Sura 2 Al Baqara Verse 7 (download) |Useful links:)| --Lughat--| --Tabweeb--| --Mafhoom--| --Qurani Qavaneen--| --Previous Dars--| --Duroos List--| ----->Next Dars

بِسمِ اللّٰہ اَلرَحمٰن اَلرّحِیم

درس قرانِ حکیم الحمدُ للہ (1:1)

سورۃ الفاتحہ

( بسم اللہ اور آیت 1 )

ازمفکر قرآن علامہ غلام احمد پرویزؔ

بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ کی نوعیت

عزیزانِ من ! سلام ورحمت ! سورۃ الفاتحہ کے درسوں کے جو Cassette ( کیسٹ ) میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں‘ ان کا تعارف پہلی نشست میں کرایا جا چکا ہے۔ اب ہم سورۃ الفاتحہ کے درس کی ابتدا کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے اُن الفاظ کو سامنے لانا ضروری ہے جو اِسی سورت کے آغاز میں نہیں بلکہ قرآنِ کریم کی ہر سورت کے آغاز میں لکھے اور پڑھے جاتے ہیں سوائے ایک سورت کے‘ جسے سورۃ التوبہ کہتے ہیں۔ اس سورۃ کی ابتدا میں یہ الفاظ اس لیے نہیں لکھے جاتے یا پڑھے جاتے کہ کہا جاتا ہے کہ یہ یقینی طور پر طے نہیں پا سکا تھا کہ سورۃالتوبہ ایک الگ سورۃ ہے یا سابقہ سورۃ الانفال ہی کا ایک حصہ ہے یعنی یہ ایک ہی سورۃ مسلسل چلی آتی ہے یا یہ ایک نئی سورۃ ہے ۔ چونکہ یقینی طور پر یہ طے نہیں پا سکا تھا اس لیے انہوں نے یہ کیا کہ سورۃ التوبہ الگ رکھی۔ آٹھویں سورۃ الانفال اور نویں سورۃ التوبہ کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھا کہ اس کا تسلسل بھی قائم رہے اور یہ ایک الگ سورۃ بھی نظر آئے۔ یہ بہرحال ایک ٹیکنیکل سی بات ہے۔ قرآنِ کریم کے مفہوم پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔

قرآنِ حکیم شروع سے آخر تک ایک مربوط کتاب ہے

قرآنِ کریم جیسا کہ آپ دیکھیں گے‘ الحمد سے والناس تک‘ ایک مسلسل مربوط کتاب ہے‘ سورتوں کے یہ الگ الگ نام حوالوں کی آسانی کے لیے ہیں‘ جیسے آیتوں کے الگ الگ نمبر ہیں۔ اسی طرح قرآنِ کریم کو جو تیس پاروں میں تقسیم کیا گیا ہے‘تو اُن کی بھی کوئی خصوصیت نہیں ہے‘ یہ محض تلاوت کی غرض سے ‘اور خاص طور پر حفاظ نے اپنی آسانی کے لیے‘ قرآن کو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر حصے کا نام ایک پارہ رکھ دیا۔ پاروں کی یہ ایک خصوصیت ہے۔ اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے سورتوں کے الگ الگ نام بھی حوالوں کی ‘سہولت کی غرض سے ہیں۔ میں کہہ یہ رہا تھا کہ ہر سورت کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ ملتے ہیں اور ویسے بھی ہم مسلمان جو کام بھی کرتے ہیں‘اس سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے ہیں‘ اس اعتبار سے بھی یہ ہے کہ یہ بڑے اہم سے الفاظ اوراہم سا ٹکڑا ہے۔ بعض احباب اورعلماء کا خیال ہے کہ یہ بذاتِ خود ایک آیت ہے۔ چنانچہ جب وہ کسی سورت کی آیتوں کا نمبر شمار کرتے ہیں تو اسے پہلی آیت کہتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ نہیں‘ سورت تو اپنی پہلی آیت سے شروع ہوتی ہے اور یہ بسم اللہ کے الفاظ ہر سورت کے اوپر تبرکاً لکھے جاتے ہیں لیکن سورت یہ ہو یا وہ ہو‘ یہ حقیقت ہے کہ قرآنِ کریم کے اندر سورۂ النمل میں یہ الفاظ اسی طرح سے آئے ہیں۔ اس میں کہا یہ گیا ہے کہ حضرت سلیمان  ٭ (1) نے ملکہ سبا ٭ (2) (Sheba) کو جو خط لکھا تو اس کا آغاز اس طرح سے کیا : اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (27:30) ۔ چونکہ یہ الفاظ اسی طرح سے قرآنِ کریم کے متن کے اندر آگئے ہیں اس لیے یہ الفاظ منزل من اللہ یعنی وحی خداوندی ہیں اور ہمارے لیے اتنا سمجھ لینا ہی کافی ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم کے الفاظ کا حقیقی مفہوم اور اس کی وضاحت

عام طور پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے معنی کیے جاتے ہیں :’’ میں شروع کرتا ہوں پاک نام اللہ کے‘ جو بے حد مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔‘‘ بسم اللہ میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس کے معنی ’’شروع کرتا ہوں ‘‘ہوں۔ ان معانی کے لیے اس سے پہلے ’’ابتدع‘‘ کا لفظ محذوف مانا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں : ’’ میں شروع کرتا ہوں۔‘‘

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ’’اقراء ‘‘کا لفظ محذوف ہے کیونکہ سورۂ العلق میں آیا ہے : اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (96:1) ۔ کہا جاتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ پر وحی کا آغاز اس آیت سے ہوا تھا ‘جس میں حضورﷺ سے کہا گیا تھا ’’کہ تو پڑھ ساتھ پاک نام اپنے رب کے ‘جس نے پیدا کیا۔‘‘ اس آیت کا صحیح مفہوم اپنے مقام پر آئے گا۔ بہرحال کہنا یہ مقصود تھا کہ بسم اللہ کے معنی کیے جاتے ہیں :’’ میں شروع کرتا ہوں ساتھ نام اللہ کے‘‘ اور اس میں چونکہ کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جس کے معنی ’’میں شروع کرتا ہوں ‘‘ہو‘ اس لیے مانا یہ جاتا ہے کہ اس سے پہلے یہ الفاظ تھے اور وہ محذوف ہیں‘ پڑھے نہیں جاتے ‘اُن کا مطلب یہی لیا جائے گا۔ لیکن اگر ذرا گہرائی میں جایا جائے تو اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نہ تو اس سے پہلے کوئی لفظ محذوف ہے اور نہ ہی اس کے معنی ’’میں شروع کرتا ہوں‘‘ ہیں‘کیونکہ بسم اللہ میں ’’ب‘‘ کا حرف آیا ہے۔ اس کے معنی ’’ساتھ‘‘ کیے جاتے ہیں ساتھ نام اللہ کے۔یہ ٹھیک ہے کہ اس کے معنی ’’ساتھ‘‘ بھی ہیں لیکن جیسا کہ آپ تعارفی درس میں سن چکے ہیں کہ عربی زبان میں تو ایک ایک لفظ بلکہ بعض اوقات ایک ایک حرف کے بھی متعدد معنی ہوتے ہیں اور اُن میں سے ہمیں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کون سا معنی موضوع ‘مفہوم اور مضمون کے اعتبار سے اس آیت میں صحیح طور پرفٹ (Fit) بیٹھتا ہے۔ یعنی اس سے پہلے کوئی لفظ محذوف نہ مانا جائے تو پھر ’’ب‘‘ کے معنی ’’ساتھ‘‘ کے بجائے دوسرے لینے چاہئیں اور ’’ب‘‘ کا دوسرا اہم معنی ’’مقصد‘ غایت‘‘ ہے۔ یعنی ’’میں یہ جو کچھ کر رہا ہوں یا کرنا چاہتا ہوں ‘وہ اس مقصد کے لیے ہے‘ اُس کی غایت یہ ہے‘ اُس کا سبب یہ ہے‘ اُس کی علت یہ ہے‘ میں یہ اُس لیے کر رہا ہوں‘‘۔ اب یہاں تو بات صاف ہو گئی کہ بسم اللہ کے معنی یہ ہوئے کہ میں ’’جو کچھ بھی کر رہا ہوں یا جو کچھ اُس کے بعدکہا جائے گا‘ اُس کا مقصد‘ اُس کی غایت‘ اُس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بات آگے آئے گی‘‘۔ دوسرا یہ کہ حرف ’’ب ‘‘کے ساتھ جو پہلا لفظ آیا ہے ‘وہ ’’اسم‘‘ ہے۔ ’’اسم ‘‘کا ترجمہ عام طور پر ’’نام ‘‘کیا جاتا ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک تو ذاتی نام ہے جسے اللہ کہتے ہیں یعنی ذاتِ خداوندی کا نام اور باقی تمام اللہ کی صفات ہیں۔ صفت کے لیے عربی زبان میں لفظ ’’اسم ‘‘آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ ’’اسم‘‘ کا مادہ ’’س م و‘‘ ہے تو اس مادہ کے بنیادی معنی ہیں : ’’ کوئی ایسی علامت جس سے متعلقہ چیز پہچانی جائے‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کی حقیقت تو انسان کے تصور میں بھی نہیں آسکتی۔ یہ بر ترازخیال وقیاس وگمان ووہم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے متعلق تو ہم کچھ نہیں جان سکتے لیکن اس نے اپنی جو صفات بیان کی ہیں‘ ان صفات کا ایک تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے۔ یہ صفاتِ خداوندی اسماء الحسنیٰ کہلاتی ہیں۔ سورۃا لحشر میں مختلف صفاتِ خداوندی بیان کرنے کے بعد کہا گیا ہے کہ لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی (59:24) خدا کی تمام صفات نہایت حسن و خوبی سے کامل توازن لیے ہوئے ہیں۔ لہٰذا میرے نزدیک بسم اللہ میں ’’اسم‘‘ سے مراد صفتِ خداوندی ہے ‘اسمائے خداوندی ۔ اس کے بعد بسم اللہ میں دوسرا لفظ ’’اللہ‘‘ آتا ہے۔میں نے ابھی ابھی عرض کیا ہے کہ اللہ تو خدا کا ذاتی نام ہے۔بسم اللہ کے معنی ہوئے : ’’ اللہ کی اُس صفت یا اِن صفات کے مقصد یا غرض کے لیے یہ کام شروع کیا جاتا ہے یا یہ کچھ کیا جاتا ہے ۔‘‘

