیم مسئلہ ہے۔

تقدیر کے عقیدے کو ایمان کا جزو بنا دینے کی گہری سازش

یہ جو ہمارے ہاں کا عقیدہ چلا آرہا ہے اور اس قوم کی انتہائی بدقسمتی ہے اور میں کہہ رہا ہوں کہ اس کے خلاف کی گئی بڑی کامیاب سازش تھی کہ اس قوم کے اندر یہ عقیدہ دین کا جزو بنا دیا گیا۔ اس میں کہا ہے کہ   وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی   ۔ پانچ اجزائے ایمان تو قرآن نے بیان کیے تھے‘ سارے قرآن میں پانچ ہی ہیں کہ اللہ پر ایمان‘ ملائکہ پر ایمان‘ کتابوں پر ایمان‘ رسولوں پر ایمان‘ آخرت پرایمان۔ اب یہ چیز ہوئی کہ انسان کو جبر کے عقیدے پہ لایا گیا‘ اس کے لیے یہ اتنی گہری سازش ہوئی کہ آپ کے اجزائے ایمان میں ایک اور جز کا اضافہ کردیا گیا۔ اب جو آپ کے ہاں اجزائے ایمان ہیں وہ ہیں کہ   اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمٰلآءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ   ۔

عزیزانِ من ! ہماری نئی Generation   ( نسل ) کو تو خیر پتہ ہی نہیں ہوگا کہ یہ کیا ہے۔ یہ جو پرانے تھے تقسیم سے پہلے کے جو نکاح پڑھے ہوئے تھے اس میں نکاح کے وقت یہ پڑھایا کرتے تھے۔ بہرحال اس وقت بھی اس دولہا کو کیا پتہ چلتا تھا کہ کیا کہہ رہا ہوں۔ میں کہہ یہ رہا ہوں کہ آپ کے ہاں ایمان کے پانچ اجزا قرآن میں ہیں‘ سارے قرآن میں پانچ ہی ہیں۔ انہی پانچوں پہ ایمان لانے سے مومن بنتا ہے ان سے انکار کرنے سے کافر۔ آپ کے ہاں ایمان کا یہ چھٹا جزو بنا کر اس میں داخل کردیا ہوا ہے۔ یہ ہے   Fatalism   ( نصیبہ   )Determinism, (   جبریت ) کہ انسان مجبورِ محض ہے‘ یہ سب چیز خدا کی طرف سے ہوتی ہے‘ یہ پہلے سے مقدر ہے‘ لکھا ہوا ہے‘ قسمت کا لکھا جھولی میں پڑتا ہے۔ جب صورت یہی ہو کہ یہ سارا کچھ پہلے سے مقدر ہے‘ لکھا ہوا ہے‘ انسان میں کوئی اختیار و ارادہ نہیں‘ وہ اپنے کسی عمل کا ذمہ دار ہی نہیں رہتا تو صورتِ حال ہی بدل جاتی ہے۔

تقدیر کے اس غلط تصور نے مسلمانوں کو عمل سے فارغ کر دینے کی بنا پر قوتِ ارادی سے محروم کردیا

یہی چیز تھی جس کی وجہ سے اس قوم کی یہ حالت ہوگئی   :

عمل سے فارغ ہوا مسلماں‘ بنا کے تقدیر کا بہانہ

یہ وجہ ہے کہ اس آیت پہ میں نے پچھلی دفعہ کہا تھا کہ یہ معاملہ بڑا نازک ہے‘مسئلہ بڑا اہم ہے اور یہ سامنے آیا ہے‘ اس لیے اس کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے۔

قدرت کی طرف سے اس کرہ ارض پر انسان کیلیے سب سے بڑا عطیہ اسکا اختیار وارادہ ہے

عزیزانِ من ! زندگی جو اولیں جرثومے سے چلی ہے‘ ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی پیکرِ انسانی میں آئی ہے‘ تو یہاں پہنچنے کے بعد اس کے اندر ایک ہی تبدیلی ہوئی ہے اور وہ یہ ہے جو اسے روحِ خداوندی کا شمہ ملا ہے۔ روح کے معنی   Soul   نہیں ہے‘ اس کے معنی   Energy   ( توانائی ) کے ہیں یاد رکھیے ! یہ الوہیاتی توانائی ہے۔ یہ توانائی کیا چیز ہے؟ یہ ایک ہی چیز ہے جسے   Will Power   ( قوتِ ارادی ) کہتے ہیں‘ جسے   Will   ( ارادہ ) کہتے ہیں جسے Freedom   ( آزادی ) کہتے ہیں۔ اس سے پیشتر جہاں تک زندگی آئی ہے‘ کسی شے کو   Freedom of Action & Freedom of Thought ( آزادی فکر اور آزادی عمل ) حاصل نہیں تھی۔ تمام قانون کی زنجیروں کے اندر بندھے ہوئے چلے آرہے تھے۔ بکری کا بچہ پیدا ہونے کے ساتھ بکری ہوتا تھا‘ مرنے تک بکری رہتا تھا‘ اسے اپنی اس کیفیت میں تبدیلی پیدا کرنے کی قطعاً کوئی توانائی حاصل نہیں تھی‘ قوت‘ استعداد‘ صلاحیت حاصل نہیں تھی‘ بلکہ کسی میں بھی یہ حاصل نہیں ہے۔ وہاں تو

گندم از گندم بروید‘ جو زجو

از مکافاتِ عمل غافل مشو

پیچھے یہ کیفیت تھی۔

انسان کے پیکر میں آکر زندگی نے ایک بڑی چیز لی جو اس سے پیشتر صرف خدا کو حاصل تھی وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّ‌وحِهِ  ۖ   (32:9) کے یہ معنیٰ ہیں۔ کسی اور جاندار کے متعلق یہ نہیں کہا ہے۔ قرآن میں یہ ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھر یہ سمجھنے سوچنے فیصلہ کرنے کے قابل ہوگیا۔ نظر آگیا کہ روحِ خداوندی نے اس میں کیا کیا ہے۔ اس کو سماعت‘ بصارت‘ اور فواد‘ دیا یعنی یہ ذرائع علم دئیے اور اس کے بعد فیصلے کرنے کی قوت یعنی   Mind   دیا۔ یہ ہے وہ چیز جو انسان کو آکر ملی۔ یہی تو زندگی کی ایک خصوصیت ہے کہ جب یہ انسانی پیکر میں آئی ہے تو اسے یہ اختیار و ارادہ کی چیز حاصل ہوئی ہے۔ اب یہی وہ چیز ہے جس سے یہ اپنے تمام فیصلوں کا خود ذمہ دار ہو جاتا ہے۔ اس کا   Future   ( مستقبل ) پہلے سے لکھا ہوا نہیں ہے‘ یہ اپنا Future   ( مستقبل ) آپ مرتب کرتا ہے۔ اس کی لوحِ جبیں خالی سلیٹ ہوتی ہے جو پیچھے سے آتی ہے‘ یہ اس سلیٹ پہ اپنے ہاتھوں سے خود لکھتا ہے۔

دنیا بھر کے انسانوں کے لیے تقدیر کے مسئلہ کو قرآن حکیم نے بڑی خوبصورتی سے حل کر رکھا ہے

تقدیر کے عنوان کے اوپر تو میں کسی دوسرے وقت میں آونگا‘ میں اس وقت قرآنِ کریم کی صرف ایک چیز پیش کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ میں اربابِ بصیرت ہیں‘ اور اللہ کا شکر ہے‘ کہ اس ایک آیت سے یہ بات سمجھ لیں گے۔ اور میں کہتا ہوں کہ اگر اسی کے اوپر ہمارے ہاں غور کرلیا جاتا تو آپ کے ہاں کی تقدیر کا سارا مسئلہ حل ہو جاتا۔ سوال یہی ہے کہ میرا جو   Future   ( کل ) ہے‘ کیا وہ میرے ہاتھ میں ہے یا پہلے سے مرتب شدہ ہے اور مرتب شدہ بھی ایسا ہے کہ جس کے اندر میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا؟ پھر سن لیجیے کہ سوال یہ ہے کہ کیا اپنا مستقبل میں اپنے ہاتھوں سے خود بناتا ہوں یا وہ پہلے سے بنا ہوا ہوتا ہے اور میں اس میں کوئی   Change   ( تبدیلی ) بھی نہیں کرسکتا؟ میں نے عرض کیا ہے کہ اگر قرآنِ کریم کی ایک آیت بھی سامنے رکھ لی جاتی تو یہ سارا مسئلہ حل ہو جاتا۔ اور وہ سورۃ حشر کی 18 ویں آیت ہے اور بڑی اہم آیت ہے۔ اس قسم کی اور بھی متعدد آیات قرآنِ کریم میں ہیں‘ میں عرض کرونگا۔ میں کسی دن یہی ایک سوال لونگا اور اس میں یہ تمام آیات آپ کے سامنے لاؤنگا لیکن میں ان میں سے اس وقت صرف ایک ہی آیت پیش کرتا ہوں۔

سوال یہ تھا کہ کیا انسان اپنا   Future   ( مستقبل ) اپنے ہاتھوں سے مرتب تعمیر و تشکیل کرتا ہے یا جب وہ آتا ہے تو پہلے سے مرتب شدہ ہوتا ہے؟ قرآن نے کہا ہے‘ غور سے سنیے‘ برادرانِ عزیز ! کہ   يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ (59:18) اے اربابِ ایمان ! قوانینِ خداوندی کی نگہ داشت کرو۔ آگے کہا ہے کہ   وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ   (59:18) ہر شخص اس بات کو سوچے کہ میں اپنے ’’کل‘‘ کے لیے ’’ آج ‘‘ کیا بھیج رہا ہوں۔ عزیزانِ من ! بتائیے کہ ایک آیت کے اندر بات صاف ہوگئی یا نہیں۔ یہاں قرآن نے   قَدَّمَتْ   کہا ہے ‘یہ لفظ   قَدَّمَتْ   بڑی جگہ استعمال کیا ہے۔ اس کے معنی ہیں " اپنے لیے پہلے سے کوئی چیز بھیج دینا " ۔ انسان جو عمل آج کرتا ہے‘ اس کا نتیجہ اس کے بعد جاکر مرتب ہوتا ہے۔ ہر نتیجے کا عمل پہلے کیا جاتا ہے‘ وہ نتیجہ گویا پہلے بھیجا جاتا ہے‘ اس وقت وہ سامنے آتا ہے جب وہ مہلت کے وقفے کے بعد محسوس شکل میں مرتب ہو جاتا ہے لیکن بھیجا پہلے سے جاتا ہے۔

