Sura 2 Al Baqara Verse 6 (download) |Useful links:)| --Lughat--| --Tabweeb--| --Mafhoom--| --Qurani Qavaneen--| --Previous Dars--| --Duroos List--| ----->Next Dars

بِسمِ اللّٰہ اَلرَحمٰن اَلرّحِیم

سورۃ البقرۃ          (آیت :6) Sura 2 Al Baqara ayah 6           

درس قرانِ حکیم

  مفکر قرآن علامہ غلام احمد پرویزؔ

عزیزان من! آج جون 1968ء کی 23 تاریخ ہے اور ہم اپنے درسِ قرآنِ کریم کے سلسلۂ نو میں سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات میں ہیں۔ آج چھٹی آیت ہمارے سامنے آرہی ہے :(2:6)۔

ہمارے ہاں کے غلط تراجم کی صورتِ حال کے باعث نوجوان نسل کی ذہنی پریشانی کی کیفیت

آیت ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ - خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ عَلٰی سَمْعِھِمْ وَ عَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَ ۃ ٌ وَّ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (2:6-7)۔ قرآنِ کریم کے پڑھنے کا جو ہمارا قدیم انداز چلا آرہا ہے اور جو ہمارے ہاں ترجمے مروج ہیں‘ ان کی رو سے آپ دیکھیں کہ سورۃ البقرۃ کی ان ابتدائی پانچ چھ آیات میں ہی انسان اتنا الجھاؤ میں پڑتا ہے کہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ اتنا ہی نہیں کہ سمجھ میں نہیں آتی بلکہ ایک اور کشمکش شروع ہوجاتی ہے۔ یعنی پہلے یہ کہا کہ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ (2:2) ۔میں ان تراجم کی رو سے اور اس مفہوم کی رو سے عرض کررہا ہوں جو عام طور پر ہمارے ہاں چلا آرہا ہے اور جس کی وجہ سے ہمارے نئے طبقے کو جو ذرا سوچ سمجھ کر قرآن پڑھنا چاہتا ہے بجا طور پر ایک شکایت پیدا ہوتی تھی۔ یہاں تو وہ یہ کہتا تھا کہ یہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے‘ وہ کہتا یہ ہے کہ جو پہلے ہی متقی ہیں ان کو ہدایت کی ضرورت کیا ہے۔ اس مرحلے سے ہم آگے بڑھ چکے ہیں‘ یہ بات آگئی ہے۔ میں نے یہ عرض کردیا تھا کہ یہ جو ہمارے ہاں مفہوم مروج تھا‘ وہ صحیح نہیں ہے۔ اس نے کہا یہ ہے کہ یہ زندگی کی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے ایک متوازن اور سیدھے راستے کی طرف ان لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے جو راستے کی خطرناک گھاٹیوں سے بچ کر محفوظ منزل تک پہنچنا چاہیں۔ وہ بات صاف ہوگئی کہ راہنمائی کی ضرورت ہی اسے ہوتی ہے جو آمادہ بہ سفر ہو‘ جو کسی جگہ پہنچنا چاہتا ہو اور بہ حفاظت پہنچنا چاہتا ہو لیکن اس پرانے ترجمے اور پرانے مفہوم کی رو سے پہلا الجھاؤ یہ پیدا ہوتا تھا کہ جو متقی ہیں ان کو ہدایت کی کیا ضرورت ہے۔

اور یہاں سے جب وہ دو قدم آگے چلتا تھا تو اگلی آیت یہ سامنے آتی تھی کہ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ (2:6) وہ جو کافر ہیں ان کے لیے برابر ہے‘ چاہے توُ ان کو اس سے آگاہ کرے یا نہ آگاہ کرے‘ وہ تو ایمان لائیں گے نہیں۔ ہدایت ہے ان کے لیے جو پہلے ہی متقی ہیں‘ جو کافر ہیں ان کے لیے برابر ہے چاہے تُو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے‘ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آپ سوچ رہے ہیں کہ جب تک قرآن کو محض ثواب کی خاطر پڑھا جائے‘ اس وقت تک تو یہ ٹھیک ہے لیکن ذرا سوچنے کے لیے جو کوئی رکا‘ اس کے سامنے یہ کشمکش آتی ہے کہ پھر یہ کتاب ہے کیا؟ جو Already (پہلے ہی) متقی ہیں‘ ان کے لیے ہدایت ہے‘ جو کافر ہیں ان کے لیے برابر ہے کہ انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ تو ایمان لائیں گے نہیں۔ پھر اگلا سوال یہ پیدا ہوگا کہ صاحب! وہ کیوں ایمان نہیں لائیں گے؟ کیوں ان کے لیے برابر ہے چاہے تُو ان کو آگاہ کرے یا نہ آگاہ کرے اس لیے کہ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَ عَلٰی سَمْعِھِمْ وَ عَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَ ۃ ٌ (2:7) اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہوئی ہے‘ ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دی ہے‘ ان کی آنکھوں پہ پردے ڈال دئیے ہیں۔ چل بھئی! معاملہ ختم ہوا۔ یہ کتابِ عظیم آئی ہے نوعِ انسانی کے لیے صحیح راستہ دکھانے کو اور اس کی یہ کیفیت ہے‘ جو Already (پہلے سے) متقی ہیں ان کے لیے ہدایت ہے اور جو کافر ہیں ان کے لیے برابر ہے کہ تُو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے‘ یہ ایمان ہی نہیں لائیں گے۔کیوں نہیں لائیں گے؟ کیونکہ خدا نے ان کے دلوں پہ مہر کردی۔ بہت اچھا! خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی‘ کانوں میں ڈاٹ لگا دئیے‘ آنکھوں پہ پردے ڈال دئیے تاکہ وہ اس کتاب سے کوئی رہنمائی ہی حاصل نہ کرسکیں۔ خیر! انہوں نے کہا کہ چلو سستے چھوٹے۔ اور اس کے آگے ہے کہ وَّ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (2:7) ان کے لیے ہم بڑا سخت عذاب دیں گے۔

آپ نے غور فرمایا ‘برادرانِ عزیز! یہ جو ہماری نئی جنریشن کو قرآنِ کریم کے سمجھنے کے سلسلے میں الجھاؤ پیدا ہو رہے تھے‘ ان کی نوعیت کیا تھی؟ ان کا جواب ماتھے پہ شکن اور لاحول کی گالی نہیں تھا‘ وہ سمجھنا چاہتے تھے‘ انہیں سمجھانے کی ضرورت تھی۔ اور بات بڑی صاف ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے جہاں یہ کہا تھا کہ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (2:3) تو میں نے یہ کہا تھا کہ ہمارے ہاں یہ جو تصور ہے کہ مسلمانوں کے گھر میں ہم پیدا ہوگئے‘ تو ہم مسلمان ہوگئے‘ عربی زبان میں اسے مومن کہیے تو مومن ہوگئے۔ یہ غلط تصور ہے۔ یہاں فعل کا صیغہ استعمال ہوا ہے‘ اور مقامات میں بھی یہی چیز آئے گی۔ فعل (Verb) کے معنی ہوتے ہیں ’’ کچھ کرنا‘‘ یعنی یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ مثلاً مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوگیا تو وہ مومن یا مسلمان ہوگئے۔ یہ بالکل نہیں ہے۔ کہا ہے کہ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ یا اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو یہ کرتے ہیں۔ ایمان ایسی چیز ہے جسے کچھ کرکے عملاً حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ میں نے پوری تفصیل سے سمجھایا تھا کہ پیدائش کے اعتبار سے کوئی بچہ مومن یا مسلم نہیں ہوتا‘ اسے مومن بننا پڑتا ہے‘ اسے کچھ کرنا پڑتا ہے جس کے بعد پھر وہ کہہ سکتا ہے کہ اب میں ایمان لے آیا۔ کوئی بچہ پیدائش کے اعتبار سے بی اے نہیں ہوتا‘ اسے Graduate (گریجوایٹ) ہونے کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے۔ کچھ کرنے کے بعد پھر وہ اس لسٹ میں آتا ہے جسے آپ Graduate (گریجوایٹ) کہتے ہیں۔ مثال کے طور پہ میں نے کہا ہے یہ چیزیں حاصل کرنے کی ہیں‘ کچھ کرنا ہوتا ہے‘ اسی لیے وہاں یہ فعل (Verb) کا استعمال ہوا ہے۔ جس طرح سے کوئی بچہ‘ عزیزانِ من! پیدائش کے اعتبار سے مسلمان یا مومن نہیں ہوتا‘ اسی طرح کوئی بچہ پیدائش کے اعتبار سے کافر بھی نہیں ہوتا۔ جس طرح وہاں فعل (Verb) استعمال ہوا ہے‘ یہاں بھی فعل (Verb) استعمال ہے۔ کہا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (2:6) یہ بھی کچھ کرنا ہے۔ جو یہ کچھ کرے گا‘ اسے آپ کافر کہیں گے۔ کافر کے معنی کفر کرنے والا کے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بات سمجھ میں آگئی ہوگی۔ ہمارے ہاں تو یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے گھر میں مسلمان پیدا ہوئے اور جو ہمارے گھروں میں پیدا نہیں ہوا وہ کافر۔ یہ بنیادی تصور ہی غلط ہے۔ پیدائش کے اعتبار سے صرف انسان پیدا ہوتا ہے‘ اس کے بعد اسے خود کچھ بننا ہوتا ہے۔ اگر وہ اس طرح سے مومن نہیں بنتا تو وہ مومن نہیں ہوتا اور اسی طرح سے آگے جو بات آئے گی وہ یہ ہے کہ اگر وہ کافر نہیں بنتا تو کافر نہیں ہوتا۔

لفظ کفر کا قرآنی مفہوم

بات ذرا مشکل سی ہے‘ میرا خیال ہے کہ شاید یہ پہلی دفعہ سامنے آئی ہے لیکن ابھی آسان ہوجائے گی۔ قرآن کی کوئی بات مشکل نہیں ہوتی‘ ہمارے لیے نئی ضرور ہوتی ہے۔ ’’کفر‘‘ کا مادہ ’’ک ف ر‘‘ ہے۔ اس کے بنیادی معنی ’’ چھپانے اور ڈھانپنے‘‘ کے ہیں۔ یہ تو کچھ کیا جاتا ہے‘ کچھ چھپایا جاتا ہے‘ کچھ ڈھانپا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم کے مقامات میں یہ کفر اور ایمان بنیادی چیزیں ہیں۔ اگر ان کی بھی تفصیل‘ اور تفسیر قرآن خود نہیں دے گا‘ تو اور کن چیزوں کی دے گا۔ سارے قرآن میں یہی تشریح بھری پڑی ہے کہ ایمان لانا کسے کہتے ہیں‘ کفر کرنا کسے کہتے ہیں۔ ملخص ان کا یہ ہے کہ حق ٹھوس سچائیوں کو کہتے ہیں۔ جو ٹھوس سچائیوں کو پسِ پردہ رکھنے والے ہیں‘ جو ابدی حقائق کو پوشیدہ رکھنے والے ہیں‘ جو انہیں ڈھانپنے والے ہیں‘ وہ کافر کہلاتے ہیں۔