عزیز برادران ! بسم اللہ کے بعد رحمن اور رحیم کے دو الفاظ آئے ہیں۔یہ خدا کے دو اسماء ہوئے‘ یہ خدا کی دو صفات ہوئیں جن کے لیے ’’یہ کچھ کیا جائے گا‘‘۔ ان معانی کی رو سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا مفہوم یہ ہو گا کہ ’’جو کچھ اس کے بعد کہا جائے گا یا کیا جائے گا‘ اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا کی صفاتِ رحمانیت اور رحیمیّت کا ظہور اور نمود ہو یعنی یہ صفاتِ خداوندی مخصوص طور پر بروئے کار آجائیں۔ جب قرآنِ کریم کی کسی سورت کے آغاز میں آنے والے ان الفاظ کو خدا کی طرف منسوب کیا جائے یعنی یہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے متعلق ایسا فرمایا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ’’خدا کا ارشاد یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن یا قرآنِ مجید کی اس آیت کو یا اس سورت کو اس لیے نازل کیا ہے کہ ’’ہماری صفتِ رحمانیت اور رحیمیّت کی عام نمود ہو جائے‘‘۔ اور جب ایک مردمومن ‘ایک مسلم‘ ایک مسلمان ‘اپنے کسی کام کی ابتدا ان الفاظ سے کرے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ’’میں اس کام کو اس لیے ہاتھ میں لے رہا ہوں کہ اس سے خدا کی صفت رحمانیت اور رحیمیت کی نمود ہو جائے۔‘‘ یہ بسم اللہ کی غایت‘ خدا کی صفتِ رحمانیت ورحیمیّت ‘کو عملاً بروئے کار لانا ہے۔

خدا تعالیٰ کے نزدیک نزولِ قرآن کا اصل مقصد

اب سوال یہ سامنے آئے گا کہ خدا کی صفتِ رحمانیت اور رحیمیّت کا مفہوم اور مقصود کیا ہے؟ یوں تو خدا کی تمام صفات اپنے اپنے مقام پر یکساں عظمت اور اہمیت کی حامل ہیں لیکن ظاہر ہے کہ جن صفات کو خدائی پروگرام اور اس کی ابتدا میں انسان کے پروگرام کی غرض وغایت بتایا گیا ہو‘ وہ خاص اہمیت کی حامل ہوں گی۔ لہٰذا یہ دونوں صفاتِ خداوندی‘ رحمن اور رحیم‘ بڑے گہرے غور و فکر کے متقاضی ہیں۔ پہلے تو میرا یہ خیال تھا کہ میں اسی مقام پر ان کا قرآنی مفہوم واضح کر دوں لیکن آگے چل کر جب ہمارے سامنے سورۂ فاتحہ کی پہلی اوردوسری آیتیں آئیں گی تو وہاں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کے بعد اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ آئے گا۔ چونکہ یہ الفاظ وہاں آتے ہیں‘ اس لیے ان کے مفہوم کے بیان کا صحیح اور مناسب مقام وہی ہے۔ اس کے لیے آپ کو تھوڑا سا انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر آپ صرف اتنا سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم نازل فرمایا ہے تو اس کا بھی مقصد یہ ہے کہ انسانی دنیا میں اس کی صفتِ رحمانیت اور رحیمیّت عام ہو جائے اور اس کے بندے جس پروگرام کو بھی ہاتھ میں لیں اس کی غرض وغایت بھی یہی ہونی چاہیے ۔بنابریں‘ اس وقت میں جو اپنی بصیرت کے مطابق قرآنِ کریم کے معانی اور مطالب بیان کر رہا ہوں اور آپ انہیں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس سے ہمارا مقصد یہی ہونا چاہیے کہ اللہ کی ’’رحمت‘‘ کا عام ظہور ہو جائے۔ میرے پیش نظر بہرحال یہی مقصد ہے اور یہی میری تمام کوششوں کا منتہیٰ ہے۔جب آگے چل کر رحمن اور رحیم کا مفہوم آپ کے سامنے آئے گا تو پھر اُس وقت آپ سمجھ جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ جھوم اٹھیں گے کہ یہ جو ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے ہیں تو یہ کتنے بڑے پروگرام کا‘ کتنے عظیم مقصدِ حیات کا‘ اعلان ہے اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے یہ الفاظ صرف دہرانے کے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک پروگرام ہے جس کو عملاً بروئے کار لانا امتِ مسلمہ کا فرض ہے اور اُس میں تعاون اور شرکت کرنا ہر عبد مسلم کا فریضہ حیات ہے تو یہ ہوئی بات بسم اللہ الرحمن الرحیم کی ! اب اس کے بعد ہمارے سامنے سورۃ فاتحہ آتی ہے ۔

سورۃ فاتحہ کی حیثیت قرآنِ حکیم کے ’پیش لفظ‘ کی سی ہے

سورۃ فاتحہ یوں کہیے کہ جیسے کسی کتاب کا ) Preface پیش لفظ ) ہوتا ہے ) Introduction تعارف ) ہوتا ہے۔ اس سورت کی سات چھوٹی چھوٹی آیات میں اگر یہ کہا جائے کہ واقعی قرآنِ کریم کی تعلیم کا ملخص سمٹ کر آگیا ہے تو اس میں قطعاً مبالغہ نہیں ہو گا۔ یہ بڑی ہی جامع سورت ہے اور قرآنِ کریم کا )Opening افتتاحیہ ) اسی قسم کی سورت سے ہونا چاہیے اس لیے ہم اس کی پہلی آیت اَلْحَمْدُِ ﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (1:1) سے شروع کرتے ہیں ۔

ذاتِ خداوندی کے متعلق غیر مسلموں کا ایک اعتراض جو غلط فہمی پر مبنی ہے

عزیزانِ من ! جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے ‘ اس کا پہلا لفظ ’’الحمد‘‘ ہے۔ اَلْحَمْدُِ ﷲِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (1:1) کے عام طور پر معنی کیے جاتے ہیں ’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو پالنے والا ہے سارے جہانوں کا‘‘۔ میں ترجمہ اور اس کے مفہوم کے متعلق تو بعد میں عرض کروں گا‘ پہلے میں اُس اعتراض کو لیتا ہوں جو غیر مسلم بالعموم اس مفہوم یا اس ترجمہ کے خلاف کرتے ہیں۔ وہ کہتے یہ ہیں کہ ہم مسلمانوں کا خدا ( معاذ اللہ ) عجیب ہے‘ جو خود اپنے منہ سے کہتا ہے کہ تمام تعریفیں میرے لیے ہیں۔ اِن لوگوں کے کہنے کے مطابق‘ اس کااپنے منہ سے خود‘ اپنے متعلق ایسی باتیں کرنا‘ زیب نہیں دیتا۔ اُن کا یہ اعتراض غلط فہمی پر مبنی ہے۔ وحی خداوندی کے ذریعے‘ جو قرآن کے اندر محفوظ ہے‘ درحقیقت انسانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ایسا کہیں اور ایسا کریں۔ یہ ہدایت ہے۔ یہ Doctrines ٭ (3) ہیں‘ جو خدا کی طرف سے دئیے گئے ہیں۔ لہٰذا ’’الحمد ‘‘سے مراد یہ نہیں کہ خدا اپنی تعریف آپ کرتا ہے۔ وہ تو اِس سے مستغنی ہے۔ اُس نے انسانوں سے کہا ہے کہ تم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لو اور اِسے ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو کہ ساری ’’حمد‘‘ خدا کے لیے ہے۔ اصل یہ ہے کہ اگر قرآنِ کریم کے شروع میں ہی ایک لفظ ’’قل‘‘ مان لیا جائے کہ ’’کہو‘‘تو اُس کے بعد جو سارا قرآن کریم ہے‘ اس کے متعلق یہ کہا جائے گا‘ یہ سمجھا جائے گا کہ خدا نے انسانوں سے کہا ہے کہ ’’تم ایسا کہو‘ ایسا کرو۔‘‘ لہٰذا اس اعتبار سے غیر مسلموں کا وہ اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا۔

لفظ ’حمد‘ کے قرآنی مفہوم کی شرط اول

اب آئیے حمد کی طرف۔ جیسا کہ ابھی میں نے ترجمے میں کہا ہے اور ہر ترجمے میں یہ آپ کو ملے گا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے یعنی حمد کا ترجمہ ‘‘تعریف’’ کیا جاتا ہے۔ یہ ترجمہ قرآن کے مفہوم کو صحیح طور پر واضح نہیں کرتا۔ آپ کو معلوم ہے کہ پہلے تعارفی درس میں‘ میں عربی زبان کی وسعت اور جامعیت کی حقیقت ٭ (4) اقتباسات سے بیان کرچکا ہوں ۔تعریف کے لیے عربوں کے ہاں اور الفاظ بھی ہیں۔ خود تعریف بھی تو عربی زبان کا لفظ ہے لیکن قرآن کریم میں وہ الفاظ خدا کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ اس کے لیے ’’حمد‘‘ کا لفظ ہی آیا ہے۔ لہٰذا اس لفظ کے بنیادی اور حقیقی مفہوم کو سمجھ لینا نہایت ضروری ہے۔ حمد کے معنیٰ کیا ہیں؟ اور اس لفظ کو کن معانی میں استعمال کرتے ہیں؟ زمانہ نزولِ قرآن کی عربی میں اس کا مفہوم کیا لیا جاتاتھا؟ جب وہ مفہوم سامنے آئے گا تو پھر آپ دیکھیں گے کہ خدا کے لیے یہی لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ اس کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ ’’سب تعریف خدا کے لیے ہے۔‘‘ اس کا مفہوم کہیں بلند اوراس سے کہیں وسیع تر ہے۔ عربوں کے ہاں کسی نہایت حسین ‘متناسب ‘نادر شاہکار (Master Piece ) کو دیکھ کر انسان کے دل میں جو جذباتِ تحسین ‘جو Appreciation ( ستائش ) کے جذبات ' بے ساختہ بیدارہوں‘ اور خود دل سے اٹھیں‘ توان کے والہانہ اظہار کو ’’حمد‘‘ کہا جاتا ہے۔ ویسے تو انہی الفاظ سے آپ سمجھ لیجیے کہ ’’حمد‘‘ کے معنیٰ کیا تھے لیکن اس کے لیے وہ چند شرائط عائد کرتے تھے کہ ’’حمد‘‘ کن چیزوں کی کی جائے گی اور کس انداز سے کی جائے گی۔ پہلی شرط تو یہ ہے کہ جس حسن و رعنائی اور شاہکار کی ستائش کی جا رہی ہے وہ ایک خارجی حقیقت اور محسوس شے ہونی چاہیے۔ غیر محسوس اور مشاہدہ میں نہ آنے والی چیزوں کے متعلق ہمارے دل میں جذباتِ تحسین و ستائش پیدا نہیں ہوسکتے۔ مثلاً ہم کسی مصور کی تعریف‘ اس کی ان تصاویر کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں‘ جو مرئی (Visible) طور پر ہمارے سامنے آجائیں۔ اس لیے قرآن کریم نے اُن نمود و نمائش کا ذوق رکھنے والوں پر طنز کیا ہے‘ جو بغیر تعمیری اور نفع بخش کام کہیے‘ اپنی ستائش چاہتے ہیں ۔ اس نے کہا ہے کہ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا (3:187) یہ وہ لوگ ہیں‘ جو چاہتے ہیں کہ اُن کی تعریف اُن کاموں کی بنا پر کی جائے‘ جنہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ لہٰذا محض کسی نظریہ یا کسی Idea ( خیال و تصور ) یا کسی قسم کے تصور کے لیے ’’حمد‘‘ کا لفظ نہیں بولا جائے گا۔ وہ Ideal ‘ وہ نظریہ‘ وہ تصور ‘جب عملی شکل میں‘ محسوس پیکر میں‘ سامنے آئے گا‘ تو اس وقت اس کی تحسین و ستائش کے لیے ’’حمد‘‘ کا لفظ بولا جائے گا ۔ اس سے پہلے نہیں بولا جائے گا۔ یہ ہے پہلی شرط ۔