انسان کا اپنا عمل ہی اس کے مستقبل کا نقشہ مرتب کرتا ہے

آپ قرآن کی یہ آیت دیکھیے   وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ   (59:18) ہر شخص کو یہ غور کرنا چاہیے‘ اس چیز کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ وہ اپنے کل (Future)   کے لیے آج   (Present)   کیا کرتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے‘ عزیزانِ من ! اس کا کل تو اس سے مرتب ہوتا ہے جو کچھ یہ آج کرتا ہے۔ اگر وہ پہلے سے مرتب شدہ ہے تو اسکا سوال ہی نہیں ہے کہ یہ آج کیا کرتا ہے۔ میں نے ان آیات میں سے اس آیت کو اس لیے چنا ہے کہ اس میں خاص طور پہ قرآن نے لغد کہا ہے کہ یہ آنے والے ’’ کل ‘‘ کے لیے ’’ آج ‘‘ کیا کرتا ہے۔ اس بات کو ہر شخص کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ میں اپنے آنے والے کل کی ترتیب کے لیے آج کیا کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ایک آیت کی موجودگی میں قرآن کا یہ جو تقدیر کا مسئلہ تھا‘ یہ سارے کا سارا طے ہوجاتا ہے کہ خود انسان اپنے لیے کرتا ہے۔ دوسری جگہ کہا ہے کہ   يَوْمَ يَنظُرُ‌ الْمَرْ‌ءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ‌ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَ‌ابًا (7 8 :40) جس دن ہر شخص یہ دیکھ لے گا کہ اس کے ہاتھوں نے اس کے آج کے لیے کیا بھیجا تھا۔ یہاں   قَدَّمَتْ یَدٰہُ   آیا ہے اور بات صاف ہوگئی ہے۔ اس کے اپنے ہاتھوں نے اپنے   Future   ( مستقبل ) کو مرتب کرنے کے لیے پہلے سے کیا بھیجا تھا وہ آکر خود دیکھ لے گا۔ وہ تو اپنے ہاتھوں سے یہ سب کچھ بھیج رہا تھا۔ اور اس کے بعد یہ ہے کہ جس نے ان صداقتوں سے انکار کرکے غلط چیزیں اپنے   Future   ( مستقبل ) کے لیے بھیجی ہونگی وہ جب وہاں اپنا   Future   ( مستقبل ) مرتب شدہ دیکھے گا تو چیخ نکل جائے گی کہ اے کاش ! میں صاحبِ اختیار و ارادہ انسان ہونے کی بجائے مٹی کا تودہ ہوتا تو یہ کیفیت تو نہ ہوتی۔ یہ تراب میں اور انسان میں فرق کیا ہوا؟ یوں تو انسان بھی پیکرِ آب و گِل ہی ہے‘ جسے کہتے ہیں کہ مٹی کا ہی بنا ہوا ہے۔ یہ کیا کہا تھا اس ’’ کافر‘‘ نے کہ میں مٹی ہوتا۔ فرق ہی یہ ہے کہ مٹی صاحبِ اختیار نہیں ہے‘ وہ اپنے اعمال کی ذمہ دار نہیں‘ اس کی تقدیریں مقدر ہیں‘ لکھی ہوئی ہیں۔ انسان اپنا   Future   ( مستقبل ) آپ مرتب کرتا ہے۔ یہ چیز آپ سارے قرآن میں دیکھیں گے۔ میں ابھی عرض کرونگا کہ خدا کو جہاں ان چیزوں کا فاعل قرار دیا ہوا ہے اس کے معنی کیا ہیں؟ لیکن بنیادی طور پر یہ سمجھ لیجیے کہ قرآن کہتا کیا ہے۔

انسان کے اپنے ہی اعمال اس کے قلب کی تبدیلی کا باعث بنتے ہیں

اگلی چیز ہے جو اس سے بھی زیادہ گہری اور اہم ہے‘ وہ (61:5) میں کہی ہے۔ قومِ بنی اسرائیل کی داستان چلی آرہی ہے کہ انہوں نے یہ کیا‘ انہوں نے یہ کیا‘ انہوں نے یہ کیا۔ یہ کیا تو یہ ہوا‘ یہ کیا تو یہ ہوا‘ یہ چلا آرہا ہے۔ اور اس میں ایک جامع حیثیت سے ایک فقرہ آیا ہے جو ایک کلیہ یا ایک اصول کے طور پر بیان ہوا اور وہ یہ ہے کہ   فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ (61:5) جب وہ خود غلط راستے کی طرف پلٹ گئے تو خدا کے قانون نے ان کے دلوں کو اسی طرح سے الٹا دیا :   فَلَمَّا زَاغُوْٓا   ۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہاں جو   Initiative   ( پہل ) ہے‘ یہ ان کی طرف سے ہے کہ انہوں نے اس میں یہ پہل کی ہے۔ جب انہوں نے اپنی یہ ذہنیت اختیار کرلی تو اس کے بعد ان کا جو قلب تھا جس نے ان کو فیصلے دینے تھے‘ وہ قلب ہی الٹ گیا اور وہ خود ہی دوسری پٹڑی پر پڑ گیا۔ یہ ہے   فَلَمَّا زَاغُوْٓ ا   یعنی جب وہ غلط راستے کی طرف مڑ گئے۔ پھر سوچ لیجیے جب یہاں اللہ آتا ہے تو میں عرض کرونگا کہ قرآن یہ کیوں لاتا ہے۔ جب وہ خود غلط راستے کی طرف مڑ گئے تو ان کے اندر جو فیصلے کرنے کی قوت تھی‘ سمجھنے سوچنے کی قوت تھی‘ جسے قلب کہا جاتا ہے‘ وہ قلب اسی طرح سے الٹ گیا۔

قلب دراصل انسانی ذہنیت اور قوتِ فیصلہ کا نام ہے

عزیزانِ من ! قرآن کے اور مقامات میں بھی یہ ہے مثلاً آپ (9:127) نکالیے۔ وہاں بھی یہی چیز دوسرے الفاظ میں آئی ہے۔ کہا ہے کہ   ثُمَّ انصَرَ‌فُوا  ۚ صَرَ‌فَ اللَّـهُ قُلُوبَهُم (9:127) جب وہ پلٹ گئے تو پھر خدا کے قانون نے ان کے دلوں کو اسی طرح سے پلٹا دیا اس لیے   کہ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ   (9:127) انہوں نے غورو فکر اور تفقہ اور تدبر چھوڑ دیا تھا۔ اس چھوڑ دینے سے یہ ہوا کہ وہ غلط راہوں کی طرف پلٹ گئے۔ اور جب انہوں نے اپنے لیے یہ روش اختیار کرلی تو اس کے بعد ان کی جو اندر کی ذہنیت تھی‘ ان کی قوتِ فیصلہ کی جو چیزیں تھیں‘ جو صلاحیتیں اندر ہیں‘ جن کو قرآن قلب یا فواد سے تعبیر کرتا ہے‘ جسے آپ انسان کا   Mind   ( قلب و دماغ ) کہتے ہیں‘ وہ چیز جو اس کا   Attitude   ( رویہ ) بناتی ہے‘ وہ کہتا ہے کہ پھر وہ بھی اس کے مطابق ہوگیا۔ بات کیا ہوئی؟ جس قسم کا انسان آپ ہوگیا‘ اسی قسم کی اندر سے اس کے فیصلے کرنے والی جو قوتیں ہیں‘ وہ اسی انداز میں انہی پیکروں کے اندر   Mold   ( ڈھل ) ہوگئیں۔ جو کچھ اس نے اپنے لیے روش اختیار کی‘ اسی کے مطابق یہ جو اس کو صلاحیتیں دی تھیں‘ انہوں نے ویسا ہی کام کرنا شروع کردیا۔ یاد رکھیے ! انسان کے اندر خود کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اس کو نیکی کے اوپر لے آئے یا بدی کے اوپر لے آئے‘ حتیٰ کہ نیکی اور بدی کی‘ خیر اور شر کی‘ تو تمیز بھی اس کے اندر نہیں رکھی ہوئی۔ انسان کے اندر صرف کچھ قوتیں ہیں‘ کچھ صلاحیتیں   (Potentialities) دی ہوئی ہیں۔ اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو‘ اپنی استعداد کو   Potentialities   کو‘ استعمال کیسے کرتا ہے۔ وہ جس طرح سے ان کو استعمال کرتا ہے‘ اس کے مطابق نتائج نکلتے ہیں اور اس کے مطابق خود اندر ہی اس کی ذہنیت بنتی چلی جاتی ہے۔ پہلے دن جب یہ خیال کرتا ہے کہ فریب دہی سے کچھ حاصل ہوجانا چاہیے تو اسی دن اس کے اندر وہ قلب کی تبدیلی نہیں ہوجاتی۔ جب وہ یہ روش اختیار کرلیتا ہے‘ روز اسی لائن پہ Think   ( سوچ و بچار ) کرنا شروع کرتا ہے‘ اسی طریق کے اوپر سوچتا چلا جاتا ہے تو آہستہ آہستہ جیسے وہ کہتے ہیں کہ انسان کا ضمیر مر جاتا ہے‘ اس کے بعد آہستہ آہستہ اندر خود اس کے سمجھنے سوچنے کی صلاحیتیں یا فیصلہ کرنے کی صلاحیتیں اسی پٹڑی پہ اس کو لے جاتی ہیں۔ وہ فیصلہ کرتا ہے کہ کہاں میں فریب دوں‘ اور اندر کی جو اس کی سوچنے سمجھنے کی قوت تھی وہ اس کو طریقے سجھاتی ہے کہ فریب کیسے دیا جائے‘ فریب دینے کے بعد پھر Justificatory Reasons   ( وجہ جواز ) کیا تلاش کیے جائیں۔ پھر اگر کہیں گرفت ہوتی ہے تو اس سے بچنے کے لیے کیا شکلیں اختیار کی جائیں ‘پھر یہ کچھ ہوتا چلا جاتا ہے۔

اگر کسی قوم کو اپنی حالت بدلنا مقصود ہو تو اسے پہلے اپنی نفسیات کو بدلنا ہوتا ہے

آپ نے   فَلَمَّا زَاغُوا (61:5) دیکھا ہے جب اس نے اپنے لیے یہ روش اختیار کی تو اس کے بعد اس کی جو اندر کی صلاحیتیں تھیں‘ وہ خود اسی روش کے پیچھے پیچھے چل پڑیں۔ یہ وہ چیز ہے جسے قرآنِ کریم نے افراد کی بجائے اقوام کے سلسلے میں بھی کہا ہے۔ کہا ہے کہ یاد رکھو ! یہ بڑا بنیادی اصول و قانون ہے۔ عزیزانِ من ! یہ کہا ہے کہ   إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ‌ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُ‌وا مَا بِأَنفُسِهِمْ  ۗ (13:11) یاد رکھیے ! خدا کسی قوم کی حالت میں کوئی تغیر نہیں کرتا تاوقتیکہ وہ خود اپنی داخلی دنیا کے اندر ایک تغیر نہیں کرلیتی۔ اس سے قوم کی حالت بگڑتی یا سنورتی ہے کہ وہ قوم اپنے اندر کس قسم کی تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ خارجی طور پر قوموں کے اندر جو یہ کچھ ہم کرتے ہیں‘ یہ ٹھیک ہے یہ مادی اسباب و ذرائع اور وسائل ہوتے ہیں لیکن اس کا نام قوم کی حالت میں تغیر نہیں ہوتا۔ برادرانِ عزیز ! قوم کی حالت میں تغیر اس سے آئے گا جس قسم کی وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرے گی۔ جس قسم کی اندرونی تبدیلی ہوگی اس قسم کی باہر کی دنیا کے اندر اس قوم کی کیفیت ہو جائے گی۔ جس قسم کی نفسیاتی تبدیلی اس کے اندر آئے گی‘ جس قسم کی ذہنیت ان کے اندر آئے گی‘ جس قسم کا سیرت و کردار اس قوم کے افراد کا بنے گا‘ اس کے مطابق اس قوم کی خارجی دنیا مرتب و متشکل ہوگی۔ یہی چیز افراد کے اوپر ہے۔ جس قسم کی ذہنیت وہ خود اپنے اندر مرتب کرتے ہیں‘ اسی اندازے کے مطابق اس کے اعمال نتیجہ مرتب کرتے چلے جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں ہے کہ جس قسم کا انسان خود بن جاتا ہے اس کے مطابق خدا کا قانون اس کے پیچھے چلتا ہے۔