کفر اور شکر کے قرآنی معانی

آپ آگے چل کر دیکھیں گے کہ ہمارے نزدیک تو صرف خدا کا جو انکار ہے‘ وہی کفر ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان کا اپنی ذات کا انکار اس سے بھی زیادہ کفر ہے۔ انسان کا اپنی صلاحیتوں کو دبائے ہوئے رکھنا یا دوسروں کی صلاحیتوں کو ابھرنے نہ دینا‘ ان کو نشوونما پانے نہ دینا‘ ان کو دبائے رکھنا‘ ان کو چھپائے رکھنا‘ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہ آنے دینا‘ اور دوسروں کی صلاحیتوں کو چھپائے رکھنا‘ نشوونما نہ ہونے دینا کفر ہے۔ یہ لفظ شکر کے مقابلے میں بھی قرآن میں آیا ہے۔ ہمارے ہاں بھی کفرانِ نعمت‘ شکر کے مقابل میں کہتے ہیں۔ جب بھی میں شکر پہ آؤنگا تو وہاں تفصیلاً عرض کرونگا کہ شکر کے معنی کیا ہوتے ہیں۔ یہ ہے ’’ کسی چیز کا لبالب بھر جانا‘ اُبھر کر نکھر کر سامنے آجانا‘‘۔ کفر کے معنی ہوتا ہے اس طرح سے نہ ہونے دینا۔ یہ تمام نعمتیں جو خدا نے نوعِ انسانی کی نشوونما کے لیے دی ہیں اس کے لیے وہ کہتا ہے کہ ان کو ابھار کر سامنے لاؤ‘ ہر ایک کو بھرپور طور پر دو۔ یہ شکر ہے اور ان کو چھپا چھپا کر رکھنا‘ پوشیدہ رکھنا‘ سامنے نہ آنے دینا‘ تاکہ دوسروں کی نشوونما نہ ہوسکے‘ کفر ہے۔ یہ شکر کے مقابلے میں ہے۔ تو گویا کفر ہے ٹھوس سچائیوں کو پوشیدہ رکھنا۔ میں لفظ ٹھوس پہ اس لیے زور دے رہا ہوں کہ عربی زبان میں حق کے لیے ضروری ہے کہ Reality (حقیقت) یا Truth (صداقت) ایک ٹھوس نتیجے کی شکل میں سامنے آئے۔ ایک Abstract Truth (غیر محسوس سچ) جو محض ذہنوں کے اندر ہوتا ہے اس کو وہاں حق نہیں کہا جاتا۔ وہ حق کی ایک ایسی شکل ہوتی ہے جو عالمِ امر سے متعلق ہوتی ہے۔ ہمارے لیے الحق یا حق وہ شے ہے جو زندگی کے تقاضوں کے اوپر پوری طرح سے فٹ آجائے اور ٹھوس نتائج کی شکل میں Reality (حقیقت) یا Truth (صداقت) سامنے آجائے وہ الحق ہوتا ہے۔ اس حق کو چھپائے رکھنا‘ جو یہ ابدی حقائق ہیں انہیں پوشیدہ رکھنا‘ اپنی یا دوسروں کی صلاحیتوں کو بروئے کار نہ آنے دینا‘ سامانِ نشوونما کو ڈھانپ کر پوشیدہ رکھنا‘ یہ ساری چیزیں کفر کے اندر آتی ہیں۔ بنیادی طور پر اس کے معنی یہ ہیں۔ اب کفر کے معنی ہونگے ’’ یہ کچھ کرنا‘‘۔ اب آگے چلیے۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ جو لوگ یہ کچھ کرتے ہیں‘ ان کے لیے برابر ہے کہ تُو انہیں زندگی کے آنے والے خطرات سے آگاہ کرے یا نہ کرے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ میں نے عرض کیا ہے کہ کفر اور ایمان کی اصطلاحیں‘ الفاظ‘ تشریحات تو سارے قرآن میں الحمد سے والناس تک چلی آئیں گی اس لیے کسی ایک نشست میں تو ان کا احاطہ کیا ہی نہیں جاسکتا۔

بہرحال ہم نے اس دفعہ جو درس کا اسلوب اختیار کیا ہے اس میں نصاب (Carriculum) کے طور پر کم از کم اس کی جو مبادیات ہیں انہیں تو سامنے لانا ضروری ہوگا (اور ہم نے انہیں سامنے رکھا ہے)۔ پہلی چیز یہ ہے کہ آپ اسی چیز کو چھپائیں گے جو آپ کے سامنے پہلے آئی ہوگی‘ وہ آپ کے پاس ہوگی‘ آپ کو اس کا علم ہوگا۔ اسی لیے قرآنِ کریم کی رو سے کفر یہ ہے کہ ’’ کسی کے سامنے حقائق لائے جائیں‘ اس کے سامنے ان چیزوں کو پیش کیا جائے اور اس کے بعد وہ اس چیز کو چھپائے‘ اس سے انکار کرے‘‘۔ چھپانے کی جہت سے اس کے معنی انکار کے آتے ہیں۔

کفر کے بعد سرکشی کا اِرتکاب ہوتا ہے

میں ایک چیز کہنا بھول گیا۔ ایک شخص ایک چیز کو چھپاتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب اس سے یہ پوچھا جاتا ہے تو وہ انکار کرتا ہے۔ اگر وہ اس کے بعد فوراً کہہ دے کہ نہیں! میں نے چھپا کر رکھی ہوئی ہے‘ تو اس کا وہ چھپانا کیا ہوا۔ اس کا لازمی نتیجہ انکار ہوتا ہے۔ یہ اس کفر کے انکار کے ثانوی معنی ہیں۔ اور پھر جب وہ اس کے اوپر شدت سے کار بند ہوتا ہے‘ اس کی مخالفت کرتا ہے‘ روک تھام کرتا ہے‘ تو پھر اس کے معنی سرکشی کے بھی آجاتے ہیں۔ میں نے یہ کہا ہے کہ کوئی بچہ پیدائشی طور پر نہ کافر ہوتا ہے‘ نہ مسلمان یا مومن ہوتا ہے۔ اسے اپنی زندگی میں کچھ کرنا پڑتا ہے کہ اس کا کچھ نتیجہ ہوتا ہے‘ یہ کرنا ہوتا ہے جس کا نتیجہ کفر ہوتا ہے۔ کفر ہوتا ہے حقائق کو چھپانا۔ چھپانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے حقائق اس کے سامنے آئے ہوئے ہوں۔ جس کے سامنے حقائق آئے ہی نہیں ہیں‘ اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس نے یہ حقائق چھپا لیے ہیں‘ غلط ہے۔

اب یہ دیکھیے کہ قرآن کہتا ہے کہ اِِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَشَآقُّوا الرَّسُوْلَ (47:32) وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا‘ میں یہی لفظ ترجمہ کرتا جاؤنگا‘ اور لوگوں کو خدا کے راستے کی طرف آنے سے روکا یا روکتے ہیں اور یوں خدا کے اس پیغامبر کی مخالفت کرتے ہیں۔ آگے وہ بات ہے جو میں کہنا چاہتا ہوں کہ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الھُدٰی (47:32) اس کے بعد جب ان کے سامنے زندگی کا صحیح راستہ ابھر کر آگیا تھا۔ اب دیکھیے ہدایت کا‘ زندگی کے صحیح راستے کا‘ حقائق کا‘ کسی کے سامنے ابھر کر‘ نکھر کر‘ واضح طور پہ آجانا‘ اس آجانے کے بعد اگر وہ اس سے انکار کرتا ہے‘ اس کو چھپاتا ہے‘ اس کو تسلیم نہیں کرتا ہے تو تبیانِ حقیقت کے بعد یہ کفرہوا۔ کہا ہے کہ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ (18:29) ان سے کہدو کہ یہ ہے تمہارے رب کی طرف سے الحق۔ کھل کر ان کے سامنے رکھو۔ اور اس کے بعد ہے کہ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ (18:29) اب جس کا جی چاہے اسے تسلیم کرلے‘ جس کا جی چاہے اس سے انکار کردے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یُؤْمِنْ بھی کچھ کرنے کا کام ہے‘ الحق سامنے آئے پھر اسے وہ علیٰ وجہ البصیرت تسلیم کرلے۔ یہ ہے فلیؤمن ۔ اس کے برعکس اگر یہ الحق اس طرح سے اس کے سامنے آئے اور وہ اس کو Reject (رد) کردے تو یہ ہے فَلْیَکْفُرْ ۔ دیکھا یہ کام کرنے کا ہے۔ یہ کس وقت کرنے کا ہے؟ کہا ہے کہ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ (18:29)کہہ دو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے یہ الحق کسی کے سامنے آجائے (تو پھر یہ کرنے کا کام ہے)۔

واضح حقائق کو تسلیم کرنے اور تسلیم نہ کرنے کی آزادی اور اسکی وجہ جواز

عزیزانِ من! مجھے ان خیالات اور کشمکشوں کا پوری طرح احساس ہے جو اس وقت آپ کے دل میں ابھر رہے ہیں۔ قرآن اس کی طرف آئے گا مگر آپ تھوڑا سا انتظار کیجیے۔ جن کے سامنے الحق آیا ہی نہیں پھر ان کی کیا کیفیت ہوگی؟ یہ قرآن بتاتا ہے۔ لیکن ابھی تو یہ سمجھتے جائیے کہ جب آپ کسی کے سامنے ایک حقیقت پیش کریں گے‘ اسے سمجھائیں گے‘ سمجھنے کی صلاحیت اس کے اندر ہوگی‘ اس کے بعد اگر وہ اس سے انکار کرتا ہے‘ اسے چھپاتا ہے‘ اس کو سامنے نہیں لاتا ہے تو یہ کفر ہے۔ چلیے! جب یہ الحق دلیل و برہان کی رو سے‘ علم و بصیرت کی رو سے‘ ان کے سامنے آجائے تو پھر قرآن کہتا ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر انسان ان چیزوں سے انکار کرتا ہے؟

کفر ضد کی پیدا کردہ چیز ہے ‘حسد دوسری چیز ہے اور انکار کی وجہ استکبار فی الارض ہے

کہتا ہے کہ بِءْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ (2:90)۔ پہلی چیز یہ ہے کہ ان اہلِ کتاب کے سامنے یہ حقائق آگئے۔ اب یہ نہیں ہے‘ کہ وہ حقائق ایسے تھے جو ان کے نزدیک ناقابلِ تسلیم تھے‘ محکم دلائل نہیں تھے‘ وہ علم و بصیرت کی کسوٹی پہ پورے نہیں اترتے تھے۔ کہتا ہے کہ یہ نہیں تھا۔ یہ محض اس ضد کی بنا پر تھا کہ یہ نبی ہمارے گروہ میں سے کیوں نہیں ہے‘ اسماعیلؑ گروہ میں سے کیوں ہے‘ اور اسرائیل گروہ میں سے کیوں نہیں ہے۔ یہ کچھ بغیاً یعنی ضد کی بنا پر ہے۔ تو پہلی چیز یہ ہے کہ کفر ضد کی بنا پر ہوتا ہے۔ کہا ہے کہ وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِنمْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنمْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ ( 2:109) ان اہلِ کتاب میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے کہ الحق ان کے سامنے آجاتا ہے اور وہ آتا بھی اس طرح سے واضح ہے کہ تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ (2:109)۔ یہ چیز واضح طور پر‘ ابھر کر‘ نکھر کر‘ ان کے سامنے آجاتی ہے پھر بھی وہ اس سے انکار کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کس بنا پر انکار کرتے ہیں؟ کہا ہے کہ حسدًا پر۔ حسد ایک دوسری چیز ہے جس کی بنا پر حقائق کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ضد ایک چیز ہے‘ حسد دوسری چیز ہے۔

حق کو نہ ماننے کا قرآن نے ایک اور جذبہ بتایا ہے۔ کہا ہے کہ وہ لوگ جو دنیا میں کسی طور سے قوت حاصل کرلیتے ہیں‘ اقتدارات ان کی مٹھی میں ہوتے ہیں‘ کسی قسم کی کوئی پوزیشن ان کو میسر ہوتی ہے اور اب اگر الحق ان کے سامنے آئے تو اسے تسلیم کرنے سے وہ بات باقی نہیں رہتی کیونکہ انہوں نے ظلم اور دھاندلی سے وہ چیز حاصل کر رکھی ہوتی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ حقائق سے‘ کفر کرنے کا یہ ایک جذبہ ہوا کرتا ہے۔ وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لَءِنْ جَآءَ ھُمْ نَذِیْرٌلَّیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ (35:42) یہ وہ لوگ ہیں جو اس سے پیشتر قسمیں کھایا کرتے تھے کہ اگر ان کی طرف بھی کوئی حقیقت کو بتانے والا‘ آگاہ کرنے والا آجائے تو یہ باقی تمام قوموں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہونگے مگر فَلَمَّا جَآءَ ھُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَھُمْ اِلَّانُفُوْرَنِ (35:42) جب ان کے پاس اس قسم کا یہ پیغمبر آیا تو ان کی کیفیت یہ ہوگئی کہ اس سے ان کی نفرت اور بڑھ گئی۔ یہ نفرت کیوں بڑھ گئی؟اس لیے کہ اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَکْرَ السَّیِّئِ (35:43) فریب کاریوں سے یہ جو اقتدارات اور اختیارات حاصل کرلیے تھے‘ وہ ان سے چھن رہے تھے۔ یہ سمجھتے جائیے تو آپ دیکھیے گا کہ اگلی آیت جسے ختم اللہ کہا گیا ہے خود سمجھ میں آجائے گی۔ ان کی کیفیت یہ تھی‘ انہوں نے مکر اور فریب کاریوں سے یہ چیزیں حاصل کی ہوئی تھیں چونکہ حقیقت و صداقت کو تسلیم کرنے سے‘ وہ چیز چھنتی تھی‘ اس لیے اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ (35:43) کی وجہ سے انہوں نے اس سے انکار کیا۔

کفر کے معنی لالچی ہونا بھی ہے

عزیزانِ من! آپ قرآن کی یہ آیات سنتے جائیے اور ذہن میں دیکھتے جائیے۔ کفر کے معنی محض لالچی ہونا بھی ذہن میں رکھیے۔ کفر کے معنی خدا کی بیان کردہ صداقتوں سے انکار کرنا‘ ان کو چھپانا‘ ان کو پوشیدہ رکھنا‘ ان سے سرکشی برتنا‘ انہیں تسلیم نہ کرنا‘ یہ تمام چیزیں بھی ذہن میں رکھیے۔ مسلمان بھی یہ کرے گا‘ غیر مسلم بھی یہ کرے گا۔ مسلمان کے معنی ہیں ہم۔ جو مومن ہے‘ جو اس طرح سے ان کے اوپر ایمان لے آیا ہے وہ تو یہ کرے گا ہی نہیں‘ وہ تو مومن ہی اس وقت کہلائے گا جب اس نے یہ کچھ نہیں کیا۔