’’ حمد‘‘ اور ’’مدح‘‘ میں بنیادی فرق

دوسری شرط یہ ہے کہ کسی کی جس بات یا جس کام کی ’’حمد‘‘ کی جا رہی ہو‘ وہ اس سے اختیاری طور پر سرزد ہونی چاہیے۔ بے اختیاری یا مکینکی انداز سے کسی فعل کا سرزد ہوجانا ’’حمد‘‘ کا مستحق نہیں بناتا حتیٰ کہ وہ حسن جو کسی میں پیدائشی طور پر موجود ہو‘ یعنی وہ اُس کا اپنا اکتسابی (Acquired) نہ ہو‘ اُس کے لیے بھی ’’حمد‘‘ کا لفظ نہیں بولا جاتا ‘مدح کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مثلاً وہ کہتے یہ ہیں کہ ’’رقصِ طاؤس‘‘ میں‘ یعنی مور کے ناچ میں ‘طاؤس یعنی خود مور‘ مستحقِ حمد نہیں ہوتا ‘ اُس کا خالق ’’مستحقِ حمد‘‘ ہوتا ہے۔ رقصِ طاؤس میں طاؤس ’’مستحق مدح ‘‘ ہوتا ہے اور اُس کا خالق یعنی خدا سزاوارِ حمد ہوتا ہے‘ اس لیے کہ طاؤس کا رقص اُس کی اپنی کسی کاریگری کا نتیجہ نہیں ہوتا وہ اُس کی فطرت کے اندر ہوتا ہے‘ از خود سرزد ہوتا ہے لیکن خدا نے وہ خصوصیت پیدا کی ہے اس لیے خدا ’’مستحق حمد‘‘ ہے اور طاؤس ’’مستحق مدح‘‘ ہے۔

’’ حمد‘‘ کے لیے تیسری شرط

تیسری شرط یہ ہے کہ ’’حمد‘‘ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ’’حمد‘‘ کرنے والے کے دل کی آواز ہو ۔کسی کے دباؤ میں اُس کی تعریف کرنا ’’حمد‘‘ نہیں‘ مدح کہلائے گا‘ نہ ہی ’’حمد‘‘ میں ملمع کاری‘ نمائش‘ منافقت یا کسی کو بنانے کے لیے تعریف کرنے کا کوئی دخل ہو سکتا ہے۔ ’’حمد‘‘ میں جذباتِ تحسین بے ساختہ زبان پر آجاتے ہیں۔ یوں کہیے کہ کسی مصور کے نادر شاہکار کو دیکھ کر ‘مونا لیز (Mona Lisa) ٭ (5) کے تبسم کو دیکھ کر‘ بے ساختہ زبان سے آہا ہا ہا نکل جائے‘ اسے ’’حمد‘‘ کہا جائے گا۔ اس میں تصنع نہیں ‘آورد نہیں‘ بناوٹ نہیں‘ دل سے بے ساختہ تحسین و آفریں کے اچھے جذبات کا جو اظہار ہو گا اُسے ’’حمد‘‘ کہا جائے گا۔

’’ حمد’’ کی چوتھی شرط

اگلی شرط یہ ہے کہ جس چیز کی ’’حمد‘‘ کی جا رہی ہو‘ اُس کا ٹھیک ٹھیک علم ہونا بھی ضروری ہے۔ محض گمان کی بنا پر’’ حمد‘‘ نہیں کی جا سکتی۔ مبہم تصورات‘ دھندلے نقوش‘ شکوک اور تذبذب پیدا کرنے والے خیالات‘ کبھی ’’حمد‘‘ کا جذبہ پیدا نہیں کر سکتے۔ ’’حمد‘‘ فروعی تخیل ‘تواہم پرستی‘ اور اندھی عقیدت سے نہیں ابھرتی ۔اس کا سرچشمہ وہ یقین محکم ہوتا ہے‘ جو علی وجہ البصیرت حاصل ہو۔ اگلی شرط یہ ہے کہ جن نفع بخش‘ کشش انگیز رعنائیوں اور حسن وتناسب کے شاہکاروں کی حمد کی جا رہی ہو‘ اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ درجہ کمال تک پہنچ چکے ہوں اور اُن کی نفع بخشیاں محسوس ہوں۔ جو آپ خود تکمیل تک نہ پہنچا ہو یا جو انسانیت کے لیے نفع بخش نہ ہو‘ وہ مستحق حمد وستائش نہیں ہوتا ۔آرٹ برائے آرٹ مضرت رساں تو ہو سکتا ہے‘ سزاوارِ حمد نہیں ہو سکتا‘ اس لیے کہ مستحق حمد وہی شے ہو گی جو نوعِ انسانی کے لیے نفع بخشی کا موجب ہو گی۔ یہ ہے لفظ ’’حمد‘‘ کا مفہوم۔

دنیا کی کسی زبان میں بھی لفظ ’’حمد‘‘ کا ترجمہ نہیں کیا جاسکتا

عزیزانِ من ! محاروۂ عرب کی رو سے لفظ‘‘حمد’’ کے اس مفہوم کی روشنی میں آپ بتائیے کہ کیا دنیا کی کسی زبان میں اس کا ترجمہ ہو سکتا ہے؟ کیا اردو زبان کا لفظ تعریف یا انگریزی زبان کا لفظ Praise اس مفہوم کا حامل ہو سکتا ہے؟ اور پھر قرآنِ کریم نے تو اس کو الحمد کہا ہے۔ جب اس لفظ پر الف لام یعنی ال آجائے تو اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ ہر قسم کی حمدّیت اپنے انتہائی درجے میں صرف خدا کے لیے ہے‘ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔

’’ الحمد‘‘ کی وسعتوں کا اندازہ تسخیر کائنات سے ہی ممکن ہے

عزیزانِ من ! جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات‘ انسان کے قیاس وخیال وگمان ووہم سے بھی ماوراء ہے‘ اس لیے اس کی ذات کا محض ذہنی تصور ‘‘حمد’’ کے جذبات بیدار نہیں کر سکتا کیونکہ ‘‘حمد’’ کی شرط اولیں یہ ہے کہ وہ شے محسوس (Concrete) ہو۔ لہٰذا جس طرح کسی تصویر کی تحسین سے درحقیقت‘ مصور کی حمد مقصود ہوتی ہے‘ اسی طرح خدا کی حمد اس کی مخلوق کی رعنائیوں اور نفع بخشیوں کو کام میں لانے ہی سے ہو سکتی ہے۔ اس نے خود کہا ہے کہ وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ (17:44) کائنات کی ہر شے اپنے خالق کی حمد کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اس میں لفظ تصویر بھی آیا ہے۔ اس کا مفہوم اپنے مقام پر آئے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ خدا کی حمد اس کی پیدا کردہ کائنات پر غور وفکر ہی سے ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مومنین کی ایک صفت یہ بھی بتائی ہے کہ وہ حامدون (9:112) ہوتے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ جب حمد خداوندی مظاہر فطرت پر غور وتدبر کی رو سے ہی ممکن ہے تو مومنین کا بنیادی فریضہ یہ ہو گا کہ وہ اشیائے کائنات پر غور وفکر کریں‘ کائنات کے مختلف گوشوں میں تحقیقات کریں اور اُن کے محسوس نتائج کی نفع بخشیوں کو نوعِ انسانی کے لیے عام کر کے حمدخداوندی کا عملی ثبوت دیں۔

اربابِ فکر ونظر کی تعریف قرآنِ حکیم کے آئینہ میں

یہی ہیں وہ اربابِ فکر ونظر‘ جن کے لیے خدا نے کہا ہے کہ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (3:189) یہ حقیقت ہے کہ کائنات کی پستیوں اور بلندیوں کی تخلیق اور رات اور دن کی گردش میں صاحبانِ عقل وبصیرت کے لیے حقیقت تک پہنچنے کی بڑی نشانیاں ہیں۔ صاحبانِ عقل وبصیرت وہ لوگ ہیں جو اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ (3:190) اٹھتے بیٹھتے لیٹے ہر آن قوانینِ خداوندی کو اپنے سامنے رکھتے ہیں وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ تخلیقِ ارض وسماء پر غور وفکر کرتے ہیں اور جب کائنات کی ان اشیاء میں ریسرچ کرنے کے بعد خالق فطرت کی ندرت کاریاں اور نفع بخشیاں ان کے سامنے بے نقاب ہو کر آتی ہیں تو وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا (3:190) اے ہمارے نشوونما دینے والے ! تو نے اس سلسلۂ کائنات کو نہ تو بے مقصد پیدا کیا ہے اور نہ ہی تخریبی مقاصد کے لیے۔ یہ ہے خدا کی حمد اور یہ ہیں وہ اربابِ فکر ونظر جنہیں حامدون کہا جائے گا یعنی خدا کی حمد کرنے والے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ٭ (6) علماء کہہ کر پکارا ہے۔