کائنات کے اندر خدا کا قانون تو ہر شے کے لیے ہر وقت ہر لمحہ کار فرما ہے

خدا کا قانون یہ ہے کہ آگ جلاتی ہے‘ انسان آگ میں انگلی ڈالتا ہے تو خدا کا یہ قانون اس کے اوپر حاوی ہو جاتا ہے کہ آگ جلا دیتی ہے۔ اگر یہ انگلی نہیں ڈالتا‘ خدا کا قانون تو اپنے مقام کے اوپر ہوتا ہے‘ وہ اس پر لاگو نہیں ہوتا۔ بات ذرا گہرائی میں سمجھنے کی ہے۔ میں بھی کوشش کرونگا کہ اسے دہرا دہرا کر سمجھاؤں۔ خدا کے قوانین تو کائنات میں جاری و ساری ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی   Particular Individual   ( خاص فرد ) کے اوپر خدا کا کونسا قانون لاگو ہوتا ہے۔ سیر کرنے والا جو انسان ہے‘ جو اپنی عادات میں ریگولر ہے‘ جو صحت کے قوانین کی احتیاط برتتا ہے‘ اس پر خدا کا یہ قانون لاگو ہوتا ہے کہ اس کی صحت اچھی ہوتی ہے۔ زہر کھالینے والے کے اوپر خدا کا یہ قانون لاگو ہوتا ہے کہ اس کی موت واقع ہونی شروع ہوجاتی ہے۔ جس قسم کا انسان خود اپنے آپ کو بناتا ہے‘ اس قسم کا قانون اس کے اوپر   Apply   ( لاگو ) ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ قوانین خداوندی موجود ہیں۔ کسی فرد یا قوم پہ اس کا کونسا قانون لاگو ہوتا ہے‘ اس کا فیصلہ اس سے ہوتا ہے کہ وہ فرد یا قوم خود کس قسم کی بن جاتی ہے۔ اقبالؒ (1877-1938) نے اس چیز کو اپنے خاص انداز میں کہا ہے لیکن وہی جو میں دشواری کہا کرتا ہوں‘ عربی کی آیات ہیں‘ ان کا وہ ترجمہ کرنا پڑتا ہے‘ اسی طرح اس کے جو اشعار ہیں وہ فارسی میں ہوتے ہیں لیکن بہرحال میں کوشش کرونگا کہ ان کو بھی سمجھاؤں۔ کہتا ہے   :

رمزِ باریکش بحرفے مضمر است

تقدیر کی رمز تو بڑی باریک سی ہے لیکن ایک لفظ کے اندر وہ بات آجاتی ہے اگر اس کو سمجھ لیا جائے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ

تُو اگر دیگر شوی‘ او دیگر است   !

اس ( اقبالؒ ) کو بھی سمجھانے کا وہ طریقہ فطرت نے دیا تھا۔ یہ ’’ بحرفے مضمر است ‘‘ کتنی بڑی چیز ہے ! عزیزانِ من ! آپ کو معلوم ہے کہ اسلام میں ہی نہیں‘ فکر کی دنیا کے اندر بھی   Plato   ( افلاطون :428-347 ق م ) کے زمانے سے آج تک یہ جبر اور قدر کے مسئلہ کے اوپر کتنا کچھ لکھا گیا ہے۔ اور اس کے بعد یہ ہے کہ ڈور کو سلجھا رہے ہیں اور سرا ملتا نہیں‘ کسی مسئلے کے حل پہ پہنچ ہی نہیں پاتے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’بحرفے مضمراست‘ ‘وہ تو ایک لفظ کے اندر ساری بات کہتا ہے کہ طے ہو جاتی ہے۔ اور وہ بات یہ ہے کہ

تو اگر دیگر شوی‘ او دیگر است   !

اقبالؒ نے اس چیز کو کہاں سے لیا جو یہ ایک لفظ میں کہہ گیا ہے؟ وہ ہے کہ   إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ‌ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُ‌وا مَا بِأَنفُسِهِمْ  ۗ   (13:11) ۔ اسی لیے تو اس نے پہلی مثنوی میں یہ کہا تھا کہ میں نے جو کہا ہے وہ تو قرآن سے کہا ہے۔ قرآن نے ایک لفظ میں یہ بات سمجھائی تھی کہ   فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ  ۚ   (61:5) جیسے تم ہو‘ تقدیر کے خدا کے قانون کے معنی یہ ہیں : جس قسم کے تم بن جاتے ہو‘ اسی قسم کا خدا کا قانون تمہارے اوپر   Apply ( لاگو ) ہوجاتا ہے۔

تو اگر دیگر شوی‘ او دیگر است   !

اگر تُو بدل جائے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔ اب سمجھاتا ہے کہ

خاک شو نذر ہوا سازد ترا

تُو اگر گرد و غبار بن جائے تو کوئی ہوا کا جھونکا جو آئے گا‘ تجھے اپنے ساتھ اڑا کر لے جائے گا۔

سنگ شو بر شیشہ اندازد ترا   !

تُو پتھر جیسی سختی پیدا کرلے‘ تُو ہر زجاج کو‘ ہر شیشے کو‘ چکنا چور کرکے رکھ دے گا۔ یہ کیا ہوا؟

تُو اگر دیگر شوی‘ او دیگر است   !

آپ دیکھتے ہیں کہتا ہے کہ تیرے اپنے بدلنے سے تقدیر کیسے بدلتی ہے۔ تیرے اپنے بدلنے سے تیری تقدیر بدل جاتی ہے۔

شبنمی؟ افتندگی تقدیرِ تست   !

کیا تُو شبنم ہے؟ اگر یہ بات ہے تو تیری تقدیر میں اوپر سے نیچے گرنا ہے‘ زمین کی پستیوں کی طرف آنا ہی تیری تقدیر ہے۔

قلزمی؟ پایندگی تقدیرٍ تست   !

کیا تُو سمندر ہے؟ اگر یہ بات ہے تو ہمیشہ رہنا تیری تقدیر ہے۔ اور اسی لیے آگے چل کر وہ یہ کہتا ہے کہ رونا پیٹنا کاہے کے لیے ہے؟

گر زیک تقدیر خوں گردد جگر

اگر کسی ایک تقدیر سے تیرا دل خون ہو رہا ہے‘ مصیبت آرہی ہے‘ تنگی آرہی ہے‘ تو یہ بات نہیں ہے کہ تُو اس کے اوپر بیٹھ کر رونا شروع کردے کہ صاحب ! یہ تو تقدیر اٹل ہے اس لیے

خواہ از حق حکمِ تقدیرِ دگر

اس سے ایک دوسری تقدیر مانگ لے۔ یعنی اگر ایک تقدیرِ خداوندی سے تُو مصیبت میں ہے تو اسکی دوسری تقدیر اختیار کرلے

تو اگر تقدیرِ نو خواہی رواست

تُو اگر نئی تقدیر چاہتا ہے تو یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔ تُو یہ کچھ کرلے ‘کوئی دوسری نئی تقدیر اختیار کرلے کیونکہ

زانکہ تقدیراتِ حق لا انتہاست  ٭ (1)

اللہ تعالیٰ کی تقدیرات کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ یعنی اگر تو تقدیر بدلنے کے لیے نئی تقدیر چاہتا ہے تو ضرور طلب کر۔

دعا سے ہم کائناتی قانون کو بدل نہیں سکتے البتہ انسان کو چاہیے کہ وہ خود کو قانون کے مطابق بدل لے

خدا کے لا انتہا قوانین پڑے ہوئے ہیں۔ ایک قانون جو تجھ پہ   Apply   ( لاگو ) ہو رہا ہے‘ اس سے اگر تُو دیکھتا ہے کہ دل گرفتگی ہو رہی ہے‘ مصیبت آرہی ہے تو بجائے اس کے کہ اسی طرح سے اپنے آپ کو رکھے اور اس کو اپنے اوپر لاگو ہونے دیتا چلا جائے اور وہ تمہارے اوپر لپٹا چلا جائے تو دوسرا قانون اختیار کرلے کیونکہ وہ خود تو پیچھا چھوڑے گا نہیں اس لیے کہ تُو جیسا ہے‘ اس نے اسی طرح سے تیرا پیچھا کرتے چلے جانا ہے۔ اسی لیے تو اس کو عقوبت کہتے ہیں‘ عقاب کہتے ہیں۔ اس کے معنی ہوتا ہے ’’ کسی کا پیچھا کرنا‘‘ اے کھوجی جوکچھ کردے نیں۔ یہ ہوتا ہے‘عقب کہ کسی کے پیچھے پیچھے چلنا۔ خدا کا قانون انسان کے پیچھے پیچھے چلتا ہے۔ اگر یہ کوئی تکلیف دینے والی چیز ہے تو تُو دوسری طرف جو اس کا قانون ہے‘ اس طرف رُخ موڑ لے پھر وہ تیرے پیچھے چلے گا۔ اور یہ کوئی بُری بات نہیں ہے کہ دوسری تقدیر چاہتا ہے۔ اس کے ہاں تو لا انتہا تقدیرات ہیں‘ تُو ہی ایک تقدیر کے اوپر مطمئن ہوکر بیٹھ گیا اور پھر رونا شروع کردیا۔ اب روتے رہو۔ عزیزانِ من ! غلط راستے پر چلتے جائیے اور اس کے بعد روتے جائیے کہ ’’ ایناں پینڈا کرلیا‘ اے پیراں اچ چھالے وی پے گئے‘ پنڈ آیا نئیں ہیگا۔ روندے جاؤتے ترے جاو اوسے رستے اتے‘ تے فیر روندے جاو‘ او سوہری دیا ! آراہ کیوں نئیں بدل دا؟ کہ جی ! اللہ نے لکھیا ایہو ای ہیگا ایسے رستے چلنا۔ تے فیر رونا کیوں ایں؟’’۔  ٭ (2)


اگر کسی شخص نے ایک خاص وقت تک کے لیے بیمار رہنا ہی ہے تو پھر علاج کا مقصد ؟

عزیزانِ من ! یہ الجھاؤ ہیں۔ میں نے کہا ہے کہ یہ الجھاؤ آپ بیچارے عوام کو ہی نہیں دیکھیں گے اس میں خواص بھی مبتلا ہیں کہ صاحب ! بیماری آتی ہے تو خدا کے حکم سے آتی ہے اور جب اس نے لکھا ہے کہ آئے گی‘ اور اس دن جائے گی تو پھر اس کے ساتھ ہی آپ یہ علاج و لاج کیوں کراتے ہیں؟ کہ جی ! یہ فریضہ ہے۔ ’’کیوں نئیں کیندا لڑائی ہے خدا نال ‘‘۔  ٭ (3)   یعنی اس نے کہا ہے کہ تین دن کے بعد بخار اتر جائے گا‘ تم ڈاکٹر صاحب سے یہ کہتے ہو کہ ڈاکٹر صاحب ! ایسا   Injection   ( ٹیکا ) دیجیے کہ شام تک کسی طرح سے اتر جائے‘ یہ تو خدا کے ساتھ جنگ ہو رہی ہے۔ دیکھا آپ نے کہ ایک غلط اٹھا ہوا قدم کہاں کہاں لے جارہا ہے۔ بات ساری یہ تھی جو قرآن نے کہی تھی کہ   إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ‌ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُ‌وا مَا بِأَنفُسِهِمْ  ۗ (13:11) اپنے اندر تبدیلی کرو‘ باہر سے میرا قانون بدل جائے گا‘ دوسرا قانون آکر لاگو ہوجائے گا۔

پوری کائنات کا ایک ایک ذرہ تقدیراتِ حق کا محتاج ہے

کہا ہے کہ   فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ  ۚ (61:5) جب انہوں نے اپنے آپ کو بدل لیا تو پھر ہمارا وہ قانون ان کے پیچھے لگ گیا جو بدلنے والا ہوا کرتا ہے۔ یہ ہیں تقدیراتِ حق۔ آپ کی ہر کیفیت‘ ہر فیصلے‘ ہر ذہنیت‘ کے مطابق ایک قانون ہے۔ ہر سانس میں بدلتا چلا جا‘ ہر سانس میں اس کا دوسرا قانون آتا چلا جائے گا۔

زانکہ تقدیراتِ حق لاانتہاست

اللہ تعالیٰ کی تقدیرات کی کوئی انتہا نہیں ہے‘ بس یہ   Initiative   ( پہل کرنا ) تمہارے ہاتھ میں ہے‘ یاد رکھو   !