اب ادنیٰ ایمان والے کیا کریں ؟

اب جو شخص نہ ابھی ایمان لایا ہے‘ نہ اس نے کفر کیا ہے یا کم از کم جو ایمان نہیں لایا‘ جس کیٹگری (شِق) میں ہم لوگ ہیں‘ یہ چیزیں ان پہ بھی Apply (منطبق) کریں گے کہ حقائق ان کے سامنے آئیں اور وہ ان کو تسلیم نہ کریں۔ یہ تو ایک ایک سانس میں‘ عزیزانِ من! فیصلہ کرنے کی چیز ہوگی کہ ایمان لایا ہے یا کفر کیا ہے۔ یہ کوئی مستقل رجسٹر میں نمبر درج کرنے والی بات نہیں ہے۔ قومی اعتبار سے تو ایک شخص مسلمان ہوسکتا ہے اور ایک شخص ہندو ہوسکتا ہے لیکن قرآن جس چیز کا نام حقائق کو تسلیم کرنا یا انکار کرنا کہہ رہا ہے‘ اس میں یہ تو ہوسکتا ہے کہ اور حقائق کو تسلیم کیا ہو مگر ایک ایسی حقیقت آپ کے سامنے آئے جس سے آپ کے کسی مفاد پہ زد پڑتی ہے‘ اب اس میں آپ کی یہ کیفیت پیدا ہو جائے کہ آپ اس سے انکار کرتے ہیں تو یہ بھی کفر ہے۔ استکبار کے متعلق دوسری آیت ہے کہ وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْاقف اَفَلَمْ تَکُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاسْتَکْبَرْتُمْ وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (45:31) یہ کفر کی چیز ہے کہ جب بھی خدا کے قوانین سامنے لائے جائیں‘ وہ اس اعتبار سے کہ انہیں استکبار تھا‘ تکبر تھا‘ ان کے اندر نخوت تھی‘ ان کے اندرمے اقتدار کا نشہ تھا جس سے مدہوش ہو رہے تھے‘ کسی چیز کو خاطر میں نہیں لانا چاہتے تھے‘ سامنے بات پیش کی ‘تحت الشعور میں یہ چیز تھی کہ اس سے اپنا یہ سارا نشہ ہرن ہو رہا تھا‘ یہ اقتدارِ باطل چھن رہا تھا‘ فریب کاریوں کے پردے اٹھ رہے تھے‘ اس لیے انہوں نے اس چیز کے ماننے سے انکار کردیا۔ آپ دیکھتے جائیے کہ کفر کسے کہتے ہیں۔ اب بات سمجھ میں آجائے گی کہ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ (2:6) کے معنی کیا ہیں۔ دیکھ رہے ہیں آپ! جن کا Attitude (رویہ) اور Mind (ذہن) یہ ہو‘ جن کا طرزِزندگی یہ ہو‘ جن کا انداز یہ ہو کہ حقیقت کے سامنے آجانے سے‘ محض ضد کی بنا پہ‘ اسے نہیں ماننا‘ حسد کی بنا پہ اسے نہیں ماننا‘ ایک دن نہیں‘ آپ ساری عمر ان کے ساتھ یہ کچھ کرتے رہیے سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ (2:6) ان کے لیے برابر ہے۔ دیکھتے ہیں‘ عزیزانِ من! قرآن کس طرح سے اپنی تفسیر کرتا چلا جاتا ہے۔ اسْتِکْبَارًا فِی الْاَرْضِ کی ایک اور کیٹگری (شِق) ہمارے سامنے آتی ہے۔

قرآن کسی گوشے کو بھی نظر انداز نہیں کرتا نیز ظاہری طور پر نہ ماننے والوں کی کیٹگری (شِق)

عزیزانِ من! قرآن ہے کسی چور کو نہیں چھوڑتا‘ چوری کے کسی گوشے کو بے نقاب کیے نہیں چھوڑتا۔ کہتا یہ ہے کہ آؤ! تمہیں نہ ماننے والوں کی ایک اور کیٹگری (شِق) بتائیں۔ وَجَحَدُوْا بِھَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا (27:14) ۔ بات ہو رہی ہے حضرتِ موسیٰؑ کی‘ وہ دربارِ فرعون میں اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں۔ حقائق کلیمی ہیں‘ یدِ بیضا بھی ہے‘ جلال بھی ہے‘ اس کی رو سے ان حقائق کو فرعون‘ اس کے سارے سرداران اور تمام اہل حکومت کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ جویہ پیش کر رہا ہے‘ وہ یہ چیز ہے کہ

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

کوئی انسان دوسرے انسان کے اوپر حکومت نہیں کرسکتا۔ یہ سارا کچھ دلائل و براہین کی رو سے پیش کر رہا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ وَجَحَدُوْا بِہَا وہ پیش کر رہا ہے۔مگر وہ انکار کیے چلے جا رہے ہیں۔ وَجَحَدُوْا بِہَا (27:14) انکار کیے جا رہے ہیں‘ نہیں مان رہے ہیں۔ سنیے‘ عزیزانِ من! قرآن کہتا ہے کہ وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ (27:14) اندر سے دل مان گیا تھا کہ بات سچی کہہ رہا ہے لیکن اس کے باوجود اس چیز پر اڑے ہوئے ہیں‘ نہیں مان رہے ہیں اس لیے کہ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا (27:14) دھاندلی سے یہ سب کچھ کرنا چاہتے تھے‘ دوسروں کو دبانا چاہتے تھے۔ آپ نے یہ کیٹگری (شِق) دیکھی ہوگی کہ اندر سے دل مان رہا ہے لیکن پندارِ نفس ہے کہ اس کو اس ماننے پر آنے نہیں دیتا۔ قرآن نے اسے الْعِزَّ ۃ ُ بِالْاِثْمِ (2:206) کہا ہے۔ ایک Evasive Tendency (حیلہ جویانہ اور گریزانہ رجحان) ہوتی ہے۔ اس سے انسان کے نفس کو ٹھیس لگتی ہے۔ وہ محض اس بنا کے اوپر نہیں مان رہا۔ اور اب آپ سوچیے کہ دل مان رہا ہے کہ بات ٹھیک کہہ رہا ہے‘ جو محض پندارِ نفس ہے وہ درمیان میں حائل ہو رہا ہے۔ آپ دن بھر دلائل و براہین دیتے چلے جائیے‘ اس پر کچھ اثر نہیں ہوگا‘ وہ اپنے آپ کو کچھ نہیں بدلے گا۔ اس نے آپ کے Arguments (دلائل وبراہین) سے تو انکار نہیں کیا‘ یہ بات نہیں ہوئی کہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی‘ وہ مطمئن نہیں ہوا۔ وہ دل سے مان رہا ہے لیکن ایک خاص Prestige (عزتِ نفس) ہے جو اس چیز کو تسلیم کرنے پہ آمادہ نہیں کر رہی کہ ابھی تو میں کہہ رہا تھا کہ نہیں صاحب! جو کچھ ہم کہتے ہیں بالکل ٹھیک ہے‘ ابھی میں یہ کیسے کہہ دوں کہ صاحب! ٹھیک ہے‘ میں غلطی کرتا تھا۔ یہ اس کے لیے مشکل ہے۔

انسانی کیریکٹر کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ اسکا اپنا پندارِ نفس ہوتا ہے

دنیا میں‘ عزیزانِ من! یہ کہنے کے لیے بہت بڑے کیریکٹر کی ضرورت ہے کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا (7:23) ہاں‘ بارِ الٰہا! مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ سب سے بڑی روک جو انسان کے راستے میں آتی ہے‘ یہ False Prestige (جھوٹی عزتِ نفس یا پندارِ نفس) ہے۔ یہ ہے ایک چیز جو قرآن کہتا ہے۔ یہ ذہن میں رکھیے۔ کہا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (2:6) جن کی کفر کی یہ کیفیت ہو‘ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ (2:6) تُو ان کے ساتھ ٹکر مارے ہے۔ اسی سلسلے میں (7:101) میں اسی کی ذرا سی اور لطیف سی تشریح کی ہے کہ وَ لَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (7:101) یہ پیغامبر بالکل کھلے ہوئے دلائل لے کر ان کے سامنے آئے تھے۔ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ (7:101) ایک دفعہ جو ’’ نہ ‘‘ کردی‘ اب اس کے بعد محض اپنی ضد پہ اڑے ہوئے ہیں۔ پہلے ’’ نہ ‘‘ کردی تھی تو وہ سوچ سمجھ کر نہیں کی تھی‘ بس کردی تھی‘ اب جو ’’ نہ ‘‘ کردی ہے‘ تو اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ بالکل نہیں مانیں گے کیونکہ ’’ باقی کچھ نئیں رہندا ایناں دا اگر من لین تے ٭(1)‘‘۔ کہتا ہے ایک یہ کیٹگری (شِق) بھی ہے ان کی ‘جس کی یہ کیفیت ہو ‘یہ ذہنیت ہو کہ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ (2:6) ۔

دل پر مہر اس وقت لگتی ہے جب انسان اپنی غلطی کا اعتراف کرنا چھوڑ دے

یہ جو قرآن نے خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (2:6) کہا ہے یہ بات تو میں آگے جاکر کہونگا کیونکہ یہیں وہ آیت اسی کے ساتھ آگئی ہے وہ آیت پوری نہیں کہ ایک دفعہ یوں کہہ دیا اور اس کے بعد جو جی میں آئے کر لیجیے‘ اب یہ محض اپنی اس بات کی پت کے لیے ہاں نہیں کرتے۔ کہا ہے کہ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ (7:101) کافروں کے دلوں کے اوپر یوں مہریں لگا کرتی ہیں۔ اس مہر کو کون توڑ سکتا ہے۔ اُس آیت میں یہ تھا کہ اندر سے دل یقین کر رہا ہے کہ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ محض پندارِ نفس کی خاطر نہیں مان رہے۔ یہاں کہہ رہے ہیں کہ ایک دفعہ جو ’’ نہ ‘‘ نکل گئی ہے‘ اب اس کے بعد پھر ’’ ہاں ‘‘ پہ آتے ہی نہیں ہیں۔کہتا ہے کہ یہ مہریں نہیں ہیں تو اور کیا ہے جو لگے گا۔ میں ابھی عرض کرونگا‘ برادرانِ عزیز! مہروں کی بات بھی۔ ایک اور کیٹگری (شق) ہے کہ عقل و ہوش رکھتے ہیں‘ لکھے پڑھے بھی ہیں‘ دیدہ ور ہیں ‘ Intellectuals (دانشور) ہیں ‘ Intelligentsia (روشن خیال طبقہ)ہے‘ یہ ساری چیزیں موجود ہیں لیکن قرآن کہتا ہے‘ عجیب انداز ہے! کہ وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ (7:179) یہ شہری آبادیاں ہوں یا نا مانوس اعراب‘ ان میں سے تمہیں ایسے نظر آئیں گے جن کے اندازِ زیست یا ذہنیت سے تمہیں پتہ چل جائے گا کہ یہ ہیں ہی جہنمی۔ کتنی کھلی ہوئی ایک بات بتائی ہے!کون ہیں؟ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا (7:179) سینے میں دل تو رکھتے ہیں‘ اس سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے۔ وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا (7:179) ماتھے کے اوپر آنکھیں ہیں‘ دیکھنے کا کام نہیں لیتے۔ قرآن نے یَبْصِرُوْنَ کہا ہے‘ برادرانِ عزیز! یَنْظُرُوْنَ نہیں کہا۔ جو Physical Eye Sight (طبعی نظر) ہوتی ہے‘ اسے نظر کہتے ہیں اور جس سے یہ کام نہیں لے رہے اسے بصرکہتے ہیں۔ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا (7:179) کان رکھتے ہیں لیکن اس سے سننے کا کام نہیں لیتے۔ اُولٰٓیک کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ (7:179) ان کی زندگی کی انسانی سطح نہیں ہے حیوانی سطح زندگی ہے بلکہ اس سے بھی بدتر۔ حیوان اپنی جبلت (Instinct) پر تو چلتا ہے ‘یہ اس پہ بھی نہیں چلتے ہیں۔