قرآنِ حکیم نے تو اِن ’’حامدون‘‘ کو علما کہا ہے

آپ حیران ہوں گے کہ ہمارے ہاں تو علماء کا تصور ہی کچھ اور ہے لیکن ذرا دیکھیے کہ قرآنِ کریم کن لوگوں کو علماء کہتا ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً (35:27) کیا تم نے اس پر غور نہیں کیا کہ خدا کا نظامِ آب رسانی کس قدر تعجب انگیز اور حکمت انگیز ہے‘ وہ فضا کی بلندیوں سے بارش برساتا ہے وَاَخْرَجْنَا بِہٖ ثَمَرَاتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہَا (35:27) اور اس ایک ہی پانی سے طرح طرح کی روئیدگی‘ پھل‘ پھول‘ اناج وغیرہ پیدا کرتا ہے وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ م بِیضٌ وَحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہَا وَغَرَابِیْبُ سُوْدٌ (35:27) اور کیا تم نے کبھی اس پر بھی غور کیا ہے کہ یہ پہاڑ ‘یونہی جامد مادہ کی ساکت وصامت تصویر نظر آتے ہیں‘ یہ خدا کے نظامِ ارتقاء کی کتنی عظیم الشان نشانیاں اپنے اندر لیے ہیں۔ اِن کی پہچان سے جو کہیں سرخ ہیں‘ کہیں سفید اور کہیں کالے بھجنگ۔ اِن کی ایک ایک تہہ کتنے کتنے طویل المیعاد ادوار کی تاریخ اپنے دامن میں سمٹائے ہوئے ہے وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ کَذٰلِکَ (35:28) اور پھر انسانوں پر‘ مال مویشی پر‘ اور کرۂ ارض پرموجود ‘دیگر جاندار مخلوق پر غور کرو کہ یہ کس طرح بے شمار انواع میں بٹی ہوئی ہے اور ان میں کی ہر نوع کس قدر جداگانہ خصوصیات کی حامل ہے ۔ مگر یہ تمہاری کم علمی اور کوتاہ نگہی ہے کہ تم تحقیق سے کام نہیں لیتے اور اشیائے کائنات کو محض سرسری نظروں سے دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہو لیکن خدا کے بندوں میں سے اربابِ علم وحکمت‘ جب ان پر غور وفکر کرتے ہیں‘ تو وہ اُس کی عظمت وجبروت کے نشانات کو پا کر پکار اٹھتے ہیں کہ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَآءُ (35:28) درحقیقت خدا کی عظمت سے وہی لوگ کپکپا اٹھتے ہیں‘ جو اِن اشیائے کائنات پر اَتھاہ گہرائیوں سے غور وفکر کرتے ہیں ۔ قرآنِ کریم میں انہی کو علماء کہا گیا ہے۔

قرآنِ حکیم کے نزدیک مومن کا فریضہ تسخیر کائنات کے بعد اس کے محاصل کو کھلا رکھنا ہے

اب آپ غور فرما لیجیے کہ قرآن کن لوگوں کو علماء کہتا ہے اور ہمارے ہاں یہ اصطلاح کن لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ علماء کا لفظ یوں سمجھ لیجیے کہ جن معنوں میں ہم آج کل سائنٹسٹ کہتے ہیں‘ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ انہی کے لیے دوسری جگہ کہا ہے کہ اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (45:3) کائنات کی پستیوں اور بلندیوں میں مومنین کے لیے نشانیاں ہیں۔ یہ نظر آیا کہ مومن کا فریضہ یہ ہے کہ وہ خارجی کائنات کے نظام پر غور وفکر کرے ۔اسی سے فی الحقیقت خدا کی تخلیق پر‘ خدا کی صفات پر‘ خدا کی قدرت پر‘وہ ایمان پیدا ہوتا ہے کہ جس سے انسان بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ فی الواقع مستحق حمد اسی کی ذات ہو سکتی ہے‘ کسی اور کی نہیں‘ اسی لیے اسے مومنین کا فریضہ کہا اور دوسری جگہ ہے کہ اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ (10:6) وہ لوگ جنہیں متقی کہا جاتا ہے ‘یہ وہی لوگ ہیں ‘جو اختلافِ لیل ونہار پر ‘اللہ تعالیٰ کی کائنات کی تخلیق پر‘ اور ان تمام چیزوں پر‘ غور وفکر کرتے ہیں اور یہ چیزیں ان کے لیے خدا کی ذات پر ایمان پیدا کرنے کے لیے نشانیاں بن جاتی ہیں ۔ تو علماء بھی یہی ہیں‘ مومن بھی یہی ہیں اور متقی بھی یہی ہیں۔ اس سے آپ کے دل میں یہ خیال گزرتا ہو گا کہ اِس انداز سے ‘ اس مفہوم کے اعتبار سے‘ قرآنِ کریم کی اِن شرائط کے اعتبار سے ‘تو پھر علماء تو خیر یورپ کی اقوام کے سائنٹسٹ ہی ہیں۔ کیا مومن اور متقی بھی وہی لوگ ہوں گے؟ یہ بڑا ہی اہم سوال ہے اور گہری سوچ کا متقاضی ۔

کیا یورپ کے سائنٹسٹ مومن بھی ہیں؟

عزیزانِ من ! اشیائے کائنات پر غور کرنے کے ساتھ ایک اور چیز بھی ہے جسے قرآنِ کریم نے خدا کی ‘‘حمد’’ کا موجب بتایا ہے۔ یہ ساری چیزیں تو انسان کی طویل زندگی سے متعلق ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ اسے سفر حیات میں صحیح رہنمائی کی بھی ضرورت ہے اور یہ رہنمائی وحی کی رو سے ملتی ہے‘ جس کی آخری کڑی قرآنِ کریم میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو بھی مظہر حمدیت قرار دیا ہے جہاں فرمایا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا (18:1) ہر قسم کی حمد کی مستحق وہ ذات ہے جس نے اپنے بندے پر ایک ایسا ضابطہ قوانین ‘نازل کیا ہے کہ جس میں کسی قسم کا پیچ وخم نہیں۔ سیدھے راستے پر چلانے والا ضابطہ حیات ہے۔ گویا دو چیزیں ہوئیں‘ جن سے انسان حامد بن سکتا ہے اور قوم حامدون کے زمرے میں آسکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ کائنات کی قوتوں کو مسخر (Harness) کرے اور دوسرا یہ کہ اُن قوتوں کو وحی کی رو سے بتائی ہوئی اقدار کے مطابق ‘نوعِ انسانی کی منفعت کے لیے صرف کرے۔ جب یہ دو چیزیں اکٹھی ہوں گی تو وہ قوم ہو گی کہ جنہیں حامدون کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔ ان میں سے اگر ایک چیز بھی کم ہو گی‘ تو وہ حامدون میں نہیں آئے گی۔

نبی اکرمؐ کے متعلق قرآنِ حکیم کا خراجِ تحسین

جس ذاتِ اقدس واعظم ؐنے سب سے پہلے اس طرح خدا کی ‘‘حمد’’ کو عام کیا‘ اُسے خود اللہ نے احمد کہہ کر پکارا (61:1) یعنی بہت گہرا ‘‘حمد’’ کرنے والا اور اسی سے وہ ذات خود محمدﷺ قرار پا گئی (48:29) یعنی جس کی مسلسل وپیہم ’’حمد‘‘ کی جائے۔ اُس کی حیاتِ طیبہ کے یہی عظیم کارنامے ہیں‘ جن کی بنا پر کہا گیا کہ وہ مقامِ محمود پر فائز ہے (17:79) ۔ نبی اکرم ﷺ کے مقدس ہاتھوں سے وہ نظام قائم ہوا جسے دیکھ کر ساری دنیا پکار اٹھی کہ فی الواقع مستحقِ حمد وستائش ہے وہ خدا ‘جس نے ایسا انقلاب آفریں نظام عطا کیا اور اس کے بعد سزاوار حمد ہے وہ پیغمبر انقلاب ‘جس نے اُس نظام کو عملاً قائم کر کے دکھا دیا۔ اس نظام کا اولیں نتیجہ یہ تھا کہ اس قوم کی جڑ کٹ گئی‘ جو کمزور انسانوں پر ظلم واستبداد روا رکھتی تھی۔ اُس کا یہ وہ نفع بخش کارنامہ تھا‘ جس سے حمدِ خداوندی ابھر اور نکھر کر دنیا کے سامنے آگئی۔ اس کے پیش نظر کہا گیا کہ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (6:45) ظلم کرنے والی قوم کی جڑکٹ گئی‘ اس طرح رب العالمین کی حمد سطحِ عالم پر منقوش ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے انقلاب کے لیے ذاتِ خداوندی کے جلالی گوشے کی نمود بھی ضروری ہو گی یعنی حسنِ تخلیق کی رعنائیوں کے ساتھ غلبہ اور قوت کا مظاہرہ بھی۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے جلال اور جمال‘ تحسین اور قوت‘ دونوں کا سرچشمہ خدا کی ذات کو قرار دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ (64:1) اقتدار کا سرچشمہ بھی وہی ہے اور ‘‘حمد’’ کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ اگر کائنات میں جمالیات کے ساتھ جلالیات کی نمود نہ ہو تو یہ نظام تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ اقبالؒ (1877-1938) کے الفاظ میں :

حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے

اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری ٭ (7)

] ارمغانِ حجاز [

فولاد کہاں رہتا ہے شمشیر کے لائق

پیدا ہو اگر اس کی طبیعت میں ہریری

دوسری طرف جو قوت اقتدار حمدیت کی نذر نہ ہو‘ وہ فرعونیت اور چنگیزیت بن کر رہ جاتی ہے یعنی ۔۔۔

’’ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘

قندیل آسمانی کے ساتھ شمشیر خارہ شگاف بھی

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ اُس میں آسمانی رہنمائی کے ساتھ شمشیر خارہ شگاف ( فولاد ) بھی نازل کی ہے (57:25) ۔ ان دونوں کے امتزاج سے نظامِ زندگی قائم رہ سکتا ہے۔ اقبالؒ (1877-1938) کے الفاظ میں ’’اگر قوت کا نگران قرآن نہ ہو‘ تو وہ چنگیزیت ہو جاتی ہے اور قرآن کے پاس قوتِ نافذہ نہ ہو‘ تو وہ محض وعظ بن کر رہ جاتا ہے۔‘‘ لہٰذا جماعتِ مومنین ان دونوں صفاتِ خداوندی کے بروئے کار لانے سے ’’حامدون‘‘ بنتی ہے ۔