ابھی میں آگے چل کر بتاتا ہوں کہ یہ قوانین کیا ہیں اور اس میں اللہ کا کیوں نام آیا ہوا ہے۔ بات چلی آئی تھی کہ   خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ (2:7) دلوں پر مہریں لگ جاتی ہیں۔ اس کے لیے پہلی چیز میں نے یہ کہی تھی کہ کفر کی وجہ سے دلوں پر مہر لگتی ہے۔ یہ پہلی بات آگئی۔ اب وہ جو دونوں آیتیں ہیں‘ ان کا ربط سمجھ میں آگیا۔ کہ کفر کی وجہ سے دلوں پہ مہریں لگیں‘ یہ نہیں ہے کہ اللہ نے پہلے دلوں پہ مہریں لگا دی تھیں اس لیے یہ کافر ہی پیدا ہوئے ‘کافر ہی مرگئے۔ پہلی بات صاف ہوگئی۔ اب دو چار آیات اور دیکھیے کہ مہریں کیسے لگتی ہیں۔ کہا ہے کہ   وَخَلَقَ اللَّـهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ بِالْحَقِّ (45:22) ۔ یہ جس کو نو آسماں بہ گردش و درمیانہ ایم کہتے ہیں‘ ہمارے ہاں تو یہ ہوگیا کہ جو گردشِ افلاک ہے‘ وہ پیس رہی ہے۔ اس میں پس رہے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ یہ جو سلسلۂ کائنات ہم نے پیدا کیا ہے تو یہ بالحق پیدا کیا ہے۔ یہ بالحق والی بات تو پھر کبھی بتاونگا قرآن میں یہ کیا بتایا گیا ہے ۔ یہ سلسلۂ کائنات کس لیے پیدا کیا؟ وہ پوچھتے ہیں کہ صاحب ! بالآخر اس   Universe   ( کائنات ) کی   Creation   ( تخلیق ) کا   Purpose   ( مقصد ) کیا ہے۔ کہا ہے کہ   وَلِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (45:22) تاکہ ہر فرد کو اس کے اعمال کا صحیح صحیح بدلہ مل جائے اور کسی پہ ظلم اور زیادتی نہ ہو۔ یہ سارا سلسلۂ کائنات اس لیے چکر میں ہے‘ اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ ہر فرد کو اس کے عمل کا صحیح صحیح بدلہ مل جائے۔ برادرانِ عزیز ! آپ دیکھتے ہیں کہ ان آیات کی موجودگی میں یہ چیز کہنا کہ یہ ساری چیزیں پہلے سے ہی طے ہیں اور انسان پر ان کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کیسے دُرست ہوسکتی ہے۔

مہریں کیسے لگتی ہیں؟ جو اسکے جذبات کہیں ‘‘ وہی کرتا چلا جائے   ‘‘

آگے چلیے ! مہریں کیسے لگتی ہیں؟ کہا ہے کہ   أَفَرَ‌أَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ (45:23) کیا تُو نے اس شخص کی حالت پہ بھی غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشاتِ نفسی کو اپنا خدا بنالیا‘ وہ انہی کا محکوم ہوگیا؟ وہ اپنے ہی جذبات سے مغلوب ہوگیا‘ نہ قاعدہ قانون‘ نہ کوئی مستقل اقدار‘ نہ عقل و فکر۔ یہ ہیں ھوٰہ ۔ اور پھر ھوٰہ کی کیفیت یہ ہے۔ عربی زبان میں یہ جو لفظ ہے اس کے اندر ’’ کسی چیز کا بلندیوں سے پستیوں کی طرف چلے آنا‘‘ ہوتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی سے پتھر کو چھوڑئیے‘ اسے وہاں سے لڑھکا دیجیے تو وہ اپنے ہی   Momentum   ( معیار حرکت ) سے جوں جوں نیچے آتا چلا جاتا ہے‘ اس کی رفتار میں تیزی آتی چلی جاتی ہے۔ اس کیفیت سے جو گرنا ہوتا ہے‘ وہ ھوٰہ ہوتا ہے۔ اور یہ چیز ہے جو عربوں نے اپنے ہاں جذبات کے لیے یہ لفظ تجویز کیا تھا۔ کیا بات ہے اس قوم کی ! عزیزانِ من ! ذرا سے آپ اس کے پیچھے لگ گئے‘ پہلے دن تو اس کی رفتار بڑی خفیف سی ہوتی ہے‘ جوں جوں آگے بڑھتے چلے جائیے‘ یہ اپنے ہی   Momentum  ( معیارِ حرکت ) سے تیزی اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ اتنی تیزی اختیار کرلیتا ہے کہ پھر راستے میں روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔

مغربی تہذیب کے نظریاتی دلائل‘ انکے سرکش جذبات کے نتائج اور ماحصل

ارشاد خداوندی ہے کہ تم نے اس کی حالت پہ بھی غور کیا ہے جس نے اپنے اس قسم کے پست جذبات ہی کو اپنا معبود بنالیا۔   وَأَضَلَّهُ اللَّـهُ عَلَىٰ عِلْمٍ (45:23) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم و بصیرت رکھنے کے باوجود غلط راستے کے اوپر چل رہے ہیں۔ آپ خاص طور پر جذبات کو خدا بنانے والوں کو دیکھیے گا یہ ہمارے ہاں کا علم و بصیرت والا طبقہ ہے یا جو ساری دنیا کا علم وبصیرت والا طبقہ ہے یا قوم کے اعتبار سے   West   ( اہلِ مغرب ) کو لے لیجیے تو وہ سب سے بڑی   Intellectual   ( دانشور ) سی قوم نظر آتی ہے‘ ہم بھی جو لوگ   Intellectual   ( دانش ) والے بتاتے ہیں آپ ان کو جذبات کے اوپر دیکھیے کہ جب وہ ان پہ چلتے ہیں تو اسی چیز کے خلاف‘ پلیٹ فارم پہ یا درسگاہ میں‘ ان کے ہاں سے دلائل سنیے‘ تو اتنے اتنے منطقی دلائل لائیں گے صاحب ! کہ نظر آجائے گا کہ   Conviction   ( ایمان ) ہے‘ محکم دلائل ہیں‘ دوسری طرف ان کی زندگی دیکھیے تو انہی مفاد کے پیچھے اس طرح سے لگے ہوئے ہیں کہ آنکھیں بند ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ علم و بصیرت کے باوجود پھر یہ اندھے ہوجانے والے ہیں اور آگے ہے کہ   وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِ‌هِ غِشَاوَةً ً (45   :23) اور یوں ان کے کانوں پر ڈاٹ لگ جاتی ہیں‘ دلوں پہ مہریں لگ جاتی ہیں‘ ان کی آنکھوں پہ پردے پڑ جاتے ہیں۔ اب کہیے کہ   يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّـهِ (45:23) اس قانونِ خداوندی کے بعد اب ان کو صحیح راستے کے اوپر کون لے آئے گا۔ آپ نے دیکھا کہ مہریں کیسے لگتی ہیں۔ اپنے جذبات ہی کو اپنا خدا بنالینا‘ اس کے بعد سمجھنے سوچنے کی‘ صحیح فیصلہ کرنے کی‘ قوت ہی مفقود ہوجاتی ہے۔ یہ ہے جسے کہا ہے کہ مہریں لگ جاتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے اس زمانے کے ایک خاص گروہ کا ذکر کیا ہے۔ کہتا ہے کہ ان لوگوں کی کیفیت یہ ہے کہ   وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰ إِذَا خَرَ‌جُوا مِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا   (47:16) تمہاری مجلسوں میں آکر بیٹھتے ہیں‘ قرآن پیش کیا جاتا ہے‘ تُو ان کو سمجھاتا ہے‘ بظاہر نظر آتا ہے کہ بڑے   Attentively   ( غورو فکر سے ) سن رہے ہیں۔ کیفیت یہ ہے کہ تمہاری محفل سے اٹھ کر جاتے ہیں تو اُن لوگوں سے‘ جنہوں نے یہ باتیں دھیان سے سنی تھیں پوچھتے ہیں کہ اِس نے کیا کہا۔ غور کیا آپ نے۔ ایسے سننے والے جو ہیں ان کے متعلق کہا ہے کہ   أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ (47:16) یہ ہیں جن کے دلوں کے اوپر مہریں لگتی ہیں۔ یہ کیا ہوا؟ محفل میں بیٹھا بھی تھا‘ آوازیں بھی آرہی تھیں۔ آپ نے بھی کسی محفل میں بیٹھے ہوئے اسے   Experience   کیا ہوگا۔ اور خیالات اپنے کہیں اور لے جائیے‘ سوچیے کچھ اور‘ بیٹھیے محفل میں‘ ایک لفظ بھی جو آپ کے کان میں پڑتا ہے‘ سنائی دیتا ہے؟ آپ کی سماعت کی قوت تو اس وقت برقرار ہوتی ہے‘ اس میں کوئی نقص نہیں ہوتا۔ یہ کیا ہوا ہے؟ کہ کانوں میں ڈاٹ لگ گئے‘ جسے کہتے ہیں کہ بیٹھے یہاں ہیں‘ سوچ کچھ اور رہے ہیں۔ اور وہیں یہ بات کہہ دی کہ یہ ایسا کیوں ان کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے کہ   وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ (47:16) ہر وقت یہ اپنے مفاد کے پیچھے لگنے کی سوچتے رہتے ہیں۔ اس لیے بظاہر   Physically   ( طبعی طور پر ) جو چیز ان کے کان میں جاکر پڑتی ہے وہ بھی ان کو سماعت کا کام نہیں دیتی۔ اس کو یوں کہیے کہ کہنے والے کی آواز کانوں میں جاتی ہے‘ آگے ایک ڈاٹ لگا ہوا ہے‘ جو اس کو اندر نہیں جانے دیتا۔ یہ ڈاٹ کیا ہے؟ کہا ہے کہ   وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ (47:16) وہ اپنی ہی مفاد پرستیوں کی سوچتے رہتے ہیں۔ اور ایک آیت (83:14) نے تو معاملہ بالکل صاف کردیا۔ کہتا ہے کہ یہ پوچھتے ہیں کہ یہ جو قلوب کے اوپر کہتے ہو کہ مہریں لگتی ہیں‘ یہ زنگ لگتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ یہ کیسے لگتے ہیں؟ کہا کہ اس کے جواب میں کوئی کچھ کہے گا‘ کوئی کچھ کہے گا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ قرآن کا جواب دینے کا انداز بھی خوب ہوتا ہے‘ جہاں وہ باقی چیزوں کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے کہ کچھ ایسا کہے گا تو کہا کہ کلا نہیں بھئی ! بات یوں بالکل نہیں ہے بل‘ بلکہ بات یہ ہے کہ   رَ‌انَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ (83:14) جو کچھ یہ اعمال کرتے ہیں‘ وہی زنگ بن کر ان کے دلوں کے اوپر بیٹھ جاتا ہے‘ اسی کو خدا کی طرف سے لگائی ہوئی مہریں کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد تو عزیزانِ من ! میں سمجھتا ہوں کہ کچھ اور کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