خود بینی اور اسلاف پرستی انسان کو عقلی طور پر اندھا کردیتی ہے

جن کی کیفیت یہ ہو کہ ذرائع علم رکھتے ہیں‘ سمجھنے سوچنے دیکھنے بھالنے کی صلاحیتیں موجود ہیں لیکن ان کو کام میں ہی نہیں لاتے‘ اس طرح سے اپنی ذاتی مفاد پرستیوں نے انہیں مدہوش اور اندھا گونگا بہرا بنا رکھا ہے‘ اس طرف آتے ہی نہیں ہیں۔ اگر ان کے اپنے مطلب کی کوئی بات ہو‘ تو سنیے! اس کے لیے کتنے کتنے عجیب دلائل لائیں گے‘ نظر آئے گا کہ ہمارے سامنے افلاطونِ زماں بیٹھا ہوا ہے۔ جونہی کوئی ایسی بات کہیے جس سے ان کے مفاد پہ زد پڑتی ہو تو اب انہوں نے نہ سوچنا‘ نہ سمجھنا‘ نہ سننا ہے۔ اس کا تو سوال ہی نہیں ہے۔ کہیے! جن کی ذہنیت یہ ہو‘ ان کے متعلق کہا جائے گا یا نہیں کہ وہ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6) ہیں۔

ایک اور کیٹگری (شِق) بھی ہے۔ صبح سے شام تک آپ بیٹھے دلائل دیتے رہیے‘ آپ سمجھاتے جائیے قرآنِ کریم کی آیات کی آیات سامنے رکھتے چلے جائیے ‘سامنے سے کوئی جواب بن نہیں پڑتا‘ کوئی دلیل نہیں سوجھتی۔ جب پوچھا جائے کہ کیوں بھئی! مانتے کیوں نہیں ہو؟ کہتے ہیں کہ جی! یہ اسلاف کے طریقے کے خلاف جا رہا ہے۔ یعنی نہ اپنی عقل‘ نہ ہوش‘ نہ اپنا فیصلہ‘ نہ دلیل‘ نہ برہان‘ نہ حجت‘ نہ قرآن کی آیت کے مقابلے میں یہ چیز کہ چلو صاحب! اس آیت کی رو سے ہم یہ نہیں مانتے‘ کوئی سند نہیں ہے‘ صرف یہ بات ہے کہ یہ اسلاف کے مسلک کے خلاف جاتا ہے صاحب! فرمائیے! ساری عمر آپ انہیں سمجھاتے رہیے جس کے بعد انہوں نے دلیل یہ دینی ہو کہ صاحب! ہمارے ہاں چونکہ یہ ہوتا چلا آرہا ہے‘ اس لیے ہم تو اس راستے سے ہٹ نہیں سکتے تو پھر کیا دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس پہ لے آئے گی کہ وہ اس چیز کو تسلیم کرلیں۔ یہ ہے سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6) ۔

تقلید کا قرآنی مفہوم

قرآنِ کریم کی آیت ہے کہ وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ (2:170) جب ان سے کہا جاتا ہے بابا! یہ خدا کا نازل کردہ کلام‘ اس کا ضابطۂ ہدایت‘ تمہارے سامنے ہے۔ اس کا اتباع کرو‘ اس کے پیچھے پیچھے چلو۔ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَنَا (2:170) وہ کہتے ہیں کہ نہیں صاحب! ہمارے اسلاف جس راستے پہ چلے جا رہے ہیں‘ ہم تو انہی کے نقشِ قدم پہ آنکھیں بند کیے ہوئے چلے جائیں گے۔ اسے تقلید کہتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ یہ جو لفظ ہے یہ ’’قلد ‘‘سے ہے۔ قلد کہتے ہیں ’’ آمجھ دے گل اچ جیہڑا رسہ جیا پایا ہوندا اے ٭(2) ‘‘ یعنی یہ حیوان کے گلے میں جو طوق ڈال دیتے ہیں‘ جس سے پکڑ کر جس کا جی چاہے اسے جدھر کھینچ کر لیتا چلا جائے۔ یہ ہے جسے تقلید کہتے ہیں۔ وہ تو جس نقشِ قدم پہ وہ پہلی بھیڑ چلی تھی‘ پچھلی بھیڑیں چلتی جا رہی ہیں۔ پوچھیے ان سے کیوں جا رہی ہو؟ وہ کہتی ہے کہ اگلی جو جا رہی ہے۔ اگلی سے یہ پوچھیے تو پھر اس سے تو آگے کچھ ہوتا ہی نہیں ہے‘ وہ ’’میں میں‘‘ کرکے آگے چلی جاتی ہے‘ بتاتی کچھ نہیں ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا۔ قرآن کہتا ہے کہ اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْءًا وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ (2:170) خواہ یہی کیفیت کیوں نہ ہو کہ یہ جن کے نقشِ قدم پہ چلنے کے لیے اتنا فخر کر رہے ہیں‘ نہ وہ خود راہِ ہدایت پہ ہوں اور نہ انہوں نے عقل و فکر سے کام لیا ہو‘ یونہی کسی راستے پہ چل پڑے ہوں‘ یہ ان کے پیچھے چلتے جارہے ہیں۔ سنیے! برادرانِ عزیز! جو میں نے کہا تھا کہ میں نے یونہی کہہ دیا کہ ’’میں میں‘‘ کرتی ہے اور آگے چلی جاتی ہے ‘کہا ہے کہ وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (2:171)۔ سنیے! یہاں لفظ کَفَرُوْا آیا ہے۔ یہ لوگ جو اس طرح سے کفر کرتے ہیں‘ ان کے لیے کہا ہے کہ کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً (2:171) کیفیت یہ ہے‘ کہ ایک ریوڑ ہے‘ بھیڑیں ہیں‘ ایک ان کا چرواہا ہے‘ چرواہے کی بھی یہ کیفیت ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا سوائے ان آوازوں کے جو اس نے اپنے باپ سے سن رکھی ہیں۔ اس کے لیے تو کہا ہے کہ سوائے ان چند الفاظ کے جو اس نے باپ سے سن رکھے ہیں‘ اور اُن کے لیے کہا کہ بھیڑیں کچھ نہیں سمجھتیں سوائے چند آوازوں کے جو ان کے کان میں بچپن سے پڑتی جا رہی ہیں۔ وہ یہ الفاظ دہرا رہا ہے‘ اسے کچھ پتہ نہیں کہ ان کے کیا معنی ہیں ’’ تتا تتا تتا ‘‘ پوچھیے کہ صاحب! اس کے معنی کیا ہوئے یہ کیوں کہتے ہو؟ ’’ او جی! میرا پیو ایہو کچھ کیندا ہوندا سی ٭(3) ‘‘۔ سند یہ ہے۔ وہ گدھا یوں کیوں چل پڑتا ہے؟ وہ بچپن سے یہ تتا تتاتتا سنتا چلا آرہا ہے۔ اگر وہ اس کے اوپر اُدھر نہیں چلتا تو اس کے بعد ’’ عذابِ خداوندی کا ڈنڈا‘‘ اس کی پیٹھ پہ پڑتا ہے‘ وہ اس کو اُدھر موڑ دیتا ہے۔ کیا کہتا ہے قرآن؟ کہ کیفیت یہ ہے کہ بھیڑوں کا ایک گلہ اس قسم کا اَن پڑھ سا گڈریا‘ وہ کچھ الفاظ دہراتا ہے‘ یہ آواز پہ لگے ہوئے ہیں‘ چلے جا رہے ہیں صاحب! اور دونوں مست چلے جا رہے ہیں کہ بالکل صحیح راستہ ہے‘ سیدھا جنت میں پہنچ جائے گا۔ کہا ہے کہ صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ (2:171) اندھے بہرے گونگے۔ او! اتنے زور سے کیوں؟ کیا ہوا اللہ میاں؟ کیا کردیا؟ کہا ہے کہ فَھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ (2:171) عقل و فکر سے کام نہیں لے رہے۔

عقل و فکر سے کام نہ لینا اذیت کی گہری کھائی میں گرنے کے مترادف ہے

قرآن ہے‘ برادرانِ عزیز! عقل و فکر سے کام نہ لینا کفر کی بنیادی شرط ہے‘ اسی سے اس کی ساری کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا پھر یہ کس قسم کا کفر ہے جو ہمارے سامنے آیا ہے۔ کرتے کون ہیں یہ کچھ؟ دنیا کے مفکرین سے پوچھیے‘ وہ آپ کو بتائیں گے کہ سوچنا بڑا ہی محنت طلب مرحلہ ہے‘ یہ مذاق نہیں ہے۔ بغیر سوچے ہوئے کرتے چلے جانے میں کچھ محنت ہی نہیں کرنا پڑتی‘ تقلیداً کچھ کرتے چلے جانے میں کوئی محنت ہی نہیں پڑتی۔ پھر بڑی چیز یہ ہے کہ اس کے اپنے اوپر ذمہ داری نہیں عائد ہوتی۔ جب کہا جائے کہ یہ چیز کیوں کرتے ہو؟ جھٹ انہوں نے کہا کہ یہ اسلاف نے کیا تھا‘ میں یہی کرتا ہوں۔ بیچ میں سے یہ خود نکل گئے‘ ذمہ داری ان پہ عائد نہیں ہوتی لیکن جو خود سوچ کر کسی نتیجے پہ پہنچنے کے بعد ایک فیصلہ کرے گا اور اس کے اوپر عمل کرے گا‘ اس سے جب پوچھا جائے گا تو وہ اپنی Responsibility (ذمہ داری) کو Accept (تسلیم) کرے گا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ سوچنا‘ عقل و فکر سے کام لینا‘ برادرانِ عزیز! بڑا مشکل مرحلہ ہے۔ دیکھیے! قرآن کیا کہتا ہے؟ اگر صورت یہ ہو کہ سوچا سمجھا بھی نہ جائے ’’ نہ ہنگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ آوے چوکھا‘‘ سوچا سمجھا کچھ نہ کیا جائے اور کھانے پینے کو وہ کچھ ملے جو سوچنے سمجھنے والوں کے باپ کے نصیب میں بھی نہ ہو ’’ فیرر اوی عیش لکھدا اے کہ نہیں ٭(4) ‘‘۔ جب ان سے یہ کہو کہ یہ بات سوچ سمجھ کر مانو تو بَلْ قَالُوْٓا اِِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآءَنَا عَلآی اُمَّ ۃ ٍ وَّاِِنَّا عَلآی اٰثٰرِہِمْ مُّھتَدُوْنَ (43:22) وہ کہتے ہیں کہ نہیں صاحب! سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آباؤ اجداد ایک راستے پہ چلے آرہے ہیں‘ انہی کے اوپر ہم چلتے چلے جا رہے ہیں۔

تقلید پرستی انسان کو صرف مترفین ہی نہیں بناتی بلکہ انسان کو محنت کرنے کی صلاحیتوں سے بھی محروم کر دیتی ہے

قرآن نے کہا ہے کہ وَکَذٰلِکَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیَ ۃ ٍ مِّنْ نَّذِیرٍ اِِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآ اِِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا عَلآی اُمَّ ۃ ٍ وَّاِِنَّا عَلآی اٰثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ (43:23) ۔ کیا بات ہے صاحب! کہتا ہے کہ یہ آج کی بات نہیں ہے‘ ہمیشہ یہ ہوتا چلا آرہا ہے کہ جب بھی کسی نے آکر ان سے یہ کہا کہ زندگی کا صحیح راستہ یہ نہیں ہے‘ یہ دوسرا راستہ ہے تو اُنہوں نے یہ کہہ دیا کہ نہیں صاحب! جس راستے پہ ہمارے آباؤ اجداد چلتے آرہے تھے ہم اسی پہ چلیں گے۔ کہا ہے کہ یہ ایسا کہنے والے کون ہیں؟ کہا کہ یہ وہ ہیں جو تن آسان ہیں‘ محنت نہیں کرنا چاہتے‘ مفت کی روٹی کھانا چاہتے ہیں۔ یہاں مترِفوھا آیا ہے۔ ان کو مترفین کہتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو دوسروں کی محنت کی کمائی کے اوپر عیش کریں‘ ورنہ اگر ذرا سوچ سے کام لیا جائے تو آپ دیکھتے ہیں کہ یہ جو مترفین ہیں پہلی ہی دلیل میں ان کی بات ختم ہوجاتی ہے کہ محنت وہ کرے‘ وہ بیٹھا ہوا اس کی محنت کا ماحصل لے جائے‘ کوئی دلیل ہے اس کے لیے؟ پہلی سوچ میں دلیل ختم ہو جاتی ہے‘ برادرانِ عزیز! کہتا ہے کہ یہ مترفین ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ جو پورا طبقہ ہے یہ آپ کو دلیل دیتا ہے کہ صاحب! یہ اس طرح سے آباؤ اجداد کے راستے کےاوپر چلے جا رہے ہیں۔ پتہ نہیں اب وہ کتاب ملتی ہے یا نہیں‘ بچپن میں تو ہم بھی پڑھتے تھے۔ ’’ اوس کتاب دا ناں ہوندا سی ’’ پکی روٹی‘‘ ناں ای دسد اسی پیا‘ پئی! اسی اے کچھ کیوں کرن ڈیے آں ٭(5) ‘‘۔ کہتا ہے کہ مترفین کی یہ کیفیت ہوتی ہے۔ جن کی یہ کیفیت ہو‘ انہیں پتہ ہے کہ اگر ان دلائل کو تسلیم کیا‘ اگر ان حقائق کو ہم سامنے لے آئے‘ تو یہ جو اس طرح سے بغیر محنت مشقت کیے ہوئے‘ اتنا کچھ ملتا ہے‘ کھانے کو بہترین ملتا ہے ’’ نال آکے او گوڈے چمدے ہیگے ٭(6) ‘‘ کہتا ہے کہ کہو انہیں کتنی دلیلیں دیتے چلے جاؤ گے‘ کیوں ٹکریں مار رہے ہو؟ لا یؤمنون ’’ اے گل تیرے والی ایناں مننی نئیں ٭(7)ہیگی‘‘۔ ٹھیک ہے یہ بات جو قرآن نے کہا ہے کہ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6)۔