ان تصریحات سے آپ اندازہ لگا لیجیے کہ جب ‘ایک عبد مومن ‘ایک مسلمان الحمد للہ کہتا ہے‘ تو اس کا مفہوم کیا ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ ’’حمدیت‘‘ زبان سے چند الفاظ دہرانے کا نام نہیں۔ الحمد للہ‘ الحمد للہ کہنے سے ’’حمدیت ‘‘کا فریضہ ادا نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسے نظام کے بروئے کار لانے سے عبارت ہے ‘جس میں فطرت کی قوتوں کو مسخر کر کے انہیں آسمانی رہنمائی کے مطابق‘ نوعِ انسان کی عالم گیر ربوبیت کے لیے‘ عام کیا جائے اور جو قوتیں اس کی راہ میں حائل ہوں‘ انہیں راستے سے ہٹا دیا جائے۔ یہ ہے سورۂ فاتحہ کے پہلے دو لفظ : الحمد للہ۔ مکمل طور پر‘ ساری کی ساری اپنی انتہائی شکل میں جو ’’حمدیت‘‘ ہے‘ وہ اللہ کے لیے ہے ۔’’حمد‘‘ کے معنی اور مفہوم تو ہم نے سمجھ لیے۔اس میں اللہ کے لیے کہا ہے کہ یہ خدا کی ذات کا نام ہے ‘جس کی مختلف صفات الاسماء الحسنی کے انداز میں ‘قرآن میں پھیلی ہوئی ہیں۔ آئیے اب ہم دیکھیں کہ اللہ کے کیا معنی ہیں۔

الحمد اللہ کے بعد لفظ اللہ کا قرآنی مفہوم

میں سمجھتا ہوں کہ اس مقام پر آپ کے دل میں یقیناًیہ سوال پیدا ہو گا کہ اللہ کا لفظ تو اتنا عام ہے‘ اتنا معروف ہے‘ اس قدر استعمال میں آتا ہے ‘کہ ہم ایک ایک لفظ کے بعد‘ ایک ایک سانس میں ‘اس کو بولتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جب ہم اللہ کہتے ہیں‘ ہمارا اس پر ایمان ہے‘ وہ خدا ہے ‘تو اس کے مفہوم سمجھنے میں کیا دقت ہو گی اور اس کی اتنی لمبی چوڑی ضرورت کیوں پیش آئے گی لیکن جب آپ کے سامنے اس کا مفہوم آئے گا تو آپ پھر مجھ سے متفق ہوں گے کہ اتنا ہی نہیں کہ اس کی ضرورت کیوں تھی ‘بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا صحیح مفہوم کیا ہے‘ اس کے جاننے کی اشد ضرورت ہے۔

دنیا کے سیاح اور مغربی محققین اگر کسی ایسے علاقے میں بھی پہنچے ہیں‘ جہاں اُن سے پہلے کسی باہر کے انسان کے نقوشِ قدم تک دکھائی نہیں دئیے اور وہاں کے باشندے تہذیب وتمدن سے قطعاً نا آشنا تھے‘ وہ ابتدائی دورِ زندگی یعنی ابتدائی دورِ جہالت کی زندگی‘ بسر کر رہے ہیں تو اگرچہ وہ اپنی طرزِ بود وباش اور اندازِ معیشت ومعاشرت کے ہر گوشے میں باہر کی دنیا سے مختلف تھے‘ بایں ہمہ ان کے ہاں بھی کسی غیر مرئی بلند وبالا قوت کا تصور پایا گیا ‘جس کی وہ پرستش کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ایک اور حقیقت بھی سامنے آئی۔ وہ یہ کہ جہاں اس قسم کی ہستی کا ایک خاص مقام ہر جگہ موجود ہے مگر اس کا تصور یا تفاصیل ہر مقام پر مختلف ہیں اور یہی وہ اختلافات ہیں جہاں ہر قبیلے کا خدا دوسرے قبیلے کے خدا سے مختلف ہے اور ہر مذہب کا معبود دوسرے مذاہب کے معبود سے جداگانہ ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ رحمن بھی وہی اور رحیم بھی وہی ہے‘ یہ حقیقت سے بے خبری کی دلیل ہے اور فریب تخیل ہے ‘یا دانستہ ثنویت ہے۔ یہودیوں کا یہودا‘ عیسائیوں کا فادر‘ ہندو دھرم کا ایشور‘ یا اُن کے ویدان کا پرماتما‘ مجوسیوں کا یزداں‘ یہ تمام ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں اور قرآن کا اللہ ان سب سے الگ ہے۔

ہر مذہب کا خدا دوسرے مذہب کے خدا سے مختلف کیوں؟

برادرانِ عزیز ! ان مذاہب کے بانیوں نے جنہیں ہم زمرۂ انبیائے کرام o میں شمار کر سکتے ہیں‘ دین کے بانی نہیں ‘بلکہ دین خداوندی کے پہنچانے والے کہا جائے گا‘خدا کی وہی صفات بیان کی ہوں گی جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں لیکن بعد میں اُن میں انسانی خیالات و تصورات کی آمیزش ہو گئی اور اس طرح مختلف مذاہب کے خدا نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے سے مختلف ہو گئے بلکہ خدا کے حقیقی اور منزہ تصور سے بھی جداگانہ تصور کے پیکر بن گئے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰالٰی عَمَّا یَصِفُوْنَ (6:100) یہ لوگ خدا کے متعلق جو تصور پیش کرتے ہیں‘ وہ اس سے بہت بلند و بالا ہے اور خدا کا تصور وہی صحیح ہو سکتا ہے‘ جسے اس نے خود پیش کیا ہے‘اور یہ تصور اب قرآنِ کریم کے اندر محفوظ ہے۔ بہرحال میں کہہ یہ رہا تھا کہ جب تک خدا کا کوئی تصور ہمارے سامنے نہیں آتا‘ اس لفظ کا مفہوم ہمارے سامنے نہیں آتا ‘دین کی بنیاد ہی استوار نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ اللہ کے لفظ کا مفہوم کیا ہے؟

آپ کو یاد ہے کہ میں نے الحمد للہ میں کہا تھا کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب کسی لفظ سے پہلے الف لام ( ال ) لگا دیا جائے تو اس کے معنی ایک تو یہ ہوتے ہیں کہ ہر قسم کی وہ صفت اسی میں پائی جاتی ہے‘ دوسرا یہ ہوتا ہے کہ وہ صفت بلند ترین درجے کی‘ غایت درجے کی‘ انتہا درجے کی ‘اس کے اندر پائی جاتی ہے۔ اس کے سوا اس انداز کی صفت کسی اور میں نہیں پائی جاتی۔ اس لیے جب ہم اللہ کہتے ہیں تو یہ ہے : ال الٰہ۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ الٰہ کوئی اور نہیں ہو سکتا‘ الٰہ صرف اللہ ہو سکتا ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ لا الہ الا اللہ ‘تو آپ دیکھیے کہ وہی بات ہو گئی کہ کوئی الٰہ نہیں ہو سکتا سوائے اللہ کے۔ تو آپ دیکھیے کہ الٰہ کے بنیادی معنی کیا ہیں؟ الٰہ کا مادہ ہے : ا ل ہ۔ اور اس میں بنیادی طور پر متعدد معانی پائے جاتے ہیں ۔ ان میں پہلا یہ ہے کہ گھبراکر کسی کی پناہ ڈھونڈنا یا اُسے پناہ دینا‘ دوسرے یہ کہ متحیر ہونا ‘تیسرے یہ کہ بلند مرتبہ اور نگاہوں سے پوشیدہ ہونا اور چوتھے‘ جو بنیادی چیز ہے‘ یہ کہ کسی کی غلامی یا محکومیت اختیار کرنا یعنی کسی کا غلبہ اور اقتدار تسلیم اور قبول کرنا۔ الٰہ کے معنی ہوتے ہیں : صاحبِ اقتدار‘ صاحبِ اختیار۔ اور اس کے معنی ہوتے ہیں ’’وہ جس کی محکومیت اختیار کی جائے۔‘‘ لہٰذا جب ہم کہیں گے کہ لا الٰہ الا اللہ تو اس کے معنی ہوں گے کہ دنیا میں‘ کائنات میں‘ کوئی صاحب اقتدار نہیں سوائے اللہ کے۔ تو اب یہ جو خصوصیت ہے ‘جسے آپ الوہیت کہہ لیجیے یعنی صاحبِ اقتدار ہونا‘ حاکم ہونا ‘وہ جس کی اطاعت کی جائے‘ وہ جس کی محکومیت اختیار کی جائے‘ خدا کے سوا کائنات میں کوئی اور نہیں ہے۔ تو آپ دیکھ لیجیے کہ اس میں کس قدر اتفاق پایا گیا۔ اس میں توحید کا کس قدر گہرا مقصد سامنے آگیا اور اس سے یہ بھی بات سامنے آئی کہ ہمارا اور خدا کا تعلق کیا ہے۔

عقل انسانی ذاتِ باری تعالیٰ کا ادراک کرہی نہیں سکتی

میں نے یہ اس لیے دوبارہ کہا ہے کہ ذاتِ خداوندی کے متعلق تو ہمارے قیاس اور خیال اور گمان اور وہم میں بھی کچھ نہیں آسکتا۔ اس نے کہا ہے کہ لَا تُدْرِکْہُ الْاَبْصَار (6:104) انسانی بصیرت‘ انسانی فطرت‘ انسانی آنکھیں تو ایک طرف رہیں‘ اس کی بصیرت اور اس کی فکر بھی خدا کے متعلق صحیح طور پہ کچھ نہیں معلوم کر سکتی۔ جو کچھ خدا نے خود بتایا ہے‘ اس کے متعلق وہی کچھ ہم جان سکتے ہیں۔ اس کے سوا‘ اس کے علاوہ ‘کچھ نہیں جان سکتے۔ لہٰذا الٰہ کے معنی یہ ہو گئے : وہ جس کی محکومیت اختیار کی جائے ۔اللہ کے معنی ہو گئے کہ صرف اس کی محکومیت اختیار کی جائے گی‘ کسی اور کی محکومیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم میں یہ کہا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں‘ جتنے بھی خدا کو ماننے والے ہیں یا اقرار کرنے والے ہیں کہ ہم خدا کو مانتے ہیں‘ اُن کا اپنے اپنے تصور کے مطابق خدا کو مان لینا ایمان نہیں کہلا سکتا‘ اُن کا ایمان قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے اس نے کہا ہے کہ ان سب سے خواہ وہ اہل کتاب ہوں‘ خواہ وہ کفار ہوں‘ خواہ وہ مشرکین ہوں‘ اُن سب کے متعلق کہا ہے کہ فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْا (2:137) اگر یہ لوگ اس طرح خدا پر ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو پھر سمجھا جائے گا کہ یہ صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔

اصل سوال اللہ تعالیٰ کے اس تصور کا ہے جسے خود قرآن پیش کرتا ہے

اب یہاں پھر سوال یہ پیدا ہو گا کہ خدا تو کسی کے سامنے نہیں آتا‘ ہم اُس کی آواز بھی نہیں سن سکتے‘ اُس کو دیکھ بھی نہیں سکتے‘ تو اس کی محکومیت کس طرح اختیار کی جائے گی؟ یہ چیز ہے جو اصلِ دین ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ محکومیت کسی شخص کی اختیار نہیں کی جائے گی۔ محکومیت قوانین کی اختیار کی جائے گی‘ احکام کی اختیار کی جائے گی‘ خدا کے الٰہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ انسانوں کے لیے احکام وقوانین دینا‘ صرف خدا کے لیے ہے۔ دنیا میں کوئی انسان کسی دوسرے کو اپنے حکم یا اپنے قانون کا محکوم نہیں بنا سکتا۔ اگر کوئی شخص اس کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ خدا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اگر کوئی شخص اس دعویٰ کو مانتا ہے یا اس کی تعمیل کرتا ہے ‘تو وہ خدا کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ خدا نے اسی لیے کہا ہے کہ لَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا (18:26) خدا نے اپنے حقِ حکومت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کیا‘ کوئی اس میں شریک نہیں ہو سکتا۔اس کے جو آداب وقوانین ہیں ‘ جسے ہم کہیں گے کہ وہ الوہیت کے مظہر ہیں‘ جو وہ قوانین ہیں‘ جو وہ احکام ہیں ‘جو وہ اقدار ہیں ‘وہ تمام قرآنِ کریم کے اندر محفوظ ہیں اور یہی چیز ایمان اور کفر میں خطِ امتیاز ہے‘ چنانچہ اس نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ (5:44) جو شخص بھی خدا کے نازل کردہ قوانین واحکام واقدار کی اطاعت نہیں کرتا‘ اُن کی محکومیت اختیار نہیں کرتا‘ اُن کے مطابق فیصلے نہیں لیتا ‘تو یاد رکھیے ! انہی کو کافر کہا جاتا ہے ۔ لہٰذا مومن یا ایمان لانے والا وہ ہے‘ جو صرف خدا کو الٰہ مانے‘ یعنی صاحب اقتدار مانے ‘صرف اس کے عطا کردہ ‘نازل کردہ ‘قوانین واحکام کی محکومیت اختیار کرے۔اس کے سوا اگر کسی اور کی بھی محکومیت اختیار کی‘ کسی اور کو صاحب اقتدار‘ مان لیا تو وہ حقیقت میں اُسے الٰہ مان لینا ہو گا ۔

اقدار باری تعالیٰ میں کسی دوسری قدر کو شامل کرنا شرک ہے

عزیزانِ من ! اب اس اعتبار سے وہ اللہ ( ال الٰہ ) نہیں رہے گا بلکہ ہم اس کے ساتھ کسی اور کو بھی الٰہ مان لیں گے ۔ اللہ کا نام جپنا یا اللہ پر ایمان کا دعویٰ رکھنا اور اس کی صفتِ الوہیت کے اندر‘ اس کے اقتدار کے اندر ‘کسی اور کو شامل کرنا ‘شرک ہو گا۔ یہ خدا پر ایمان نہیں ہو گا‘ اس کی توحید نہیں ہو گی۔ مثال کے طور پر آپ یورپ کی اقوام کو لیجیے۔ اُن میں چند ایک کے سوا ہر شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے۔ He believes in God ٭ (8) کہا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ان کے اس ایمان کو ایمان ہی نہیں مانتا۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے ہاں نظامِ حکومت وہ رائج کر رکھا ہے جو انسانوں کا بنایا ہوا ہے‘ وہ انسانوں کے وضع کردہ قوانین کے تابع زندگی بسر کرتے ہیں‘ خواہ وہ کسی ایک فرد کا بنایا ہوا قانون ہو جسے آپ ڈکٹیٹر کہہ لیں‘ جسے پرانے زمانے میں بادشاہت یا ملوکیت کہا جاتا تھا اور خواہ وہ انسانوں کے کسی ایک گروہ کا بنایا ہوا قانون ہو‘ جسے آپ جمہوریت کہتے ہیں۔ڈیمو کریسی کہتے ہیں‘ مغرب ہی میں نہیں بلکہ آج تو ساری دنیا میں یہی نظام چل رہا ہے۔یہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی محکومیت اختیار کرنا ہے۔ حقیقت میں اس نظام کو سیکولرازم کہا جاتا ہے یعنی دعویٰ یہ کرنا کہ ہم خدا کو مانتے ہیں لیکن نظام حکومت انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے تابع چلتا ہے اور اس باب میں بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بہترین نظام ہے یعنی ایک فرد کا بنایا ہوا قانون نہیں بلکہ ایک گروہ کا بنایا ہوا قانون ہے ‘جن کو قانون بنانے والوں میں اکثریت حاصل ہوتی ہے تو قرآن تو اس کو ایمان مانتا ہی نہیں ہے۔ وہ ایک شخص کے قوانین ہوں ‘اکثریت کے قوانین ہوں ‘بلکہ تمام انسانوں کے مل کر متفق علیہ قوانین ہوں‘ وہ اس کو تو خدا پر ایمان مانتا ہی نہیں۔ ٭ (9)

خارجی کائنات میں اللہ تعالیٰ کے قانون کا اعتراف اور انسانی زندگی میں اُس کے آئین سے انکار کیوں؟

خدا پر ایمان تو اسی کا ہے جو اسے ال الٰہ مانتا ہے‘ اس کے سوا کسی اور کو الٰہ نہیں مانتا ہے اسی لیے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پہ یہ کہا گیا ہے کہ اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ کائنات کو کس نے پیدا کیا‘ تو یہ کہیں گے خدا نے پیدا کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان سے پوچھو کہ زمین اور اجرامِ فلکی اور شمس وقمر کس کے قوانین کے تابع سرگرمِ عمل ہیں‘ تو یہ کہیں گے کہ خدا ہی نے انہیں پیدا کیا ہے اور اسی کے قوانین کے تابع یہ اس طرح سرگرمِ عمل ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے کہ اِن سے پوچھو کہ وہ کون ہے جس کے قوانین کے مطابق آسمان سے بارش ہوتی ہے‘ جس سے زمینِ مردہ حیاتِ نو حاصل کر لیتی ہے‘ تو یہ کہیں گے کہ ایسا خدا ہی کے قوانین سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے اور یہ غور طلب بات ہے کہ جب یہ خارجی کائنات میں قوانینِ خداوندی کی کارفرمائی کو تسلیم کرتے ہیں تو انسانی دنیا میں اس کے قوانین کی ضرورت سے کس طرح انکار کر سکتے ہیں‘ یہاں پہنچ کر انہیں کون سی بات دھوکا دے دیتی ہے ! فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ (23:84) ۔

یہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت ’’الحمد‘‘ سے انکاری ہے

ان کی عقل وفکر پر کیوں پردے پڑ جاتے ہیں (29:61) وہ کہتا ہے کہ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ (29:63) ۔ اُن سے کہو کہ یہ الحمد صرف خدا کے لیے ہے اور اس میں پہلے لفظ حمد آیا تھا۔ تو حمد کے اندر سب سے بڑی چیز تو یہی آتی ہے کہ صاحبِ اقتدار وہی ہے ‘اختیارات صرف اس کے ہاتھ میں ہیں‘ حقِ حکومت صرف اس کے قوانین کو حاصل ہے ۔اس لیے یہ کہنا کہ خارجی کائنات میں جتنے ) Laws of Nature قوانین فطرت ) ٭ (10) ہیں ‘وہ تو خدا کے بنائے ہوئے ہیں ‘ مگر انسانوں کی زندگی میں ہم اپنے وضع کردہ قوانین کے تابع زندگی بسر کریں گے‘صریحاً قرآن کے خلاف ہے۔ قرآن اسے خدا پر ایمان تسلیم ہی نہیں کرتا۔

قرآنِ حکیم کی آڑ میں نظام سرمایہ دار کی پکار

عزیزانِ من ! اس مقام پر ایک بات مجھے یاد آگئی۔ رشیا ٭ (11) نے جب اپنے ہاں وہ نظام جاری کیا تو اس کا ) Counter توڑ ) کرنے کے لیے سرمایہ داری نظام کو ضرورت پیش آئی کہ وہ اُن کے مقابلے میں مسلمانوں کی تائید حاصل کریں ۔ آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے اس کے لیے کیا حربہ استعمال کیا تھا؟ انہوں نے پراپیگنڈہ کیا کہ روس یا کمیونسٹ یا سوشلسٹ خدا کا انکار کرتے ہیں اور مسلمان خدا کو مانتے ہیں ۔انہوں نے پروپیگنڈے میں پہلی چیز تو یہ کی کہ خدا کے انکار کرنے والوں کا خدا کے اعتراف کرنے والوں کے ساتھ کسی طرح سے کسی قسم کے کوئی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے اگلی بات یہ کہی کہ ہم تمام اقوامِ یورپ اور مغرب‘ جو عام طور پہ عیسائیوں اور یہودیوں پر مشتمل ہے ‘ خدا کو مانتے ہیں ۔ مسلمان بھی خدا کو مانتے ہیں‘صرف یہ کمیونسٹ خدا کو نہیں مانتے۔ اس لیے انہوں نے اتحاد کے لیے نعرہ دیا کہ :

Believers in God, unite together ٭ (12)