جبر کا عقیدہ ‘اور مشیت ایزدی

یہ جو جبر کا عقیدہ ہے کہ خدا ہی سب کچھ کرتا ہے‘ اسی کی مشیت سے یہ کچھ ہوتا ہے‘ انسان تو مجبورِ محض ہے‘ اس میں یہ تبدیلی نہیں کرسکتا۔ یہ کوئی نیا عقیدہ نہیں جو اسلام کے بعد مسلمانوں ہی کے ہاں پیدا ہوا ہو‘ یہ پرانا چلا آرہا تھا۔ اس میں   Escapism   ( فرار ) کے لیے بڑی گنجائش نکلتی ہے‘ وہ ذمہ داریوں سے بچ جانا ہے۔ آپ کے خلاف ہزار الزامات عائد کیے جائیں‘ ایک ہی ان کا جواب ہوتا ہے کہ میاں صاحب ! خدا کی مرضی یہ ہے‘ ہم اس کے بعد کر کیا سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اتنی سی ہی بات ہے کہ

گناہ اگرچہ نبود اختیارِ ما حافظ

تو در طریقِ ادب کوش و گو گناہِ من ست

یہ جو گناہ ہے اس کا اصل ذمہ دار تُو نہیں ہوتا‘ یہ تیری وجہ سے نہیں ہوتا‘ ہوتا تو خدا کی وجہ سے ہے۔ اب یہی ہے کہ چونکہ وہ بڑا واقع ہوا ہے‘ اس لیے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ تُو کہہ دیا کر کہ ہاں صاحب ! میں نے ہی کیا ہے۔

ظاہریت پر مبنی کچھ الفاظ کہہ دینے کا نام احترام رکھ دیا گیا

لے بھئی ! آپ دیکھ رہے ہیں احترامِ خداوندی !! یہ احترام کس قسم کا احترام ہے ؟ ’’ اوہو جیا ای احترام ہے جیس طراں نال او تھانے وچ اقبالِ جرم کرلیندا ہیگا  ٭ (4)  ‘‘ لیکن میں نے کہا ہے کہ آپ دیکھیے کہ یہ چیز کیسے چلی آرہی ہے؟ یہ چیز چلی آرہی تھی اور میں نے عرض کیا ہے کہ اس میں چونکہ راہِ فرار   (Escapism )   ہوتی ہے‘ اس لیے یہ جو عقیدہ ہے‘ وہ اس سے چسپاں رہتا ہے۔ قرآن کے زمانے میں بھی یہ تھا کہ   وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا مِمَّا رَ‌زَقَكُمُ اللَّـهُ (36:47) ان سے کہا جاتا ہے کہ ایسا نظام قائم کرو کہ کوئی بھوکا نہ رہے‘ جو کچھ خدا نے زندگی کے لیے سامانِ زیست دیا ہے اسے یوں کھلا رکھو کہ ہر ایک کو ملتا جائے اور کوئی بھوکا نہ رہے۔ کتنی معقول بات ہے !   قَالَ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا لِلَّذِينَ آمَنُوا (36:47)

عزیزانِ من ! کیا بات قرآن کی ہے ! کفر اور ایمان کا آپ امتیازی نشان‘ ذہنیت‘ حدِ فاصل‘ امتیازی چیز دیکھیے کہ وہ کافر ایمان والوں سے یہ کہتے ہیں کہ   أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّـهُ أَطْعَمَهُ (36:47) ارے ! کیا تم نے کہہ دیا !! جن کو خدا بھوکا رکھنا چاہتا ہے اس کی مشیت میں یہ ہے کہ یہ بھوکے رہیں‘ تو کیا ہم ان کو کھلائیں؟ ارے ! خدا کے خلاف جنگ ہم کریں !! کہا ہے کہ کافر مومن سے یہ کہتے ہیں۔ اور جب یہ اسلام کی گاڑی دوسری پٹڑی پہ پڑی تو مومن یہی کچھ کہنے لگ گئے‘ برادرانِ عزیز ! کہ یہ سب اس کی مشیت سے ہوتا ہے۔ ان سے کہو کہ   إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (36:47) گمراہی اور ایسی کھلی ہوئی گمراہی اس سے بڑی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے۔ یہاں   ضَلَال آیا ہے اور   ضَلَال بھی   ضَلَالٍ مُّبِينٍ ہے۔ اور آپ کے ہاں یہ عین اسلام بن گیا ہوا ہے‘ یہ جزوِ ایمان بن گیا ہوا ہے۔

ایک اور آیت (43:20) میں کہا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ بھئی ! ان بتوں کی پرستش کیوں کرتے ہو‘ مزاروں پہ کیوں جاتے ہو‘ انسانوں کو کیوں خدا بنا رہے ہو‘ یہ غیرِ خدا کی عبودیت کیوں اختیار کیے ہوئے ہو؟ جب ان غلط راستوں کے متعلق کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ   وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّ‌حْمَـٰنُ مَا عَبَدْنَاهُم   (43:20) اگر خدا کی مشیت میں یہ ہوتا‘ وہ چاہتا تو ہم کیسے ان غلط چیزوں کی پرستش کرتے صاحب ! یہ تو مشیتِ ایزدی ہے‘ یہ تو اس نے ہی وہ چاہا ہے ہم جو کچھ کر رہے ہیں۔ دیکھ رہے ہیں آپ ! وہی الفاظ ہیں جو ہم صبح سے شام تک دہراتے چلے جاتے ہیں۔ اور دہراتے ہی نہیں‘ جو زیادہ دہراتا ہے اس کو ہم زیادہ خدا پرست اور مقرب سمجھتے ہیں‘ وہ راضی برضا ہو جاتا ہے۔ کہا ہے کہ   مَّا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ   (43:20) ۔ کیا بات ہے قرآن کی ! محض عقیدے کے زور پہ یہ بات نہیں منواتا کہ نہیں ! یہ نہیں‘ یہ عقیدہ رکھو۔ کہا ہے کہ ان سے کہو کہ علم کی بارگاہ سے پوچھیں‘ ان کو تو وہاں سے بھی اس کی سند نہیں ملے گی۔   إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُ‌صُونَ (43:20) یہ قیاس آرائیاں ہیں‘ یہ   Escapism   ( فراریت ) کی وہ ہے ‘ جسے ہم Justificatory Reason   ( وجہ جواز ) کہتے ہیں ۔

منطقی دلائل کے برعکس صبح و شام ہماری علمی اور عملی زندگی میں تضاد

بات اندر سے کچھ اور ہے‘ اس کے لیے یہ منطقی دلائل تراشتے چلے جاتے ہیں‘ ورنہ خود ان سے کہو کہ یہاں تو یہ کہتے ہو‘ جب زندگی کے عملی میدان میں تم صبح سے شام تک جاتے ہو‘ تو وہاں کہیں بھی یہ بات نہیں کہتے۔ جو شخص تم سے کچھ چھیننا چاہتا ہے یا چھین کر لے جاتا ہے‘ یہ کبھی نہیں کہتے کہ ہاں صاحب ! خدا نے اس کے لیے یہی لکھا ہوا تھا‘ اس لیے وہ لے گیا ہے۔ اگر وہ سامنے ہے تو ہاتھ پکڑتے ہو‘ اس کو تھانے لے جاتے ہو‘ بیمار ہوتے ہو تو علاج کی طرف جاتے ہو‘ کوئی شخص دھاندلی کرتا ہے تو قانون کی طرف جاتے ہو۔ دیکھا کہ علم کی بارگاہ یہ کچھ کہتی چلی جا رہی ہے۔ کہتا ہے کہ یہاں یہ کچھ یہ کرتے ہیں۔ کیا بات ہے صاحب ! کہتا ہے کہ بات ساری یہ ہے کہ    بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِ‌هِم مُّهْتَدُونَ (43:22) ۔ دوسری یہ تقدیر کی بات کہہ دی‘ اور اگلی تقلید کی بات کہہ دی کہ آباؤ اجداد یہ کچھ کہتے اور کرتے چلے آرہے ہیں‘ ہم بھی یہ کہتے ہیں اور کرتے ہیں۔ وہ آباؤ اجداد تو بھئی ! بہرحال ہم سے زیادہ قرآن سمجھتے تھے ہم ان کے نقش قدم پر ہدایت پہ ہیں۔چلو ! قصہ ختم کیا۔ ایک اور آیت (6:149) لے لیجیے۔ وہاں کہا تھا کہ کافر یہ کہتے ہیں‘ یہاں کہا ہے کہ مشرک یہ کہتے ہیں کہ   سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا لَوْ شَاءَ اللَّـهُ مَا أَشْرَ‌كْنَا وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّ‌مْنَا مِن شَيْءٍ (6:148) ان سے جب پوچھو کہ کیوں شرک کی کیفیتیں اختیار کیے ہوئے ہو‘ تو کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا‘ اس کی مرضی ہوتی تو ہم یہ نہ کرتے ۔ نہ ہم کرتے‘ نہ ہمارے آباؤ اجداد اس طرح سے کرتے۔

یہ غلط روش زندگی آباؤ اجداد سے چلی آرہی تھی جس کی تائید علم کی بنیاد پر ہو ہی نہیں سکتی