مترفین کی ایک اور کیٹگری (شِق) یعنی اللہ کی مرضی کہہ کر اپنی ذمہ داری کو دوسروں پر تھوپ دینے والے

ایک اور کیٹگری (شِق) آئی کہ صاحب! تم جو یہ کچھ اس طرح سے کرتے ہو‘ کیوں ایسا کرتے ہو؟ ’’ کہ جی! مولا دی مرضی ایویں ہیگی‘ اللہ دا حکم ای ایویں ہیگا ٭(8) ‘‘ اس کے حکم کے بغیر تو ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا‘ انسان میں اس چیز کی کیا قدرت ہے کہ وہ خود یہ کچھ کرسکے۔ سوچ رہے ہیں آپ۔ یہاں سے بات آگے چلی کہ امیری غریبی سب اس نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے‘ جسے چاہے وہ لکھ کردے‘ جسے چاہے لکھ سے ککھ کردے‘ عزت اور ذلت بھی سب اس کی مرضی پہ منحصر ہے‘ یہ سب تقدیر کے لکھے ہیں‘ اللہ اگر چاہے تو ہوسکتا ہے کہ ایسا نہ ہو‘ خدا کی منشا ہی یہ ہے کہ یہ اس طرح سے ہو۔ یہ انتہا ہے‘ عزیزانِ من! غیر ذمہ دارانہ ذہنی رویے (Irresponsible Attitude of Mind) کی‘ کہ ساری ذمہ داری دوسرے کے اوپر سونپ دینا۔ بات ساری یہ ہے کہ خود محنت نہ کرنی پڑے۔ راستہ بدلنے کے لیے‘ سوچنے سمجھنے کے لیے‘ ایک نئی روش اختیار کرنے کے لیے‘ بڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔ پھر جیسا میں نے عرض کیا ہے‘ خود فیصلے کرنے کے بعد اس کی ذمہ داری لینی پڑتی ہے۔ یہ جو Mind (ذہن) کا Attitude (رویہ) ہے کہ ذمہ داری لینے سے گھبرا رہا ہے ‘ Escapism (فراریت) ہے‘ فرار کی راہ اختیار کر رہا ہے‘ یہ ہے جو کفر ہے۔ جو یہ کہہ دے کہ صاحب! خدا کو ہی ایسا منظور تھا اس لیے یہ میں کر رہا ہوں اسے آپ اس کے بعد اور کیا دلائل دیدیں گے۔ وَقَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰہُمْ (43:20) ان سے یہ کہو کہ صاحب! یہ جو اس قسم کے آستانوں پہ جا جا کر سجدے کرتے پھرتے ہو‘ یہ پتھروں اور اینٹوں سے جاکر مرادیں مانگ رہے ہو‘ وہ مردہ کہ جسے ابھی ابھی تم نے اپنے ہاتھ سے جہاں جی میں آیا گڑ دیا ہے‘ اس کو زندوں کی دنیا کا مالک اور مختار تصور کر رہے ہو‘ یہ کیوں کر رہے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ صاحب! اگر اللہ کی مشیت میں ایسا نہ ہوتا تو ہم اس طرح سے کیسے کرتے۔ وہ بہت بڑے مقرب بن رہے ہیں کہ ہم تو چل ہی اس کی مرضی کے مطابق رہے ہیں۔

علم کی روشنی سے بے نور آنکھیں

کہا ہے کہ مَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ (43:20) ان سے کہو کہ جہالت کی باتیں کر رہے ہو‘ علم کی دنیا سے تم اس کے لیے کوئی سند اور دلیل نہیں لاسکتے۔ اِِنْ ہُمْ اِِلَّا یَخْرُصُوْنَ (43:20) کیفیت ان کی یہ ہے کہ قیاسات کے اوپر عمارتیں کھڑی کرتے چلے جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے یہ منطقی دلائل دیتے چلے جائیں گے اور آپ کو تو معلوم ہے کہ یہ تقدیر کے اس مسئلے کے اوپر جتنے منطقی دلائل ان لوگوں نے فراہم کیے ہیں‘ کسی اور مسئلے پہ ایسا کچھ نہیں آئے گا۔ کمروں کے کمرے بھر جائیں گے اگر اس ایک مسئلے کے اوپر جو کچھ لکھا گیا ہے اسے جمع کردیا جائے۔ قرآن کہتا ہے کہ مَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ (43:20) یہ سارا طومار‘ جس کو یہ علم کہتے ہیں‘ جس کی بنا پر یہ عالم کہلاتے ہیں‘ علم کی بارگاہ سے روشنی کی ایک کرن بھی ان کو نہیں مل سکتی‘ اس پر ساری کی ساری چیزیں قیاس کی ہوتی ہیں‘ یہ چیز مبنی برقیاس ہے۔

قصہ ابلیس و آدم کی لم ہی یہ ہے کہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی جائے

جیسا کہ میں درس میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں‘ قرآن نے تو قصۂ ابلیس و آدم میں بات صاف کرکے رکھ دی ہے۔ سوال ہی یہ ہے کہ اپنی غلط روش کی ذمہ داری انسان خود قبول کرتا ہے یا یہ ذمہ داری اس کے سر ڈالتا ہے۔ یہی تقدیر ہے‘ یہی یہ سارا مسئلہ ہے: لکھے کا ‘قسمت کا‘ نوشتہ خداوندی کا‘ خدا کی مرضی کا۔ آدم سے بھی ایک لغزش ہوئی‘ ابلیس سے بھی ایک معصیت ہوئی۔ آدم سے کہا گیا کہ تُو نے یہ کیوں کیا؟ اس نے کہا کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا (7:23) بارِ الہا! مجھ سے غلطی ہوئی‘ میں نے اپنے آپ پہ زیادتی کی۔ یہ کہنے کے لیے کتنے بڑے وسعتِ ظرف کی ضرورت ہے لیکن آپ دیکھیے کہ جو یہ تسلیم کرتا ہے‘ اپنی ذمہ داری کو قبول کرتا ہے‘ اس کے لیے بازیابی کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ آدم کی توبہ قبول ہو رہی ہے‘ اس کو باز آفرینی کا موقع مل سکتا ہے۔ ابلیس سے پوچھا گیا کہ تُو نے یہ کچھ کیوں کیا؟ کہتا ہے کہ میں کون ہوں یہ کچھ کرنے والا‘ سارا کچھ تیری مشیت کرا رہی ہے‘ میں تو مجبورِ محض تھا۔ اس نے کہا کہ جاؤ! ہمیشہ کے لیے راندۂ درگاہ ہوگئے‘ باز آفرینی کا تمہیں موقع ہی نہیں مل سکتا۔ جو اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا‘ ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے‘ وہ اپنی اصلاح کس طرح کرسکتا ہے۔

کیا انسانی زندگی کا مقصد اپنے لیے اور اولاد کے لیے ’عزت کی نوکری‘ کرتے ہوئے مرجانے میں ہے

قرآن کہتا ہے کہ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6)۔ یہ تقدیر کے عقیدے رکھنے والے ہیں‘ یہ تقلید کو اپنے ہاں کا مسلک بنانے والے ہیں ان کے سامنے ٹکریں مارنے سے کیا حاصل؟ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6)۔ کہتا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی نگاہ صرف دنیاوی مفاد کے اوپر رکھتے ہیں۔ اب آیا! قرآن نے دکھتی ہوئی رگ پکڑ لی۔ قرآن تو انسان کی زندگی کو اس کے اعمال سے مرتب کرتا ہے۔ اس کا ہر عمل اس کی زندگی کی تعمیر کرتا ہے‘ اس کا آج (Today) اس کے کل (Tomorrow) کی تشکیل کرتا ہے۔ اور جو کل (Tomorrow) پہ یقین ہی نہیں رکھتا‘ جو مستقبل پہ ایمان ہی نہیں رکھتا‘ جو Future کو مانتا ہی نہیں ہے‘ جو یہ کہتا ہے کہ آج تو عیش سے گزرتی ہے‘ اب تو آرام سے گزرتی ہے‘ اس کے لیے یہ کہنا کہ بھئی! کل کے لیے بھی کچھ سوچو‘ جو اس کو مانتا ہی نہیں ہے‘ اس کے لیے سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا (47:12) ۔ کہا آؤ! تمہیں بتائیں کہ کون ان صداقتوں کے ماننے سے انکار کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (47:12) زندگی کا مقصد کھانا پینا بچے پیدا کرنا اور بس مرجانا سمجھتے ہیں۔ کہا ہے کہ جن کا مقصدِ حیات یہ ہے‘ وہی جو ہر حیوان کا مقصدِ زندگی ہوتا ہے‘ ان کے سامنے زندگی کے کارِ نمایاں یہ ہوتے ہیں۔ اکبر الہ آبادی (1846-1921ء)کے الفاظ میں :

کیا کہیں احباب کیا کارِ نمایاں کرگئے؟

بی اے کیا‘ نوکر ہوئے‘ پنشن ملی اور مر گئے

ان کے کارِ نمایاں ہی یہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کا بڑا فضل ہے جی! نوکری کی‘ بڑی عزت سے نوکری کی‘ اللہ نے صاحبِ اولاد کیا‘ انہیں پروان چڑھایا‘ سب اپنی اپنی جگہ نوکر ہوچکے ہوئے ہیں۔ مجھے اتنا مل سکتا ہے کہ اپنی دال روٹی کا گزارہ کرسکوں‘ میں تو قدم قدم پہ اللہ کی درگاہ میں سجدے کرتا ہوں کہ صاحب! اس نے اس قسم کی میری زندگی دی۔ اب جو اٹھنے بیٹھنے سے ناکارہ ہوچکے ہیں تو بھئی! اب کچھ آخرت کی فکر بھی ہے‘ اب ہم کچھ اللہ اللہ بھی کرلیتے ہیں ’’ اوہُن کچھ کرن جوگا نئیں رہیا ہیگا‘ تے ہور کی کرے گا ٭(9)‘‘۔ ان کے ہاں زندگی کا معراج الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (47:12) ہے۔ قرآن ان کا انجام وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ (47:12) بتاتا ہے۔ دیکھنا چاہتے ہو کہ جہنم میں کون ہوتے ہیں‘ آؤ! تمہیں دکھائیں۔ یہ وہ ہے جو Future (مستقبل) میں Believe ہی نہیں کرتا‘ جو مستقبل پہ یقین ہی نہیں رکھتا‘ اسے یہ کہنا کہ کل کے لیے بھی کچھ سوچوبے کار ہے۔ یہ محض سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6) ہے۔

آخرت کا انکار اپنے نفس کا‘ اپنی ذات کا انکار ہے

Future (مستقبل) پہ یقین کے معنی یہ ہیں کہ زندگی یہی طبعی زندگی نہیں‘ اس کے بعد آگے بھی زندگی چلتی ہے۔ طبعی جسم تو یقیناًہمارے سامنے ختم ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا چلتی ہے؟ انسان کے اندر ایک چیز ایسی بھی ہے جو طبعی جسم کے انتشار کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتی۔ اس کو انسان کی ذات Human Personality) ) نفس‘ خودی کہتے ہیں‘ یہ آگے چلتی ہے۔ یہ کہہ کہ مستقبل یا آخرت سے انکار کرنے والا‘ در حقیقت اپنی ذات سے انکار کرتا ہے‘ اپنی Personality (شخصیت) سے انکار کرتا ہے‘ اپنے Future (مستقبل) سے انکار کرتا ہے۔ عزیزانِ من! قرآن کا نکتہ عجیب ہے۔ جب میں نفس کے اوپر آؤنگا تو وہاں عرض کرونگا۔ وہ یہ کہتا ہے کہ خدا کے اوپر جو تمہیں ایمان لانے کے لیے کہا جاتا ہے‘ وہ در حقیقت تمہاری اپنی ذات پر ایمان لانا ہوتا ہے۔ جو اپنی ذات سے انکار کردیتا ہے اس کے لیے تو سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6) ہے۔ کفر تو انسان کا اپنی ذات کے ممکنات سے انکار کا نام ہے۔ اسی لیے اس نے کہا تھاجس کی نگاہ بڑی گہری تھی کہ

شاخِ نہالِ سدرۂ خار و خسِ چمن مشو

منکرِ او اگر شدی منکرِ خویشتن مشو

(اقبالؒ : زبورِ عجم)