آؤ‘ خدا کے ماننے والو ! ان کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنائیں ۔ گویا انہوں نے بھی اپنے آپ کو خدا کا ماننے والا قرار دے کر مسلمانوں کے ساتھ ایک متحدہ محاذ بنانے کی بنیاد قائم کی۔ یہ الگ بات ہے کہ خود مسلمانوں کے ہاں بھی خدا کی الوہیت کوئی نہیں مان رہا لیکن انہوں نے تو کہا کہ ہم خدا کو ماننے والے ہیں ۔

قرآنِ کریم تو ایک ایک قدم پہ یہ کہتا ہے کہ محض ) Laws of Nature قوانینِ فطرت ) یعنی کائنات کے قوانین کے متعلق یہ کہنا کہ وہ خدا کے ہیں اور سارا نظامِ کائنات اس کے تابع چل رہا ہے اور انسانوں کی دنیا کے اندر یہ کہنا کہ یہاں احکام اور قوانین انسان خود وضع کریں گے‘ بالکل غلط ہے۔ اس نے کہا ہے کہ یہ خدا پر ایمان ہے ہی نہیں۔ اسی لیے میں اسے پھر دہرا دوں جو قرآن نے کہا تھا کہ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اﷲُ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ (5:44) جو خدا کے نازل کردہ قوانین کی محکومیت اختیار نہیں کرتا‘ وہ اس کے الٰہ ہونے کو نہیں مانتا۔ لہٰذا ‘عزیزانِ من ! ال الٰہ یا اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ حقِ حکومت صرف اسی کو حاصل ہے۔اسی لیے اسلام کا بنیادی تصور‘ بنیادی ایمان لا الٰہ الا اللہ پر ہے کہ خدا کے سوا کوئی صاحب اقتدار نہیں ۔

رب تعالیٰ کے اقتدار کی محسوس شکل وصورت

اب اگلی بات یہ تھی کہ خدا کا یہ اقتدار کس طرح ہمارے سامنے آئے گا‘ ہم کیسے اس کی محکومیت اختیار کریں گے؟ اس کے لیے یہ کہہ دیا کہ خدا نے جو پیغامات‘ جو احکام ‘نازل کیے تھے‘ محمد رسول اللہ کی وساطت سے دنیا کو ملے اور وہ آج انؐ کی کتاب کے اندر محفوظ ہیں۔ یوں خدا کی الوہیت پر ایمان لایا جائے گا۔ لہٰذا ’’لا الٰہ الا اللہ ‘‘کے ساتھ ’’ محمد رسول اللہ‘‘ کہہ دیا۔ اس میں دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ بتا دیا کہ صرف خدا کی محکومیت اختیار کرنے کا عملی طریق کیا ہے؟ اور وہ طریق ہے ’’خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے قوانین کی غایت پورا کرنا‘‘ اور اس میں دوسری چیز یہ اخذ ہو گئی کہ کسی انسان کو حقِ حکومت حاصل نہیں اور تو اور دنیا میں خدا کے بعد عظیم ترین شخصیت ‘محمد کی ہو سکتی ہے لیکن محمدﷺ کی بھی پوزیشن یہ نہیں کہ وہ صاحب اقتدار اور صاحب اختیار ہیں‘ خدا کی شانِ الوہیت میں شامل ہیں‘ بالکل نہیں۔ کہا کہ محمدﷺ بھی اللہ کے رسول ہیں‘ اس کے احکامات دنیا تک پہنچانے کا واسطہہیں‘ خود احکامات مرتب اور وضع کرنے والے نہیں‘ اپنی حکومت قائم کرنے والے نہیں‘ حقِ حکومت تو صرف خدا کو حاصل ہے۔ یہ ہے‘ عزیزانِ من ! اللہ پر ایمان کے معنی ۔ اس باب میں تو قرآنِ کریم اس قدر گہرائی میں گیا ہے کہ جب اُس پر انسان غور کرتا ہے تو واقعی وجد میں آجاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دوسرے انسانوں کے احکام کا اتباع تو ایک طرف رہا‘ ان کی محکومیت اختیار کرنا تو شرک اور کفرہے‘ وہ کہتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِٰلہَہٗ ہَواٰہُ (25:43) ۔دنیا میں تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے کہ جو کسی دوسرے شخص کے احکام کا اتباع تو شاید نہ کریں یا کریں‘ ‘لیکن وہ ہر معاملے میں خود اپنے جذبات کا اتباع کرتے ہیں یعنی وہ اپنے جذبات کو اپنا الٰہ بنا لیتے ہیں۔ اُن کی جو اپنی خواہش ہوتی ہے ‘ وہ اس کا اتباع کرتے ہیں‘ اپنے جذبات کے ماتحت چلتے ہیں‘ انہی سے فیصلے کراتے ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ یہ تو سب سے بڑا شرک ہے اورجب یہ ایسی چیز ہے تو کہا کہ وَ اَضَلَّہُ اﷲُ عَلٰی عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَ قَلْبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً (45:23) جو اپنے ہی جذبات سے مغلوب ہو گیا‘ اپنے ہی جذبات کو اپنا الٰہ بنا لیا‘ تو پھر اس کی سمجھنے سوچنے دیکھنے بھالنے کی ساری قوتیں مسلوب ہو جاتی ہیں‘ ان پہ پردے پڑ جاتے ہیں‘ جذبات غالب آجاتے ہیں ۔ اس کی ایسی کیفیت ہوتی ہے جیسی ایک شرابی کی ہو کہ اس کی عقل وفکر کچھ کام ہی نہیں دیتی۔پھر جس کی یہ کیفیت ہو جائے تو اس کے لیے کہا کہ فَمَنْ یَّہْدِیْہِ مِنْم بَعْدِ اﷲِ (45:23) پھر اسے کون صحیح راستے پر لاسکتا ہے !! اس سے آپ نے الا اللہ کے معنی دیکھ لیے کہ قرآنِ کریم اپنے جذبات کے اتباع کو ‘ اپنے جذبات کی محکومیت اختیار کرنے کو بھی‘ شرک قرار دیتا ہے۔

جذباتی قوت کو استعمال میں لانے کا طریق

یہاں ایک نکتے کی وضاحت ضروری ہے۔ یہ نہیں ہے کہ قرآن جذبات کو فنا کر دینے کی تاکید کرتا ہے۔ قطعاً نہیں۔ جذبات تو وہ محرک قوت ہیں‘جن سے انسان جتنے کام کرتا ہے‘ وہ اسی قوتِ محرکہ کی بنا پر کرتا ہے۔ اگر دل کے اندر ہی جذبہ پیدا نہ ہو‘ اگر آرزو ہی آپ کے ہاں بیدار نہ ہو‘ تو آپ دنیا کے اندر نہ کوئی تخلیق کر سکتے ہیں‘ نہ کوئی دنیا کا کام کر سکتے ہیں۔ جذبہ تو نہایت ضروری ہے لیکن جذبات کو بے زمام چھوڑ دینا‘ ان پہ کوئی پابندی عائد نہ کرنا‘ یہ ہے ان کو الٰہ بنانا۔ اسی لیے اس نے کہا ہے وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَواٰہُ بِغَیْرِ ھُدًی مِّنَ اﷲِ (28:50) ظالم وہ ہے‘ مشرک وہ ہے‘ جو اپنے جذبات کا اتباع کرتا ہے اور خدا کی دی ہوئی وحی کو چھوڑ رہا ہے۔ ایسی صورت میں مثال یوں لیجیے کہ اگر پانی دریا کے ساحلوں کے اندر بہتا ہوا چلا جائے تو وہ صرف تعمیری نتائج پیدا کرتا ہے‘ امیدِ حیات ہے لیکن اگر وہ ان ساحلوں کو توڑ دے تو سیلاب بن جاتا ہے اور سیلاب سوائے تباہی کے کچھ اور نہیں ہے۔ انسانی جذبات کو اگر خدا کی نازل کردہ اقدار ‘ احکام اور قوانین کے ساحلوں کے اندر رکھا جائے گا تو یہ جذبات تعمیری نتائج پیدا کریں گے۔ یہ نہایت ضروری ہے اور اگر انہیں بے بہا چھوڑ دیا جائے‘ بے لگام چھوڑ دیا جائے‘ تو یہی دریا سیلاب کی شکل اختیار کرے گا جو تباہیاں ہی تباہیاں بپا کرتا چلا جائے گا ۔یعنی آپ نے اپنا اقتدار‘ جذبات کے اعتبارپہ‘ اس طرح تسلیم کیا کہ ان کے اوپر خدا کے قوانین کی حاکمیت باقی نہ رہی۔ اس لیے دنیا میں انسان کو جتنی صلاحیتیں حاصل ہیں‘ جتنی استعداد حاصل ہے‘ جو ذرائع اور وسائل حاصل ہیں‘ اُن سب سے فائدہ اٹھانا‘ انہیں کام میں لانا‘ نہایت ضروری ہے بشرطیکہ انہیں خدا کی نازل کردہ اقدار وقوانین کے تابع رکھا جائے۔ اگر تابع رکھا جائے تو یہ عین اسلام ہے اور اگر ان کو بے بہا بنا دیا جائے‘ ان کے اوپر خدا کے قوانین کا غلبہ نہ تسلیم کیا جائے‘ تو یہ چیز کفر بھی ہے‘ شرک بھی ہے‘ تخریب بھی ہے‘ دنیا میں ہر قسم کا فساد برپا کرنے والی چیز ہے۔