برادرانِ عزیز ! قرآن کا انداز کیا حسین انداز ہوتا ہے ! کہتا ہے کہ   كَذَٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ   (6:148) یہ نئی بات نہیں ہے‘ ان سے پہلے یہ قومیں آئیں‘ وہ حقیقت کو اسی طرح سے جھٹلائے چلی آتی تھیں کَذَّبَ انہوں نے بھی حقیقت کو یوں جھٹلایا تھا۔گویا یہ کہنا تکذیبِ حقیقت ہے کہ خدا نے ہی ایسا کہا ہے‘ اس لیے ہم کرتے ہیں‘ وہ بھی ایسا کرتی چلی آئی تھیں۔ کرتی چلی آئی تھیں تو پھر کیا ہوا؟ سیدھی سی بات ہے کہ اگر خدا کی مرضی سے ہی یہ چیزیں غلط ہوتیں تو پھر تو اس کا نتیجہ ایسا نہیں تھا کہ ان کو بھگتنا پڑتا۔ کیا انداز ہے ! کہا ہے کہ وہ کہتے چلے گئے   حَتَّىٰ ذَاقُوا بَأْسَنَا (6:148) اور ان کے اعمال کی تباہیوں کے جو نتائج تھے انہوں نے اُن کو آکر پکڑ لیا۔ تم کہتے رہو‘ کہ ہمارا قانون یہ کہنے سے ٹل جائے گا کہ تم کہتے ہو کیونکہ خدا ہی کی مرضی ایسی ہے اس لیے ہم کہتے ہیں تو وہ بھی کہے کہ ہاں صاحب ! ان سے کچھ نہ کہو۔وہ کہتے گئے تآنکہ انہیں ہماری گرفت اور ہمارے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا۔ پھر پوچھا کہ اگر خدا کی مشیت تھی‘ تم یہ کرتے تھے‘ تم ذمہ دار نہیں تھے‘ تو پھر تمہیں اس کی طرف سے یہ عذاب کیسے آگیا۔ یعنی کیسی عمدہ دلیل ہے ! کاٹ کس قسم کی ہے ! کہا ہے کہ یہ دلیل کہ تمہیں تمہارے کیے کے بدلے میں جزا و سزا ملتی ہے یہی اس چیز کی دلیل ہے کہ مشیت تمہیں ایسا کرنے کے لیے مجبور نہیں کر رہی۔ کیا بات ہے !   قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِ‌جُوهُ لَنَا (6:148) ان سے کہو کہ یہ بات کہ اسلاف سے ہوتا چلا آرہا ہے‘ کا سوال نہیں ہے۔ علم کی رو سے کیا تم اس کے حق میں کوئی دلیل لاسکتے ہو؟ اگر لاسکتے ہو تو لاؤ۔ کہا کہ   إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُ‌صُونَ (6:148) یہ سب ظن کی کاروائی ہے‘ علم کبھی اس کی تائید نہیں کرے گا۔ ایمان تو عزیزانِ من ! بڑی چیز ہے۔ قرآن کا تو دعویٰ ہے کہ علم اس کی تائید نہیں کرے گا۔ اور جس کی تائید علم نہیں کرے گا‘ ایمان اس کی تائید کیسے کردے گا۔

قرآنِ حکیم میں بیان کردہ قصۂ ابلیس و آدم تو پوری انسانی تاریخ کا نچوڑ ہے

پھر قصۂ ابلیس و آدم کی جو بات تھی‘ میں وہ کئی دفعہ دہرایا کرتا ہوں۔ قرآن نے وہ بات دو لفظوں میں بیان کردی ہے۔ بڑی صاف بات ہے کہ آدم کو بھی حکم دیا گیا‘ اس سے لغزش ہوئی‘ اس نے معصیت کی۔ اس نے معصیت کی تُو اس سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ کیا کیا؟ اس نے کہہ دیا کہ   رَ‌بَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ‌ لَنَا وَتَرْ‌حَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ   (7:23) ہاں ! بارِ الٰہا ! مجھ سے غلطی ہوئی‘ میں نے لغزش کھائی‘ میں اس کا اعتراف کرتا ہوں‘ میں اپنی لغزش کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ کہا کہ ہاں ! تُو نے جب اپنے فعل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے‘ تمہیں اس کا احساس ہوگیا ہے کہ تم نے یہ کیا ہے‘ تم سے لغزش ہوئی ہے‘ اس لیے اب تمہارے لیے باز آفرینی کا امکان ہے۔ ٹھیک ہے جاؤ اور اس غلطی کی اصلاح کرو‘ جو نقصان ہوا ہے اس کی تلافی کرلو‘ یہ ہوسکتا ہے۔

ابلیس سے پوچھا گیا کہ تمہیں جو ایک حکم دیا گیا تھا‘ تُو نے اس کی معصیت کیوں کی؟   قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَ‌اطَكَ الْمُسْتَقِيمَ   (7:16) میں نے کہاں غلطی کی ! میں نے کہاں معصیت کی ! تُو نے مجھے غلط راستے کے اوپر ڈال دیا‘ تُو نے مجھے گمراہ کردیا۔ کہا کہ تیرے لیے باز آفرینی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تُو ذمہ داری قبول نہیں کرتا‘ خود کیا ہے کچھ اور اس کے متعلق ذمہ دار دوسرے کو ٹھہراتا ہے۔ کس دوسرے کو؟ جسے ہم ہر روز‘ برادرانِ عزیز ! ہر سانس میں‘ اپنے ہر عمل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ ’ خدا کی مرضی ایسی تھی‘۔ یہ کہتا ہے کہ تُو نے یہ کچھ کرا دیا مجھ سے‘ میں نے نہیں کیا۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ ابلیس مردود ہے‘ راندۂ درگاہ ہے‘ تو ایسے ذہن میں آتا ہے کہ اس نے یہ بات کہی ’’ اور غصہ چڑھ گیا اللہ میاں نوں  ٭ (5)  ‘‘ ۔ عزیزانِ من ! یہاں غصہ چڑھنے اور راضی ہونے کی بات نہیں ہے‘ یہاں تو قانون کی بات ہے۔ جس نے یہ کہا کہ ہاں میں ذمہ دار ہوں‘ مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس ہے‘ وہ اصلاح کرسکتا ہے۔ جو یہ ساری عمر کہتا رہے کہ میں اس کا ذمہ دار ہی نہیں ہوں اور اس کے بعد اس ذمہ داری کو کسی دوسرے کے سر تھوپے‘ اور کہے کہ   خدا یہ کچھ کرا رہا ہے یعنی میں اس کو بدل ہی نہیں سکتا‘ وہ اپنی اصلاح کیسے کرسکتا ہے۔ یہ جو ہے کہ ابلیس ہمیشہ کے لیے مایوس ہے تو مایوس وہی ہوتا ہے ‘جس کے لیے اصلاح اور باز آفرینی کا امکان باقی نہ رہے۔ سوال یہ ہے کہ امکان کس کے لیے نہیں ہے؟ جو اپنی ذمہ داری کا اعتراف نہیں کرتا‘ جو اپنی غلطی کو دوسرے کے سر تھوپتا ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں‘ آپ اپنے ذہن میں اپنے آپ کو یا اور احباب کو لیتے آئیے‘ جن کی ذہنیت یہ ہو‘ پھر دیکھیے کہ وہ اپنی کسی قسم کی کسی خرابی میں اصلاح کر پاتے ہیں؟ نہیں۔ جن کی کیفیت یہ ہو کہ وہ مانیں ہی نہیں کہ میں اس کا ذمہ دار ہوں‘ میں یہ کرتا ہوں اسکی اصلاح ممکن نہیں۔ یہ ہے ابلیسیت‘ وہ ہے آدمیت۔ وہاں باز آفرینی کا امکان ہے یہاں باز آفرینی کا امکان نہیں۔ بات‘ عزیزانِ من ! ساری صاف ہوگئی۔

انسانوں کی دنیا میں خدا کو فاعل قرار دینے کا مفہوم اور کلمات اللہ کی اہمیت

ان چیزوں میں اب سوال یہ ہے کہ جب   خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ (2:7) کہہ کر خدا نے یہ بات کی ہے تو اس کے معنی کیا ہیں۔ اس چیز کے صحیح طور پہ نہ سمجھنے سے سارے الجھاؤ پیدا ہوتے ہیں۔ ہم براہِ راست خدا کو فاعل قرار دیتے ہیں کہ خدا یہ کرتا ہے۔ ٹھیک ہے خدا نے یہ کہا ہے کہ ہم یہ کرتے ہیں لیکن اپنے کرنے کے لیے ہم نے کچھ قوانین وضع کیے ہوئے ہیں۔ ہم اس کائنات میں جو کچھ کرتے ہیں‘ اپنے وضع کردہ قوانین کے مطابق کرتے ہیں   وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا   (33:62) اور اپنی اس روش کے اندر ہم کبھی تبدیلی نہیں کرتے۔ غور فرمایا آپ نے ! خدا یہ کرتا ہے۔ کیا کرتا ہے خدا؟ آگ میں جلا دینے کی خاصیت خدا نے خود اپنی مشیت سے‘ خود اپنے ارادے سے‘ پیدا کی‘ وہ قادرِ مطلق ہے‘ اس نے آگ میں جلانے کی اور پانی میں تسکین دینے کی خاصیت پیدا کی ہے‘ یہ اس کا کچھ پلان ہے جس کے مطابق اس نے کچھ ایسا کیا ہے‘ وہ پابند نہیں ہے پورا اختیار رکھتا تھا لیکن جب آگ میں یہ خاصیت پیدا کی کہ وہ جلا دے گی اسے ہم کلمات کہلاتے ہیں۔ یہ   Laws as defined   ( متعین قوانین ) ہیں۔ مثلاً یہ کہ آگ حرارت پیدا کرتی ہے۔ اگلی چیز یہ ہے کہ جو شخص اس کے اندر انگلی ڈالے گا‘ اس کی انگلی جل جائے گی‘ یہ ہمیشہ ایسا ہوگا۔ یہ سنت اللہ ہے۔ یہ   Law ( قانون ) وہ ہے جو   Act   ( کام ) کرتا ہے۔ جب بھی کوئی ایسا کرے گا تو اس کا وہ   Law   ( قانون   ) Operate (   کام ) کردے گا کہ آگ جلا دیتی ہے۔ یہ سنت کہلاتا ہے ۔کہا ہے کہ   وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا   (33:62) ۔ کلمات کے متعلق کہا ہے کہ   وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّـهِ   (6:34) وہ جو اس نے قانون بنا دئیے ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں۔ قوانین جس طرح سے عمل کرتے ہیں یعنی   Law as applied   ہیں‘ وہ سنت اللہ ہے۔ ان میں بھی تبدیلی نہیں ہوتی۔

قانون اور حکم میں فرق

یوں کہیے کہ خدا کے قانون   (Law)   کے معنی یہ ہیں کہ   "How the will of God operates in this Universe"   یعنی خدا کی مشیت‘ اس کا ارادہ‘ اس کا پلان‘ اس کی   Will‘   اس کائنات میں کیسے   Operate   کرتی ہے‘ اس کائنات میں وہ کیسے کار فرما ہوتی ہے۔ یہ جو اس کی کار فرمائی کا   Work   کرنے کا   Mode   ہے‘ اس میں کہا ہے کہ اس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ جب کسی ایک روش میں تبدیلی نہ ہو‘ تو اسے   Law   ( قانون ) کہتے ہیں۔ قانون بھی ایک حکم ہوتا ہے۔ حکم اور قانون میں فرق یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حکم گھڑی گھڑی بدلتا رہے۔ حکم جو کبھی بدلے نہیں‘ اسی طرح سے رہے‘ اسے قانون کہتے ہیں۔ اب یہ جو چیز ہے کہ بارش برسنے کے لیے ایک قانون بنایا‘ سورج کی حرارت سے سمندر کا پانی جسے ہم بادل کہتے ہیں Evaporate   ( تبخیر ) ہوکر اوپر گیا‘ وہ اس ہوا سے ہلکا تھا‘ اس لیے اوپر چڑھا۔ وہاں جانے کے بعد ہوا نے اس کو اِدھر سے اُدھر دھکیلا‘ کسی ایسے مقام کے اوپر جہاں وہ ٹھنڈا ہوا‘ بارش برسی۔ قانون یہ تھا کہ جب کوئی بخارات ٹھنڈے ہو جاتے ہیں‘ تو پانی میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اگلا قانون یہ ہے کہ پانی ہوا سے بھاری ہوتا ہے چونکہ وہ بھاری ہوتا ہے‘ اس لیے وہ نیچے آجاتا ہے۔