ارے! اس (خالق) کا انکار کر گیا ہے تو کر جا‘ اپنا انکار نہ کر۔ اس کا انکار کرے گا تو بعد میں اس کا اقرار آجائے گا‘ اگر تُو نے اپنی ذات سے انکار کردیا پھر کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے اوپر تُو اقرار کرے‘ جس پہ تُو ایمان لے آئے۔ تُوتو سدرہ کے پودے کی شاخ ہے‘ چمن کا کوڑا کرکٹ نہ بن۔

قرآن حکیم خدا پر ایمان لانے سے پہلے انسان کو اپنی ذات پر ایمان لانے کی ترغیب دیتا ہے

پہلا ایمان انسان کو اپنی ذات پہ لانا پڑتا ہے۔ قرآن ایمان باللہ سے پہلے انسان کو اپنی ذات پر ایمان لانا سکھاتا ہے‘ برادرانِ عزیز! جو اپنی ذات پہ ایمان نہیں لاتا‘ اسے آخرت کا منکر ‘ Future (مستقبل) کا منکر کہتے ہیں۔ ذات پہ ایمان کے معنی ہیں Future (مستقبل) کے اوپر Believe (اعتقاد) کرنا۔ اس سے انکار کے معنی یہ ہیں کہ ’’اسی طبعی زندگی کو اپنا منتہا اور مقصود سمجھ لینا‘‘۔

کائنات کی تخلیق کا مقصد انسانی اعمال کے ایک ایک ذرے کو انصاف کے ترازو میں تولنا ہے

سنیے‘ عزیزانِ من! غور سے سنیے‘ قرآن کہتا ہے کہ وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ (45:22)۔ یہ سلسلۂ کائنات ہم نے الحق پیدا کیا ہے‘ یہ سوچ ایک Reality (حقیقت) ہے‘ یہ Plato (افلاطون:428-347ق م ) کا خواب نہیں ہے‘ یہ مایہ نہیں ہے‘ یہ فریب نہیں ہے‘ اس کو ہم نے بالحق پیدا کیا ہے۔ کاہے کے لیے پیدا کیا ہے؟ بالحق کے معنی ہیں ’’ Purpose (مقصد) کے ساتھ‘‘ پیدا کیا ہے‘ یہ ٹھوس Reality (حقیقت) ہے‘ کاہے کے لیے؟ وَلِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ (45:22) تاکہ ہر شخص کو اس کے کام کا بدلہ مل جائے اور کسی پہ کوئی زیادتی نہ ہو۔ یہ سارا آسمان و زمین اس لیے گردش میں ہے کہ انسان کا کوئی عمل بلا نتیجہ نہ رہ جائے۔ عزیزانِ من! دیکھ رہے ہیں یہ کتنی عظیم آیت ہے! پوچھا جاتا ہے کہ تخلیقِ کائنات سے مقصد کیا ہے؟ قرآن مجید میں تخلیقِ کائنات کا مقصد یہ بتایا جارہا ہے۔

دنیا بھر میں علم وبصیرت رکھنے والی قوموں کی حالت زار

اس کے مقابلے میں کہا ہے کہ اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِِلٰہَہٗ ہَوٰہُ (45:23) تم نے اس شخص کی حالت پہ بھی غور کیا ہے جس نے اپنے ہی جذبات‘ اپنی ہی خواہشات‘ اپنے ہی مفادات ‘کو اپنا خدا بنالیا۔ زندگی کے Higher Purpose (بلند مقصد) کا سوال ہی نہیں۔ جس نے اپنی خواہشات اور جذبات کو خدا بنالیا‘ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ (45:23) علم و بصیرت رکھنے کے باوجود یہ وہ شخص ہے جو راہِ راست کے اوپر نہیں جاتا‘ گمراہی پہ جاتا ہے۔ یہ کتنی بڑی بڑی قومیں علم و بصیرت کی بارگاہ میں دیکھیے تو اس کہکشاں سے تارے توڑ لاتی ہیں‘ زندگی کے حقائق کے متعلق دیکھیے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ ساری دنیا کے علم و فہم اور عقل و بصیرت کی نچوڑ کی قومیں اس پہ چیخ رہی ہیں کہ ویت نام کا جہنم کسی طرح سے ختم ہو‘ یہ ختم ہونے میں نہیں آرہا ٭(10)۔ کیا ہورہا ہے؟ یہ کہ مَنِ اتَّخَذَ اِِلٰہَہٗ ہَوٰہُ (45:23) ہر ایک نے اپنے اپنے مفاد کو اپنا معبود بنا رکھا ہے‘ علم کے باوجود اندھے ہو رہے ہیں۔ یہ ہے خَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَ ۃ ً (45:23) ۔ یہ بات پھر آگے میں لاؤنگا۔ کہو کہ جو فَمَنْ یَّہْدِیْہِ مِنْم بَعْدِ اللّٰہِ (45:23) اپنے ہاں کی یہ ذہنیت رکھ لے تو پھر کون اس کو ہدایت کا راستہ دکھا سکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِِلَّا الدَّہْرُ (45:24) کہتے یہ ہیں کہ زندگی بس یہی زندگی ہے‘ اس میں ہم Physical Laws (طبعی قوانین) کے تابع جیتے ہیں‘ ان کے ماتحت ہم مرجائیں گے۔ یہ جو Passage of Time (وقت کا گزرنا) ہے بس اس کے بعد موت آجاتی ہے۔ پھر قرآن کہتا ہے کہ وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ (45:24) علم کی بارگاہ سے اگر یہ کبھی جاکر پوچھتے تو وہ اس کی کبھی تائید نہ کرتا جو کچھ یہ کہتے ہیں۔ زندگی یوں ختم ہونے والی چیز نہیں ہے‘ زندگی کا جو وہیکل (گاڑی) ہے وہ ختم ہو رہا ہے‘ گاڑی کا یہ ڈبہ اپنی Terminal Stage پہ پہنچا ہے‘ یہاں آکر مسافر مر نہیں گیا ۔ اِنْ ھُمْ اِلاَّ یَظُنُّوْنَ (45:24) یہ قیاس آرائیاں ہیں‘ علم نہیں ہے۔ کہتا ہے کہ یہ لوگ ہیں جو کفر کرتے ہیں‘ عقائد سے انکار کرتے ہیں‘ سامنے آنے کے بعد اسے چھپاتے ہیں۔ ان کے لیے تو بس سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6) ہے۔ یہ حقائق آپ دن بھر ان کے سامنے پیش کرتے چلے جائیے‘ وہ انہیں تسلیم نہیں کریں گے۔

کسی چیز کا پوری طرح علم ہوئے بغیر اس سے انکار کفر نہیں کہلاتا

اب میں پھر اسی پہ آتا ہوں کہ کفر وہ کرے گا جس کے سامنے حقائق آجائیں گے‘ ہدایت آجائے گی۔ یہ ایک چیز ہے‘ کچھ فیصلہ ہے جو انسان کرتا ہے‘ یہ کوئی Negative Attitude of Mind (ذہن کا منفی رویہ) نہیں ہے‘ یہ کچھ نہ کرنے کا نام نہیں ہے‘ یہ کچھ کرنے کا نتیجہ ہے۔ اور پہلی چیز اس کے لیے یہ ہے‘ عزیزانِ من! میں نے کہا یہ ہے کہ کفر یہ ہے کہ ان کے سامنے یہ ہدایت آچکی ہو‘ یہ پیش ہوچکی ہو۔ جن کے سامنے یہ پیش نہیں ہوچکی‘ ان کی بات میں قرآن کی رو سے ابھی کرتا ہوں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ہدایت آچکی ہو۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ جو جہنم میں جانے والے ہیں‘ وہ جہنم کے داروغے سے کہیں گے کہ رب سے ذرا پکار کیجیے‘ ہماری فریاد پہنچا دیجیے‘ کہ کچھ تو اس عذاب کے اندر تخفیف ہو جائے۔ قَالُوْٓا اَوَ لَمْ تَکُ تَاْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (40:50) ان سے کہا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس ان حقائق کے پہنچانے والے آئے تھے یا نہیں؟ غور فرمایا آپ نے کہ یہ چیز کہی گئی ہے اور اس کے بعد ہے کہ قَالُوْا بَلٰی ط (40:50) وہ کہیں گے کہ ہاں صاحب! ہمارے پاس آئے تھے۔ یعنی یہ ہے وہ چیز۔ اور اس کے بعد اس نے کہا کہ جب یہ صورت تھی تو الُوْا فَادْعُوْا وَمَا دُعآؤُا الْکٰفِرِیْنَ اِِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ (40:50) وہ کہیں گے کہ پھر اب خدا کو پکارتے پھرو۔ آئے تھے! قَالُوْا بَلٰی ط ہاں آئے تھے۔ آگے چل کر ایک مقام آئے گا‘ برادرانِ عزیز! میں قرآنِ کریم کی بہت سی آیات اس کی تائید میں لاونگا جو قرآن نے کہا ہے کہ وہ پہلے آنے والا آئے‘ حقائق ان کے سامنے پیش ہوں‘ ہدایت ان کے سامنے آئے‘ پھر اس کے بعد اگر وہ یہ جو چیزیں کہی گئی ہیں‘ وہ یہ کریں اور اس بنا پر ان کا انکار کریں‘ تو یہ ہیں جن کو آپ کہیں گے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (2:6) جنہوں نے کفر کیا ہے۔ دوسرے مقام پہ ہے کہ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا (6:130) اے معشرِ جن و انس! اے شہری مہذب اور اے دیہی غیر مہذب لوگو ! کیا یہ واقع نہیں ہے کہ تمہارے پاس ہمارے پیغامبر آئے‘ انہوں نے ہمارے قوانین کو تمہارے سامنے پیش کیا‘ انہوں نے تمہاری غلط روشِ زندگی کے تباہ کن نتائج سے تمہیں آگاہ کیا‘ تمہیں کہا کہ مکافاتِ عمل برحق ہے‘ تمہیں بتایا کہ ان اعمال کے یہ نتائج نکل کر رہیں گے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ قَالُوْا شَھِدْنَا عَلآی اَنْفُسِنَا (6:130) وہ کہیں گے کہ ہاں آئے تھے‘ ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے وہ یہ کہہ گئے۔

مفاد عاجلہ کی مفاد پرستیاں انسان کو فریب کاریوں کے جال میں الجھا دیتی ہیں

کہا ہے کہ وَ غَرَّتْھُمُ الْحَیٰو ۃ ُ الدُّنْیَا وَ شَھِدُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ (6:130) بات یہ ہوئی کہ یہ جو فریب پرستیوں کے‘ مفاد پرستیوں کے‘ دنیاوی مفاد تھے‘ انہوں نے دھوکے میں رکھا۔ آئے تو تھے‘ انہوں نے ہمیں دھوکے کے اندر رکھا۔ اَنَّھُمْ کَانُوْا کٰفِرِیْنَ (6:131) ۔ یہ ہیں وہ لوگ جو یوں کافر ہوئے تھے۔ بات ہوگئی‘ سامنے آگئی۔ اور آگے تو بات اور واضح ہے۔ کہا ہے کہ ذٰلِکَ اَنْ لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی بِظُلْمٍ وَّ اَھْلُھَا غٰفِلُوْنَ (6:131) ہو ہی نہیں سکتا کہ کہیں یہ چیزیں نہ آچکی ہوں‘ ان کو وارننگ نہ دی ہوئی ہو اور خدا محض دھاندلی اور ظلم سے ہی ان کو تباہ کرتا رہے۔ ہم یہ کچھ نہیں کیا کرتے۔ پہلی چیز یہ ہے۔