خدا کی منشا سے مراد خدا کا قانون ہوتا ہے

یہ ساری جتنی بھی چیزیں ہیں یہ ہیں قانونِ خداوندی۔ ایک جگہ خدا نے کہا ہے کہ بارش خدا کے اذن سے ہوتی ہے۔ اذن کے معنی ہی یہ قاعدہ‘ یہ قانون‘ جو کچھ بھی ہے‘ کے ہیں۔ اس لیے کہا ہے کہ بارش خدا کے متعین قوانین فطرت کی رو سے ہوتی ہے۔ اور اگر وہ کسی دوسری جگہ کہے کہ خدا بارش برساتا ہے تو بات وہی ہے۔ اس میں دو الفاظ   Understood   ( مضمر ) ہیں اور وہ یہ ہیں۔ اگر آپ ان دو الفاظ یعنی قانونِ خداوندی کو درمیان میں رکھ لیا کریں تو پھر سارا مسئلہ حل ہو جائے گامثلاً خدا بارش برساتا ہے کی جگہ کہیے ’’ خدا اپنے قانون کے مطابق بارش برساتا ہے‘‘ خدا ہی مریض کرتا ہے کی جگہ کہیے کہ ’’خدا اپنے قانون کے مطابق مریض کرتا ہے‘‘ خدا ہی شفا دیتا ہے کی ’’جگہ کہیے کہ خدا اپنے قانون کے مطابق‘‘ شفا دیتا ہے‘ خدا ہی مارتا ہے کی جگہ کہیے وہ ’’اپنے قانون کے مطابق‘‘ موت طاری کردیتا ہے تو مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔

انسان کو قدرت نے کائناتی علم حاصل کرنے کی صلاحیت پہلے ہی عطا کررکھی ہے

کیوں عزیزانِ من ! اس میں کوئی کسی قسم کی بھی آپ کو الجھن باقی رہتی ہے؟ لیکن   Expressly   ( واضح طور پر ) وہ یہ چیز کہتا کیوں ہے‘ اس میں بڑی چیز ہے۔ کائنات کا‘ مادیین   (Materialists)   کا‘ ایک نظریہ ہے‘ جسے وہ   Materialistic Concept   ( مادی نظریہ ) کہتے ہیں۔ وہ مادیین (Materialists)   بھی یہ کہتے ہیں کہ اس کائنات کے اندر جو کچھ ہوتا ہے‘ قانون کے مطابق ہوتا ہے   Laws of Nature   ( قوانینِ فطرت ) کے مطابق ہوتا ہے‘ ان قوانین کا علم انہوں نے حاصل کیا ہے۔ قرآن نے خود کہا تھا کہ   وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (2:31) ہم نے یہ جو فطرت کے قوانین ہیں‘ ان کے علم حاصل کرنے کی صلاحیت آدم کو دے رکھی تھی۔ علم حاصل کرنے کے بعد ایک مادہ پرست   (Materialist)   وہیں رک جاتا ہے۔ وہ کہتا یہ ہے کہ یہ سارا کچھ ان قوانین کے تابع ہوتا چلا آرہا ہے اور یہیں سے معاملہ ختم ہوجاتا ہے‘ ان کے پیچھے خدا وغیرہ والی جو بات ہے وہ سب غلط ہے‘ وہ نہیں ہے۔ کائنات   Create   ( تخلیق ) ہوئی ہے۔ وہ مادہ پرست پیچھے چلا جاتا ہے‘ پیچھے چلا جاتا ہے اور ذہنِ انسانی تو انتہا تک جاہی نہیں سکتا‘ کسی مقام پہ اس کو کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ وہاں اس سے پوچھو تو وہ کہتا ہے کہ یہ کسی نہ کسی طرح سے وجود میں آگئی ہے۔ اس کہہ دینے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہ انسانی دنیا میں آتا ہے تو یہاں اسے طبعی قوانین کے علاوہ کوئی اور قانون نہیں ملتے۔   Laws of Nature   ( قوانینِ فطرت ) انسان کی Physical Life   یا طبعی دنیا کے اوپر تو   Operate   ( عمل ) کرتے نظر آتے ہیں‘ اس کی جو انسانی دنیا ہے اس کے لیے کوئی قوانین نہیں نظر آتے۔ اور جب نظر نہیں آتے ہیں تو اس کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اس میدان میں انسان آزاد ہے‘ جس قسم کے قوانین جی چاہے‘ وہ اپنے لیے بنالے۔ اور پھر اس کا نتیجہ آپ دیکھ رہے ہیں جو کچھ آج دنیا کے اندر ہو رہا ہے۔

قانون کے ساتھ قوتِ نافذہ کا ہونا ضروری ہوتا ہے

پہلی چیز تو قرآن نے یہ کہی ہے کہ خدا اپنے قوانین کے مطابق یہ کرتا ہے۔ کہیں اس نے کہہ دیا کہ بارش اس کے قانون کے مطابق برستی ہے‘ کہیں یہ کہا کہ بارش خدا برساتا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ وہ انسان کے دل میں یہ بات ہر وقت راسخ کرتا چلا جائے کہ قانون بجائے خویش کوئی ایسی قوت نہیں ہوتی جو خود یہ کرتا ہے‘ کوئی قوت ہوتی ہے جو ان قوانین کو اس طرح سے نافذ کرتی ہے کہ وہ ایسا ہی کرتے چلے جائیں۔ قانون تک کھڑے ہوکر بس وہاں نہ رک جاؤ‘ یہ بھی مانو‘ یہ بھی سوچو کہ قانون کے پیچھے ایک قوت ہے۔ کائنات   Create   ( تخلیق ) کی‘ اس کو جو   Sustain ( پرورش ) کرنا ہے‘ اس کے لیے کتنی بڑی قوت کی ضرورت ہے کہ اس کائنات کو   Sustain   کیا جائے۔ ہر آن اس کے تقاضوں کے مطابق ضروریات دی جائیں‘ ان میں اضافے کیے جائیں‘ اس میں   Evolution   ( ارتقا ) کا   Process   ( عمل ) جاری ہو‘ اس کے پیچھے ایک قوت کی ضرورت ہے۔ جب خدا اپنی طرف نسبت کرتا ہے تو وہ اس لیے ہے کہ یہ نظریہ ذہن میں قائم نہ کرلو کہ بس یہ قانون کسی طرح سے آگیا ہے‘ اس کے بعد اب سوال ہی نہیں کہ کوئی پیچھے ہے۔ وہ مومن کے دل میں یہ بات پیدا کرتا ہے کہ یہ چیزیں قانون کے مطابق ہوتی ہیں‘ یہ قوانین خدا کے مرتب کردہ ہیں‘ خدا ہی ان کو   Sustain   ( مداومت ) کر رہا ہے۔ اور اس لیے جب وہ انسانوں کی دنیا کی طرف آتا ہے تو وہ یہ سوچنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے کہ جب کائنات کی ہر شے کے لیے خدا کے مرتب کردہ قوانین ہیں‘ کسی شے نے اپنے لیے خود قانون مرتب نہیں کیا تو انسانوں کے لیے بھی کوئی قوانین ہیں جو انہوں نے مرتب نہیں کیے۔

کائنات کی کسی چیز نے اپنے اپنے ہاں قانون سازی کے لیے اجلاس طلب نہیں کیے تھے

برادرانِ عزیز ! یہ نہیں ہوا تھا کہ بکریوں کی کہیں   All World   ( عالمی ) ایک بکری کانفرنس ہوئی تھی اور اس کے اندر انہوں نے   Unanimously it was agreed and resolved   ( متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ ) کیا ہو کہ ہم صرف گھاس کھایا کریں گی‘ گوشت نہیں کھایاکریں گی۔ یہ نہیں ہوا تھا۔ آگ نے کہیں بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کرلیا تھا کہ میں جلایا کرونگی۔ پانی نے اپنے متعلق یہ نہیں کہا تھا کہ میں نشیب کی طرف بہا کرونگا۔ یہ قوانین ان اشیا کے خود مرتب کردہ‘ وضع کردہ‘ نہیں ہیں۔

خارجی کائنات کی طرح انسانی دنیا کے لیے بھی کوئی انسان خود آئین وضع نہیں کرسکتا

جو مومن یہ مانتا ہے کہ یہ قوانین ان کے مرتب کردہ نہیں ہیں‘ وہ یہ بھی مانے گا کہ انسان کی انسانی زندگی کے لیے بھی قوانین وہ نہیں ہوسکتے جنہیں یہ خود مرتب کرے۔ یہ بات تو فطرت کے قاعدے کے خلاف چلی جائے گی۔ خود قانونِ فطرت اسے یہ   Suggest   ( تجویز ) کرے گا‘ یہ مانے گا کہ کوئی شے اپنی زندگی کے لیے آپ قانون وضع نہیں کرسکتی۔ اور جو قوانین اس کے لیے وضع کیے گئے ہیں‘ ان کے تابع جب وہ زندگی بسر کرتی ہے تو وہ نہایت سکون اور   Peace   ( امن ) اور اطمینان کی زندگی ہوتی ہے۔ کوئی نقصان اور حرج واقع نہیں ہوتا   Development   ( نشوونما ) ہوتی چلی جاتی ہے‘ دوسری چیزیں بھی نہایت اطمینان سے رہتی ہیں۔ خرابیاں اس وقت آتی ہیں جب وہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

قانونِ خداوندی سے آزاد انسان کی کیفیت اور اس کا نتیجہ

انسانوں کی زندگی میں بھی اگر یہ بات مان لی جائے کہ قوانین اس کے لیے کوئی نہیں ہیں اور یہ خود وضع کرتا ہے تو ساری   Nature   ( فطرت ) کے خلاف ہم نے ایک مسلمہ مانا۔ اور پھر جب خود وضع کرتا ہے تو خود ہی جب جی چاہے توڑ دیتا ہے‘ جہاں جی چاہے   Apply   ( لاگو ) کرلے‘ جہاں جی چاہے اس کو توڑ لے۔ یہ چیز کہ جہاں جی چاہے فریب خوری سے دوسرے کا مال ہتھیالے اور اس کو کھالے اور اس کی چیزیں لے اور اس سے یہ عیش اڑائے۔ یہ چیز اس کے اپنے وضع کردہ قانون کے مطابق ہے۔ ایک قانون ایسا بھی ہے جو اس نے خود وضع نہیں کیا یعنی چوری کا مال نہیں کھایا۔ سنکھیا اگر کھالے تو اس کے بعد جو کچھ اس پہ بیتتی ہے یہ اس کو بدل نہیں سکتا۔ اس لیے کہ یہ قانون اس کا اپنا وضع کردہ نہیں تھا‘ جس نے یہ قانون وضع کیا تھا وہ ایک قوت رکھتا ہے کہ ہر وقت ہر جگہ ہر شخص کے لیے سنکھیا وہی اثر پیدا کرے۔ اور جب انسان اپنے لیے‘ اپنی قوم کے لیے قانون وضع کرتا ہے تو پھر اس کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ یہاں کوئی قانون برتے‘ وہاں کوئی قانون برتے‘ اس وقت کوئی قانون ہو‘کل کو کوئی قانون ہو‘ میرے لیے کوئی ہو دوسرے کے لیے کوئی‘ اپنی پارٹی کے لیے اور ہو دوسروں کے لیے اور ہو‘ اپنی قوم کے لیے اور ہو دوسروں کے لیے اور ہو‘ پھر جب جی چاہے اس کو بدل لے۔

مومن کا شیوۂ زندگی

مومن جب اس چیز پہ ایمان رکھتا ہے کہ کوئی شے‘ کوئی قانون ‘خود وضع نہیں کرسکتی بلکہ قانون تو وضع کردہ ملتے ہیں تو اسے یہ ماننا ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کے لیے بھی وہ خود قانون نہیں وضع کرتا‘ یہ قانون اسے وہیں سے ملنے چاہئیں جہاں سے اس کی طبعی زندگی کے لیے قانون بنے ہوئے ہیں۔ اور وہ قانون اٹل ہونے چاہئیں‘ وہ قانون ہر انسان کے اوپر یکساں   Apply   ( لاگو ) ہونے چاہئیں‘ ان کے نتائج ہر جگہ یکساں نکلنے چاہئیں۔ یہ ہے وہ مسلمہ جس پہ انسان اس نتیجے پہ پہنچتا ہے۔ جب یہ تسلیم کرتا ہے کہ قوانینِ فطرت خدا کے وضع کردہ ہیں اور اس کے لیے خدا یہ کرتا ہے کہ جہاں بات کرتا ہے کہ آگ یوں کرتی ہے‘ بارش یوں برستی ہے تو اس کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مانو کہ خدا اپنے قوانین کے مطابق یہاں یوں کرتا ہے تاکہ تم اپنی زندگی کے اندر بھی یہ چیز سمجھ لو کہ یہاں بھی اس چیز کی ضرورت ہے کہ خدا کا وہ قانون ہمارے اوپر نافذ ہو اور اس کے مطابق یہ چیزیں ہوں لیکن یہ نہ سوچ لیجیے کہ انسان اگر اپنے لیے قوانین خود وضع کرکے ان کے مطابق جیسا جی چاہے‘ زندگی بسر کرے تو خدا کے قوانین جو اس سے   Applicable   ( لاگو ہونے کے لائق ) ہونے چاہئیں‘ وہ سارے پھر معطل ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ دو خدائیاں نہیں چل سکتیں۔ اس کو اس کا تو اختیار ہے کہ چاہے تو سنکھیا کھالے اور چاہے نہ کھائے‘ بکری کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ چاہے تو گھاس کھائے اور چاہے تو گوشت کھائے اس لیے وہاں کوئی باقی خرابی نہیں ہوتی۔

نتائج کے لحاظ سے انسانی زندگی کے لیے بھی قانون اسی طرح اٹل ہیں جس طرح خارجی کائنات کے لیے ہیں

انسان کی زندگی میں یہ صورت ہے قانون ہے اٹل‘ اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اس کے مطابق چلے یا اس کی خلاف ورزی کرلے۔ سنکھیا ہلاک کرتا ہے اٹل ہے‘ پانی کا ایک گلاس پیاس بجھاتا ہے اسی پانی کے اندر غوطہ ہو جائے تو آپ پہ موت طاری ہوجاتی ہے‘ یہ اٹل ہے۔ قانون اس کا وضع کردہ نہیں ہے‘ اس کو اختیار ہے کہ اُس کے مطابق چلے یا اس کی خلاف ورزی کرے‘ قانون اپنا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ بعینہٖ یہی چیز انسان کی انسانی زندگی کے متعلق ہے‘ برادرانِ عزیز ! جب اس نے یہ کہا ہے کہ   إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ   (6:21) یاد رکھو ! ظالم کی کھیتی پنپ نہیں سکتی۔ یہ ایسا ہی قانون ہے جیسا یہ کہنا ہے کہ سنکھیا کھانے والا بچ نہیں سکتا۔ وہ بھی قانون اٹل ہے‘ یہ بھی قانون اٹل ہے۔ انسان کو اس کا اختیار ہے کہ سنکھیا کھائے یا نہ کھائے اس کے نتیجے سے نہیں بچ سکتا۔ انسان کو اس کا اختیار ہے کہ ظلم کرے یا انصاف کرے لیکن ظلم کرنے کے بعد اس کے نتیجے سے اسی طرح سے نہیں بچ سکتا جیسے سنکھیا کھانے کے بعد اس کے ہلاکت آفریں نتیجے سے نہیں بچ سکتا۔ یہ ہے عزیزانِ من ! وہ لم اور حکمت جس کے لیے قرآن نے ان تمام امور کو جو قوانینِ خداوندی کے تابع یہاں ہوتے ہیں‘ اس انداز میں کہا ہے کہ خدا ایسا کرتا ہے‘ خدا ایسا کرتا ہے۔

خدا کی مشیت سے مراد خدا کا قانون ہوتا ہے جس کی وضاحت اُسکی حکمت نے خود واضح کر رکھی ہے

جیسا میں نے عرض کیا ہے کہ بات سمجھنے کے لیے آپ ہمیشہ اس کا ترجمہ یہ کرلیجیے۔ مشیت کے معنی یہ نہیں کہ وہ ہر وقت جیسے جی چاہے کرتا رہتا ہے‘ مشیت کے معنی ہیں کہ ان قوانین کو اس نے اپنے ایک پلان کے تابع بنایا ہوا ہے۔ وہ ہر کام قانون کے تابع کرتا ہے   وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّـهِ تَبْدِيلًا (33:62) اور اس میں تم کبھی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ لہٰذا جہاں اس نے یہ کہا ہے کہ   خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ  ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِ‌هِمْ غِشَاوَةٌ ٌ   (2:7) تو اس کا ترجمہ یہ ہے کہ خدا کا قانون پھر یہ کرتا ہے‘ خدا اپنے قانون کے مطابق پھر یہ کرتا ہے کہ ان کی سمجھنے سوچنے کی‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیتیں مسلوب و مفلوج ہوکر رہ جاتی ہیں۔ کیوں رہ جاتی ہے؟ اس کیوں کا جواب سارے قرآن میں دیا ہوا ہے۔

برادرانِ عزیز ! قرآن میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کی نسبت خدا نے اپنی طرف نہ کی ہو مثلاً وہ جسے چاہتا ہے مملکت دیتا ہے‘ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے‘ یہ ہے جیسے ہم ترجمہ کرتے ہیں۔ سن لیجیے جو بات میں کہنے والا ہوں‘ غور سے سنیے گا اور یاد رکھیے گا۔ قرآنِ کریم میں کوئی بات ایسی نہیں جس میں ایک مقام پہ یہ کہا گیا ہو کہ خدا یوں کرتا ہے اور اس کے بعد دوسرے مقام میں یہ نہ بتایا ہوا ہو کہ یہ خدا کا قانون ہے‘ جس کی رو سے ایسا ہوتا ہے۔ کہیں اگر دقت پیش آئے تو بہرحال آپ کا یہ عاجز آپ کے سامنے ہے‘ مجھ سے پوچھ لیجیے گا۔ تمام مقامات ایسے ہیں جیسے یہاں آپ نے دیکھ لیا۔ کہا ہے   خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ (2:7) الفاظ کی رو سے نظر آتا ہے کہ خدا مہریں لگاتا ہے۔ کم از کم چھ آیات تو ابھی میں نے آپ کے سامنے پیش کردیں‘ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ مہریں لگتی کیسے ہیں۔ جب یہ بتا دیا کہ یہ کیسے لگتی ہیں تو پھر تو وہ بات نہیں ہے کہ خدا جس طرح سے جی چاہے گا‘ اپنی مرضی سے لگا دیتا ہے۔ اس نے خود بتا دیا کہ یہ یوں ہمارے ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے لگ جاتی ہیں۔ اور جب انسان خود اپنے قلب کے اوپر‘ اپنے دل پہ‘ اپنے دماغ پہ‘ مہریں لگا لیتا ہے پھر اس انسان کے لیے یکساں ہے کہ کوئی دوسرا انسان اس کی غلطیوں پہ سمجھائے یا نہ سمجھائے‘ اس کے خطرناک عواقب سے آگاہ کرے یا نہ کرے‘ وہ خود ہی نہیں سمجھنا چاہتا کہ اس نے ایسا کرلیا ہے۔

ہمارے ہاں قرآنِ حکیم کے غلط تراجم نے ملت اسلامیہ کو دنیا کی صف اول میں آنے ہی نہیں دیا

یہ ہے عزیزانِ من ! قرآنِ کریم کی رو سے اس اہم مسئلے کی حقیقت‘ جس کے غلط مفہوم نے اتنا ہی نہیں کیا کہ افراد کو ہمارے ہاں تباہ کیا ہے‘ پوری کی پوری قوم کو ہزار برس سے عضوِ معطل بنا کر اسے زندہ قوموں کی صف میں رہنے ہی نہیں دیا۔

آج ہم نے سورۃ البقرہ کی ساتویں آیت کو لے لیا‘ اس کے بعد ہے کہ   وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (2:7) ان کو عذابِ عظیم ہوگا۔ آئندہ درس میں‘ میں یہ عرض کرونگا کہ عذاب کے معنی کیا ہیں‘ یہ ہوتا کیا ہے۔ ہم نے تو جب عذاب سمجھا تو اس کے بعد یا تو وہ قیامت تک یا اس سے ذرا کم کیا تو قبر سے شروع کیا اور ہم نے اس کو وہاں اٹھا رکھا ہوا ہے‘ ہمیشہ آنے والی دنیا پر ‘ اس دنیا کے اندر یہ بات نہیں ہے۔ میں عرض کرونگا کہ قرآن کی رو سے عذاب کے معنی کیا ہیں‘ عذاب آتا کس طرح سے ہے‘ اس دنیا میں کیسے آتا ہے اس کے بعد کی زندگی میں کیسے آتا ہے اور جسے قرآن نے عذابِ عظیم کہا ہے وہ کیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر ہم تیسری کیٹگری ( شِق ) لیں گے اور وہ کیٹگری ( شِق ) ہماری ہوگی اور آپ کی ہوگی :   وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ (2:8) آؤ اس کیٹگری ( شِق ) کو سامنے لاؤ کہ جو صبح شام اقرار کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہوئے ہیں لیکن وہ مومن نہیں ہیں۔

برادرانِ عزیز ! اسے ہم آئندہ درس میں لیں گے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ط

حواشی

٭ (1)   اقبالؒ : جاوید نامہ‘ شیخ محمد بشیر اینڈ سنز‘ لاہور‘ ص ص۔ 149 تا 150 ۔

٭ (2) اتنا فاصلہ طے کرلیا کہ پاؤں میں چھالے پڑ گئے مگر گاؤں نہیں آیا۔ روتے جاؤ اور اسی راستہ پہ چلتے جاؤ اور پھر روتے دھوتے چلے جاؤ۔ او پگلے ! راستہ کیوں نہیں بدلتے؟ کہ جی ! اللہ نے اسی راستے پہ چلنا لکھا ہے۔ پھر روتے کیوں ہو؟

٭ (3)   کیوں نہیں کہتے کہ خدا کے ساتھ جھگڑا ہے۔

٭ (4)   وہ اسی طرح کا احترام ہے جس طرح پولیس تھانے میں اقبالِ جرم کرالیا جاتا ہے۔

٭ (5) اللہ میاں کو غصہ آگیا

Sura_2_Al_Baqara_ayah_7 part 01 of 02

Sura_2_Al_Baqara_ayah_7 part 01 of 02

Posted by Parwez videos on Sunday, 14 February 2016