قوموں کی موت حیات اور تباہی و سرفرازی کے غیر متبدل اصول

دوسری چیز یہ ہے کہ ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوچکی ہو یعنی وہ اس سطح پہ آچکے ہوں‘ ان کی سمجھ سوچ Develop (آشکار) ہوچکی ہو‘ ان میں شعور پیدا ہوچکا ہو ‘ Self Consciousness (شعورِ خویش) آچکا ہو‘ سمجھنے سوچنے کی صلاحیت آچکی ہو‘ یہ دوسری شرط ہوگئی۔ کہا ہے کہ وَلَقَدْ مَکَّنّٰہُمْ فِیْمَآ اِِنْ مَّکَّنّٰکُمْ فِیْہِ (46:26) یہ اقوامِ سابقہ‘ جن کی تباہیوں کی داستانیں تمہارے سامنے یوں آرہی ہیں‘ انہیں بڑا تمکن فی الارض حاصل تھا‘ بڑا اقتدار حاصل تھا۔ ایسا اقتدار‘ اے مخاطبین! تمہیں بھی حاصل نہیں ہے ۔ وَجَعَلْنَا لَہُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْءِدَ ۃ ً (46:26) وہ زندگی کی اس سطح پہ پہنچ چکے تھے جہاں وہ عقل و ہوش سے کام لینا جانتے تھے‘ علمی صلاحیتیں بیدار ہوگئی تھیں ۔ فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ سَمْعُہُمْ وَلَآ اَبْصَارُہُمْ وَلَآ اَفْءِدَتُہُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِِذْ کَانُوْا یَجْحَدُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ (46:26) لیکن جب انہوں نے قوانینِ خداوندی سے اس طرح سے انکار کرنا شروع کیا‘ اس طرح سے اس کی تکذیب شروع کی‘ اس طرح سے ان کی مخالفت شروع کی‘ تو ان کے یہ سمع اور فواد اور علم کے ذرائع کچھ کام نہ آسکے۔ یہاں یہ بتایا کہ اس قوم کے اندر یہ اسٹیج آئی ہوئی ہونی چاہیے کہ وہ صاحبِ علم و ہوش ہو‘ اس کے پاس سمجھنے سوچنے کی صلاحیتیں موجود ہوں۔ دونوں شرطیں ہوں کہ وہ اس سطح پہ پہنچ چکے ہوں اور ان کے سامنے یہ ہدایات آچکی ہوئی ہوں اس کے بعد اگر وہ ان وجوہات کی بنا پہ‘ جو قرآن نے گنائی ہیں یا آگے اور گنائے گا ان کے ماننے سے‘ انہیں صحیح تسلیم کرنے سے‘ انکار کردے‘ ان کو صحیح تسلیم نہ کرے اور چھپا دے‘ ان کو باہر نہ آنے دے‘ اس چیز کو اندر رکھے‘ ان چیزوں کو چھپائے تو یہ ہے وہ ‘جسے کہا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (2:6) جو لوگ یہ کرتے ہیں‘ اس کے بعد ان کے لیے برابر ہے کہ تُو ان کو زندگی کی خطرناک گھاٹیوں سے آگاہ کرے یا نہ کرے‘ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6) وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

قرآنی حقائق سمجھنے کی خاطر سزا اور جزا کا قرآنی تصور سمجھنا نہایت ضروری ہے

اب وہ جو میں نے شروع میں کہا تھا کہ آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ صاحب! ایک قوم ایسی ہے‘ یہ ہمارے ہاں کے Primitive (قدیم) قبائل ہیں جو بیچارے علم اور ہوش کی سطح پہ آئے ہوئے ہی نہیں ہیں‘ وہ ابتدائی غاروں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں‘ وہ تو انسانی زندگی میں ہی نہیں ہیں‘ وہ تو اس سطح پہ بھی نہیں ہیں‘ تو اب ان کے لیے تو یہ سمجھنا ہی ممکن نہیں یا کوئی اور آپ لے آئیں گے کہ ایسی قوم ہے تو سہی لیکن ان تک یہ بات ہی نہیں پہنچی‘ پیغام ہی نہیں پہنچا‘ تو پھر ان کو یہ سزا کیوں؟ یہ ہے لفظ جس کی وجہ سے آپ کے ذہن میں کشمکش پیدا ہو رہی ہے۔ یہ لفظ ہے سزا۔ ان کے لیے سزا کا سوال ہی نہیں ہے۔ قرآن کی رو سے جب تک آپ جزا اور سزا کا تصور نہ بدلیں گے‘ اس وقت تک قرآن کے یہ حقائق آپ کو سمجھ میں ہی نہیں آئیں گے۔ سزا کا تصور یہ ہوتا ہے کہ جو خارج سے کسی کے اوپر کوئی چیز عائد کی جائے۔ ایک شخص کو علم حاصل نہیں ہے‘ وہ جاہل ہے‘ نقصانات تو اس کو ہو رہے ہیں‘ آپ نے اسے یہ سزا نہیں دی‘ علم کے نہ ہونے کا فطری نتیجہ ہے جو یہ نقصانات کی صورت میں مرتب ہو رہا ہے۔ ذمہ دار کون ہے؟ اس کو چھوڑ دیجیے‘ اگر یہ خود اس کا ذمہ دار نہیں ہے‘ آپ یہ کہیے کہ کسی گاؤں میں جہاں مدرسہ نہیں‘ دور دور تک مدرسہ نہیں‘ علم وہاں تک گیا ہی نہیں‘ وہاں کا بچہ پڑھا نہیں‘ پڑھ سکا نہیں۔ اس کے بعد وہ بڑا ہوگیا‘ وہ جوان ہوگیا‘ یہ آپ نے سی ایس پی کے داخلے کی شرط ایم اے یا بی اے رکھ لی‘ وہ تو اس میں آنے سے محروم رہے گا‘ نہیں آسکے گا۔ میں یہ آگے چل کر بتاؤنگا کہ یہاں تو آپ کا معاشرہ ذمہ دار ہے۔ آپ صرف اس فرد کو لیجیے‘ کیا اس کی حالت پہ رحم کھا کر‘ یہ کردیا جائے کہ اس کو ہائی کورٹ کا جج بنا دو؟ میں کسی دیسی ریاست کی بات نہیں کر رہا‘ میں وہاں کی بات کر رہا ہوں جہاں کوئی قاعدہ قانون مقرر ہوتا ہے۔ ’’ او چوروں قطب ٭(11) بنان والی عدالتاں دی‘ گل نئیں کردا پیا ٭(12)  ‘‘۔ میں پوچھتا یہ ہوں کہ جہاں علم کی ‘ Qualification (ڈگریوں) کی ضرورت ہو‘ یہ جو جاہل ہے‘ کیا وہ اس کے لیے آسکے گا؟ سنیے! یہ سزا نہیں ہے‘ یہ اس کے عدمِ علم اور اس کی جہالت کا فطری نتیجہ ہے۔ آپ نے اس پہ غور فرمایا۔ قرآنِ کریم کی رو سے یہ جو زندگی آگے چلتی ہے‘ انسان کی ذات کی نشوونما ہوتی ہے‘ اس نشوونما کی رو سے جو اس معیار پہ پوری اترتی ہے‘ انسان کی ذات آگے بڑھتی ہے‘ جو پوری نہیں ہے وہ رک جاتی ہے۔ اب جو ذاتِ اس پیمانے پہ پوری نہیں اتری ہوئی‘ اس کے لیے کچھ بھی اسباب کیوں نہ ہوں‘ پوری نہیں اتری ہوئی‘ وہ آگے بڑھ ہی نہیں سکتی۔ یہاں نہ Grace Marks (رعائتی نمبروں) کا سوال ہے‘ نہ رحم کا سوال ہے۔ یہاں تو ایک چیز کا ایک فطری نتیجہ ہے۔

قرآن حکیم کے نزدیک ہر وہ شخص جو انسان کی شکل رکھتا ہو انسان نہیں ہوتا

پھر ذہن میں یہ بات آئے گی کہ صاحب! پھر ان کا قصور کیا ہے جن تک نہ یہ پہنچا ہے‘ نہ جن کی نشوونما ہوئی ہے‘ نہ یہ علمی سطح پہ یا اپنی ذہنی سطح پہ وہاں پہنچے ہیں‘ یہ Primitive (قدیم) ہیں‘ ان کا قصور کیا ہے؟ ہم پوچھتے یہ ہیں کہ یہ اُس وقت کہو جب ان کو کوئی سزا دی جارہی ہو۔ قرآن انہیں جزا اور سزا سے مرفوع القلم سمجھتا ہے۔ یہ انسانوں کی سطح پہ آئے ہوئے نہیں ہیں۔ مغالطہ ہمیں اس لیے لگتا ہے کہ ہمیں ان کی شکلیں انسانوں جیسی نظر آتی ہیں۔

قرآن حکیم کے مطابق انسانوں میں شمار اسی کا ہوگا ‘جو انسانیت کے معیار پر پورا اترے گا

قرآن کی رو سے انسان کی شکل رکھنے والا انسان نہیں کہلاتا۔ ہر وہ شخص جو انسان کی شکل رکھتا ہو‘ وہ انسان نہیں ہوتا‘ انسان اس کے اندر ہوتا ہے۔ اس کے اندر اگر وہ انسانیت کی سطح کے اوپر آگیا ہوا ہے تو اس کا معاملہ انسانوں جیسا ہوگا‘ اگر وہ اس سطح کے اوپر نہیں آیا ہوا‘ کسی ذریعے سے بھی جو نہیں آیا ہوگا‘ اس کا معاملہ انسانوں جیسا نہیں ہوگا۔ اور بھی تو حیوان‘ اور بھی تو جاندار‘ دنیا کے اندر پیدا ہوتے ہیں‘ کروڑوں کی تعداد میں آتے ہیں‘ کروڑوں کی تعداد میں چلے جاتے ہیں‘ انہی میں ان کا شمار ہو جائے گا۔ وہ شک یوں پیدا ہوتا‘ اُس وقت پیدا ہوتا اگر یہ بات ہوتی کہ انہیں اٹھا کر جہنم میں پھینک دیا جاتا۔ ہمارا جو اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کا تصور تھا کہ جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا نہیں ہوئے‘ وہ کافر ہیں اور جو کافر ہے وہ جہنم میں ہے۔ ٹھیک ہے وہاں سے یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے‘ وہاں یہ شک بھی پیدا ہوتا ہے کہ صاحب! ان کا قصور کیا تھا جس کی سزا دی گئی ہے۔

پیدائشی طور پر نہ کوئی مسلمان ہوتا ہے نہ کافر‘قدرت تو صرف آدمی پیدا کرتی ہے‘ انسان تو اسے خود بننا پڑتا ہے

عزیزانِ من! ان انسان کی شکل رکھنے والوں کے لیے قرآن کی رو سے جزا اور سزا کا سوال نہیں ہے۔ یہاں تو جو کچھ انسان بنا ہوا ہے‘ اس کے مطابق اس کا مستقبل مرتب ہونا ہے۔ ایک چیز یاد رکھیے! انسان اگر اس سطح پہ پہنچ گیا ہے جسے Self Consciousness (شعورِ خویش) کہتے ہیں‘ یہ ذرا سا مشکل مسئلہ ہے۔ انسان جسے شعورِ خویش شعورِ ذات کہتے ہیں‘ اس کی سطح پہ پہنچ گیا ہے اور اس کو عقل اور ہوش آگئی‘ اس کو علم اور بصیرت آگئی ہے تو یہ پہلی شرط پوری ہوگئی۔ اگلی شرط یہ ہے کہ ہدایت کی یہ چیز اس تک بھی پہنچی ہوئی ہو۔

سوال تو ان لوگوں کا ہے جن تک زندگی کے حقائق پہنچ چکے ہیں

آج ہمارے اس دور میں تو جو لوگ علم و بصیرت کی رو سے اس سطح پہ پہنچ چکے ہیں‘ ان میں سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ حقائق ان تک نہیں پہنچے۔ آج تو علم کے ذرائع اتنے ہیں کہ یہ تو فضا کے اندر اس طرح سے پھیل رہے ہیں‘ منتشر ہو رہے ہیں‘ یہ تو گھر کے کمرے کے اندر بیٹھے ہوئے خود بخود کانوں کے اندر گھستے‘ آنکھوں کے سامنے آتے چلے جا رہے ہیں۔ اس سطح پہ آیا ہوا انسان کم از کم آج تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے سامنے یہ چیزیں نہیں آئیں۔ چھپی ہوئی فارم میں یہ چیزیں ان کے سامنے موجود ہوتی ہیں‘ دنیا بھر میں یہ چیزیں کہی جاتی ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ ان کو تو چھوڑ دیجیے کہ ان کے سامنے آئیں یا نہیں‘ ہمارے سامنے قرآن کی یہ بات آئی ہے یا نہیں۔ اور ہم اس سطح پہ آچکے ہوئے ہیں یا نہیں کہ جہاں ہم قرآن کو سمجھ سکتے ہیں۔ دونوں شرطیں پوری ہوچکی ہوئی ہیں۔ ہمارے لیے تو کوئی Excuse (بہانہ) نہیں ہے‘ ہم اس جہنم کی زندگی کے مستوجب ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کی یہ ذمہ داری کتنی بڑھ جاتی ہے۔ یہ جو عقل و ہوش کی سطح کے اوپر آنا ہے‘ یہ ہے تو بڑی لذت انگیز چیز لیکن اس کی قیمت بڑی سخت ادا کرنا پڑتی ہے۔ وہ ستایا ہوا ٹھیک کہہ گیا تھا کہ ’’ پاگل ہو جا‘ تیری مصیبت دوسرے بھگتیں‘‘ لیکن یہاں پاگل تو ہوا نہیں جاتا۔

کیا آج پوری ملتِ اسلامیہ اپنی بربادی اور نوع انسانی کی تباہ حالی کے بوجھ کی ذمہ دار نہیں؟

سوچیے‘ عزیزانِ من! عقل و ہوش کی سطح کے اوپر ہم پہنچ چکے ہیں‘ قرآن کی یہ ہدایات سامنے آچکی ہیں۔ کسی اور کے لیے تو وہاں جا کر شاید کوئی Excuse (بہانے) کی بات نکل ہی آئے‘ ہمیں کیا ان سے واسطہ‘ وہ تو کہتا ہے کہ تم اپنے متعلق سوچا کرو کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسا عذر ہے جو وہاں جاکر پیش کرسکو گے؟ کیا کہہ سکو گے کہ ہمارے سامنے قرآن نہیں آیا؟ عزیزانِ من! آپ تو اٹھتے بیٹھتے ساری دنیا کو یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کتاب کے وارث ہیں۔ کیا کہہ سکو گے کہ ہم اس سطح کے اوپر نہیں تھے جہاں ہم اس کو سمجھ سکتے؟ پھر اس کے بعد کیفیت یہ ہے کہ اس کے حقائق کو دبایا جاتا ہے‘ چھپایا جاتا ہے‘ پوشیدہ رکھا جاتا ہے‘ انکار کیا جاتا ہے‘ سرکشی برتی جاتی ہے۔ لوگوں کو چھوڑ دیجیے اپنے متعلق سوچیے‘ عزیزانِ من! ہماری کوئی گنجائش کسی قسم کی ہے کہ ہم کوئی معذرت پیش کرسکیں؟ ان کے متعلق نہ سوچیے جو اس سطح پہ نہیں آئے‘ ان کے متعلق نہ سوچیے جن تک یہ نہیں پہنچا۔ خدا کہتا ہے کہ ہم ظالم نہیں ہیں‘ انہیں سزا نہیں دی جائے گی۔ پہلی چیز ان کے لیے‘ یاد رکھیے! یہ ہے کہ شعور کی اس سطح پہ آچکے ہوئے ہوں‘ جو حقائق ہیں یہ سامنے آچکے ہوئے ہوں اور اس کے بعد اگر پھر ان سے وہ یوں انکار کریں تو اس کے لیے تو کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ہمارا شمار ان کے اندر ہے۔

ہمیں اس خود فریبی سے نکلنے کا کب اندازہ ہوگا؟

عزیزانِ من! اس لیے اس الجھن میں نہ پھنسیے کہ ان کا کیا ہوگا؟ یہ سوچیے! کہ ہمارا کیا ہوگا۔ وہ ایک نظری سی بحث رہ جائے گی اور ہم اس لیے اس میں الجھتے ہیں کہ کہیں یہ بات ہمارے سامنے نہ آجائے کہ ہمارا کیا ہوگا۔ یہ آپ دیکھتے ہیں کہ انسان کے اس نفس کی کتنی بڑی فریب کاری ہے‘ یہ اس کو ان نظری مباحث کے اندر‘ فلسفیانہ موشگافیوں کے اندر‘ منطقی نکات آرائیوں کے اندر الجھائے رکھتا ہے۔ ساری طاقت اس میں لگ رہی ہے اور اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں کہ بڑے کارِ نمایاں کر رہے ہیں‘ عام حقائق کی چھان بین کر رہے ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ کیا اپنے متعلق بھی کبھی سوچ رہے ہو؟ یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (59:18) اوروں کی باتیں نہ کیا کرو‘ دیکھا یہ کرو کہ تم نے اپنے کل (Future) کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اس لیے یہ چیز ہے۔

حدیث رسولؐ تو چودہ سو سال سے ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ’’جس کاآج کل جیسا ہی گزرا ‘وہ تباہ ہوگیا ‘‘

عزیزانِ من! کہ شعور کی اس سطح پہ بھی آچکے ہیں‘ قرآن کی ہدایات بھی ہمارے سامنے آچکی ہیں‘ اس کے باوجود کیفیت یہ ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے‘ کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہو رہی‘ نہ افراد کے اندر‘ نہ ملت کے اندر‘ نہ آپ کے معاشرے کے اندر۔ میں کہتا ہوں کہ اب تو اس معاشرے کے اندر جتنا قرآن قرآن اور اسلام اسلام ہوتا چلا آرہا ہے اگر آپ ان بیانات کو‘ ان تحریروں کو‘ ان کتابوں کو اکٹھا کریں تو ایک طومار کھڑا ہو جائے گا لیکن اس کے بعد اس کا نتیجہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی آپ دیکھ رہے ہیں۔ ہر آنے والی صبح‘ جانے والی صبح سے بدتر ہوتی ہے۔ یہ کفر کیوں اختیار ہو رہا ہے؟

یہ کہنے سے تو ہمارا بہت جی ڈرتا ہوگا کہ ہم یہ کہیں کہ ہم یہ کفر کیوں اختیار کر رہے ہیں لیکن ہم کیا کریں‘ قرآن تو یہ کہتا ہے۔ یہ چار پانچ دس چیزیں‘ جو میں نے آپ کے سامنے پیش کی ہیں کہ جو یہ یہ کرنے والے ہیں ان کے سامنے جب یہ حقائق آتے ہیں‘ تو کیا وہ ان کو تسلیم کرتے ہیں؟ کیا وہ انہیں مانتے ہیں؟ اور ماننے کے معنی یہ ہیں کہ کیا وہ ان کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالتے ہیں؟ اگر نہیں‘ تو یہی تو کفر ہے۔ اس لیے عزیزانِ من! جب ذہنیت یہاں تک پہنچ چکی ہو تو س َوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (2:6) ہی ہوتا ہے۔ یہ انذرتھم کیا چیز ہے؟ انذار کس چیز کو کہتے ہیں؟ یہ ہوتا ہے یہی کہ ’’کسی کو اس کے ہونے والے عمل کے نتیجے سے قبل از وقت آگاہ کردینا‘‘۔ یہ پیش گوئی نہیں ہوتی‘ یہ علمِ غیب نہیں ہوتا۔ جب یہاں کائنات قانون کی رو سے چل رہی ہے تو قانون کا جاننے والا تو یہ بتا دے گا کہ یہ جو اتنی Sleeping Pills (خواب آور گولیاں) شام کے وقت کھا گیا ہے‘ یہ صبح مر جائے گا۔ اسے یہ کہہ دینا کہ یہ Sleeping Pills (خواب آور گولیاں) ہیں‘ ایک کھا سکتے ہو یا شاید دو کھا سکتے ہو‘ اس سے زیادہ اگر تم نے کھالیا تو موت واقع ہو جائے گی۔ یہ انداز کہلاتا ہے۔ یہ ان سے کہا کہ خواہ تو ان کو اس سے آگاہ کرے یا نہ کرے‘ برابر ہے‘ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ جس نے سوچا ہے کہ میں نے رات کو خودکشی کرنی ہے‘ وہ ڈاکٹر صاحب اس کو جتنی مرضی تلقین کریں کہ دو سے زیادہ نہ کھانا‘ وہ تو شیشی لے کر اس لیے گیا ہے کہ وہ ساری کی ساری کھائے گا۔ یہ ہے سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ (2:6) ۔ کس کے لیے یہ مفید ہے؟ سنیے‘ عزیزانِ من! وقت ہوگیا‘ ورنہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے بھی ایک درس چاہیے تھا۔ کس کے لیے یہ جو اِنْذَارُ ہے‘ یہ جو تَنْذِیْرُ ہے‘ مفید ہے؟

قرآنی تعلیم انسان کو زندگی اور عمر کا فرق ہی بتانے کے لیے آئی تھی

رسول اللہ سے کہا کہ ہم تمہیں یہ کتاب اس لیے دیتے ہیں کہ لِیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا (36:70) جو زندہ رہنا چاہتا ہے اس کو ان خطرناک گھاٹیوں سے آگاہ کردے۔ یہاں ایک لفظ ہے کہ جو زندہ رہنا چاہتا ہے۔ اور قرآن نے خود ہی پھر یہ کہہ دیا ہے کہ اس سے کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ زندگی اس سانس کی آمد و رفت کا نام ہے۔ نفس شماری کو وہ زندگی ہی نہیں گنتا۔ وہ کہتا ہے کہ یہ حیوانات کی سطح ہے۔ اس کے نزدیک زندگی نفس شماری کا نام نہیں ہے۔ کہتا ہے یہ ٹھیک ہے کہ ان کو علم نہیں ہے کہ یہ کتنی Dose (خوراک) چاہیے‘ کتنی کھانی ہے‘ کیا پرہیز کرنا ہے۔ یہ چیز اس مریض کو فائدہ دے سکے گی جو مریض زندہ رہنا چاہتا ہے۔ جس میں ہنوز زندہ رہنے کی صلاحیت ہے‘ اسے ان چیزوں سے آگاہ کر۔ جو اس میں Believe (یقین) ہی نہیں کرتا‘ جو زندہ رہنا ہی نہیں چاہتا‘ جو زندگی میں ایمان ہی نہیں رکھتا‘ اس کو اس سے آگاہ کرتے رہو گے تو کیا بات ہوئی؟ کچھ بھی نہیں۔ کہا ہے کہ لِیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا وَّیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ (36:70) اور جو اس زندگی سے انکار ہی کرتے ہیں‘ ان پر اس قانون کی صداقت ثبت ہو جائے کہ ساری شیشی کھا جانے والا مرجایا کرتا ہے۔ چار چار لفظوں کے دو ٹکڑے‘ برادرانِ عزیز! ریفرنس لے لیجیے اور ہفتہ بھر غور کرتے رہیے کہ قرآن کہہ کیا گیا ہے۔ بات ہم نے آج یہی (2:6) کی کہی ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ  (2:6) ٭(13)اور اگلی بات یہ آئے گی کہ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ (2:7) ۔ یہ پھر میں سمجھتا ہوں کہ پورا درس ہی لے لے گی۔ اسے ہم آئندہ درس پہ اٹھا رکھتے ہیں۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاط اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

محمد عقیل حیدرؔ       Re Typed by  :  

حواشی

٭(1) اگر مان لیں تو اُن کا کچھ باقی نہیں رہتا۔

٭(2) یہ جو بھینس کے گلے میں رستہ سا ڈلا ہوا ہوتا ہے۔

٭(3) جناب! میرا باپ بھی یہی کچھ کہا کرتا تھا۔

٭(4) پھر راوی عیش لکھتا ہے کہ نہیں جی! یہ نہیں ہے۔

٭(5) ’’ پکی روٹی‘‘ ہی اس کتاب کا نام تھا۔ نام ہی بتا رہا ہے کہ ہم یہ کچھ کیوں کر رہے ہیں۔

٭(6) پھر ساتھ ہی وہ قدم بوسی بھی کرتے ہیں۔

٭(7) تمہاری یہ بات انہوں نے ماننی ہی نہیں ہے۔

٭(8) جی ! مولا کی یہی مرضی ہے۔ اللہ کا یہی حکم ہے

٭(9) اب تو وہ کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں‘ اب سوائے اس کے اور کیا کرے گا۔

٭(10)یاد رہے کہ یہ بات جون 1968ء کی 23تاریخ کو کہی گئی تھی۔

٭(11) (اہلِ تصوف کے ہاں) ’’ لقب اس ولی کا جس کے قبضۂ قدرت میں کسی ملک کا انتظام عالم معنوی میں خدا کی جانب سے سپرد ہو‘‘۔ (لغات کشوری طبع نول کشور‘ ص۔ 366 )۔ (یہ معنی اہلِ تصوف کے ہاں لیے جاتے ہیں)۔

٭(12) ’’ وہ چوروں کو قطب بنانے والی عدالتوں کی بات نہیں کر رہا۔ ‘‘

٭(13) یہ گروہ ان لوگوں کا ہے کہ زندگی کا صحیح راستہ نمایاں طور پر ان کے سامنے آجاتا ہے لیکن وہ ضد‘ حسد‘ تکبر‘ سرکشی اور اپنی مفاد پرستیوں کی بنا پر اسے اختیار نہیں کرتے (2:89,90,109;27:14;35:42-43;47:32) وہ خود بھی اس راستے پر نہیں چلتے اور دوسروں کو بھی اس پر چلنے سے روکتے ہیں (6:246:41:26:47:32) ۔ ان لوگوں کو اس روش کے تباہ کن نتائج سے آگاہ کیا جائے یا نہ کیا جائے‘ ان کے لیے برابر ہے۔ یہ صحیح راستہ کبھی اختیار نہیں کریں گے (جو شخص خودکشی پر تلا بیٹھا ہو اس سے یہ کہنا کہ سنکھیاں مہلک ہوتا ہے‘ اس سے ‘بچنا بے سود ہوتا ہے)۔ ایسی نصیحت اسی کے لیے نفع بخش ہوسکتی ہے جو زندہ رہنا چاہیے (36:70)۔ (پرویزؒ : مفہوم القرآن‘ ص۔ 3 )۔

Sura 2 Al Baqara Verse 6 (download) |Useful links:)| --Lughat--| --Tabweeb--| --Mafhoom--| --Qurani Qavaneen--| --Previous Dars--| --Duroos List--| ----->Next Dars

Sura 2 Al Baqara ayah 6 part 1 of 8

Sura 2 Al Baqara ayah 6 part 1 of 8 Dars e Quran by Allama Ghulam Ahmad Parwez

Posted by Parwez videos on Venerdì 8 gennaio 2016