ارض وسما کا مالک وحاکم صرف باری تعالیٰ کی ذات ہی ہے

عزیزانِ من ! دو چیزیں ہمارے سامنے آئیں۔ ایک تو یہ کہ صرف یہ سمجھنا کہ خارجی کائنات میں خدا کے قوانین چل رہے ہیں‘ اس نے کائنات کو پیدا کیا اور یہ جو ) Laws of Nature قوانین فطرت ) ہیں ‘یہ خدا کے مقرر کردہ ہیں‘ ان کے مطابق یہ نظام سرگرمِ عمل ہے لیکن ہماری انسانوں کی زندگی میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ یہ چیز بھی خدا پر ایمان لانا نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح طور پہ کہا ہے کہ وَ ہُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِٰلہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِٰلہٌ (43:84) خارجی کائنات میں بھی وہی الٰہ ہے اور تمہاری اپنی زندگی میں بھی‘وہی الٰہ ہے ۔وہی سماء کا الٰہ ہے‘ وہی ارض کا الٰہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ اسے ارض کا الٰہ نہیں مانتے‘ یعنی اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ‘خواہ اس کا کوئی بھی گوشہ کیوں نہ ہو‘سیاسی ہو ‘معاشرتی ہو ‘معاشی ہو‘ آپ خدا کو الٰہ نہیں مانتے ‘تو آپ خدا پر ایمان نہیں رکھ رہے ہیں ۔اسی لیے اُس نے کہا ہے کہ لَوْ کَانَ فِیْہِمَآ ٰالِہَۃٌ اِلَّا اﷲُ لَفَسَدَتَا (21:22) اگر خارجی کائنات اور خود اس ارضی زندگی میں خدا کے سوا اور الہ ہوں تو اس میں فساد برپا ہو جائے یا یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔ یعنی اس کے ایک گوشے میں خدا کے قوانین نافذ ہوں اور دوسرے گوشے میں کسی اور کے‘ تو کائنات کا سارا سلسلہ تہس نہس ہوجائے لہٰذا فَسُبْحٰنَ اﷲِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ (21:22) اس پوری کائنات کا مرکزی کنٹرول جس میں خود انسانوں کی زندگی بھی شامل ہے‘ اسی کے ہاتھ میں ہے ۔وہ ان تصورات سے بہت بلند ہے جو لوگ اس کے متعلق خیالات رکھتے ہیں۔ جو باتیں لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں‘ وہ اس سے بہت بلند و بالا ہے۔ اُس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔

عزیزانِ من ! اب آپ نے سمجھ لیا کہ اللہ کا مفہوم کیا ہے اور یہ بھی سمجھ لیا کہ الٰہ کا جو ترجمہ ہمارے ہاں انگریزی میں God ہے‘ ہندوؤں کے ہاں ایشور ‘پرماتما ہے‘ مجوسیوں کے ہاں یزداں ہے‘ ہمارے ہاں فارسی کا لفظ خدا ہے جو اردو میں عام مستعمل ہے‘وہ اللہ کا مفہوم نہیں ادا کر سکتے ۔اس سے یہ ظاہر ہے کہ ان چیزوں کا واقعی ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ یہ تو اپنی ذات میں محکم ہے۔ جب یہ لفظ اسی طرح رہے گا ‘تو اس کا مفہوم آپ سمجھ سکتے ہیں‘ بیان بھی کر سکتے ہیں لیکن اس کا ترجمہ کسی ایک لفظ میں نہیں کیا جاسکتا۔ جونہی آپ نے کسی زبان میں ترجمہ کیا‘ وہ اس زبان والوں کا جو خدا ہے‘ اس کا تصور آپ کو دے گا‘ قرآن کے الٰہ کا تصور نہیں دے سکتا۔

خارجی کائنات میں رب تعالیٰ کا قانون اور ارضی زندگی میں انسانی قانون یہ حاکم اعلیٰ کی حکمرانی کے ساتھ جنگ ہے

میں پھر دہرادوں کہ قرآن کا جو الٰہ ہے‘ اس کے معنی ’’صاحبِ اقتدار‘‘ ہیں اور جب ہم کہتے ہیں کہ لا الٰہ الا اللہ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ’’ اللہ کے سوا پوری کائنات میں کوئی صاحبِ اقتدار نہیں ہے‘‘۔ پھر اگلی بات یہ ہے کہ یہی نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ خارجی کائنات میں یعنی Outer Universe میں تو اس کے قوانین ہیں ‘جنہیں ) Laws of Nature قوانینِ فطرت ) کہا جاتا ہے اور انسان کی اپنی زندگی کے اندر اس کے قوانین نہیں بلکہ اس کا نظام تو انسان کے اپنے بنائے ہوئے قوانین کے تابع چلے گا تو یہ ) Dualism ثنویت ) ہے کہ وہاں کا خدا کوئی اور یہاں کا الٰہ کوئی اور ہے ‘تو یہ کفر نہیں ‘بلکہ شرک ہے حتی کہ انسان اگر اپنے جذبات کے تابع چلتا ہے اور انہیں بھی خدا کے احکام اور اقدار کے تابع نہیں رکھتا ہے ‘تو یہ خود اپنے جذبات کو الٰہ بنانے والی بات ہے۔ اس میں اللہ پر ایمان کسی طرح بھی باقی نہیں رہتا۔

عزیزانِ من ! یہ ہے اللہ کے لفظ کا مفہوم ۔یہ جو سورۃ الفاتحہ کی پہلی ہی آیت الحمدللہ میں ’’الفاظ حمد اور اللہ تھے۔ہمارے سامنے آگئے۔ اب آگے یہ بات آئے گی کہ خدا کا یہ اقتدارو اختیارِ حاکمیت کس مقصد کے لیے ہے۔ کیا وہ اس لیے ہے کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے کہ ہم حاکم ہیں‘ ہماری حکومت ہے ‘تم دخل دینے والے کون ہوتے ہو‘ اور تم سرتابی کرنے والے کون ہوتے ہو؟ اس کی غایت کیا ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ ان سب سوالات کا جواب اگلے الفاظ ’’رب العالمین‘‘میں آئے گا۔ اس طرح اب اس کا اگلا لفظ ’’رب ‘‘ہمارے سامنے آئے گا ‘جسے ہم آئندہ درس میں لیں گے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ط

Re Typed by Muhammad Aqeel Haider



حواشی

(1) ٭ تاریخ کا قیاس اس طرف جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ 950 ق م کا ہے۔

(2) ٭جس زمانے میں قوم سبا اپنے عہد شباب میں تھی اس کی حکمران ملکہ سبا تھی۔ قوم سبا کا مسکن جنوبی عرب ( یمن کا مشرقی علاقہ ) تھا اور مآرب دارالسلطنت۔ یہ اس زمانے کی مہذب اور طاقتور قوم تھی‘ تجارت میں بہت آگے‘ زمین زرخیز‘ قیمتی دھاتیں ‘ جواہرات ریشم اور بخورات کے مسالے بافراط ملتے تھے۔ ہندوستان کا مالِ تجارت یمن کے ساحل پر جا کر اترتا‘ وہاں سے یہ لوگ اس سامان کو شام‘ فلسطین اور مصر تک لے جاتے۔ تجارت اور اس کے ساتھ حکومت‘ نتیجہ یہ کہ شمالی عرب اور افریقہ تک مختلف آبادیوں پر ان کا تسلط رہا۔ قریب 1100 ق م‘ زمانہ عروج سمجھئے۔ پہلی صدی ق م میں یہ قوم تباہ ہوگئی۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات اور ان کے کتبات آج تک ان کی مٹی ہوئی سطوت کی زندہ شہادتیں ہیں۔ یہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بناتے اور قلعے تعمیر کرتے تھے اور آبپاشی کے لیے انہوں نے بڑے بڑے بند (Dams) بنا رکھے تھے۔ چنانچہ ایک بہت بڑا بندخود دارالسطنت مآرب کے قریب تھا جسے سدمآرب کہتے ہیں۔ ( حجاز کے عرب بند (Dam) کو ’’سد‘‘ اور عربِ یمن عرم کہتے ہیں ) یہ بند (Dam) پہاڑوں کے اندر بڑی بڑی دیواریں کھینچ کر بنایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے اردگرد کا علاقہ سیراب ہوتا تھا۔ اس سے یہ سرزمین وسیع و عریض باغ بن گئی تھی۔ پہلے یہ بند ٹوٹا‘ جس سے شہر تباہ و برباد ہوا اور گردو پیش کا علاقہ ایسا ویران ہوا کہ اس میں جھاؤ اور خاردار بیریوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا (34:16-17) حوالہ : پرویزؒ : برق طور‘ ادارہ طلوع اسلام‘ لاہور‘ 1993‘ ص ص 259-261

(3) ٭ تعلیمات یا کسی خاص موضوع سے متعلق تعلیمات کا مجموعہ یا نظام۔ ( حوالہ : ڈاکٹر جمیل جالبی : قومی انگریزی۔ اردو لغت، مقتدرہ قومی زبان‘ اسلام آباد‘ 1992‘ ص 607 ۔

(4) ٭ اس کی مزید وضاحت کے لیے دیکھیے : ( ص ص 20 تا 26)‘ مطالب القرآن فی دروس الفرقان پارہ 29( مکمل )‘ ادارہ طلوعِ اسلام رجسٹرڈ‘ لاہور‘ 2006 ء

(5) ٭ Mona Lisa (It is the) most valuable painting and widely recognized as the most famous in the history of Art. The Mona Lisa (La Gioconda) by Leonordo da Vinci (1452-1519) in the Louvre, Paris, France was assessed for Insurance Purposes at $100 million for its move to Washington, Dc, USA and New York City for exhibition from14 Dec. 1962 to 12 Mar. 1963. However, Insurance was not concluded because the cost of the Closest security precautions was less than that of the premuiums. It was painted c. 1503-07 and measures 77x53 cm 30.5x20.9 in. It is believed to portray either Mona (Short for Madonna) Lisa Gherardini, the wife of Francesco del Giocondo of Florence, of Constanza d` Avalos, coincidentally nicknamed La Gioconda, mistress of Giuliano de Medici. King Francis 1 of France bought the painting for his bathroom in 1517 for 4000 gold florins, or 15.3 kg 92 oz of gold. (Mc Farlan, Donald (Ed.): the Guinness Book of Records 1992, Guinness Publishing Ltd. Spain, October 1991. p.180)

(6) ٭ (35:28)

( 7 ) ٭ ڈاکٹر اقبالؒ (1877-1938) نے ’’ضرب کلیم‘‘ میں اسے یوں کہا :

( 8 ) ٭ وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے۔

( 9 ) ٭ اس کی تشریح و تبئین کے لیے دیکھیے : پرویزؒ کا پمفلٹ : مقصود بالذات کون ہے؟ فرد یا مملکت۔ اس کا انگریزی ترجمہ اور تدوین پروفیسر ڈاکٹر منظورالحق کے قلم سے اس نام سے چھپا ہے : What is the genuine end? The Individual or the State یہ پمفلٹ ( اردو اور انگریزی ) ادارہ طلوع اسلام رجسٹرڈ‘ 25/ بی گلبرگ‘ لاہور‘ پاکستان سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

( 10 ) ٭ قوانینِ فطرت کی سائنسی تشریح و تبئین کے لیے دیکھیے : مطالب القرآن فی دروس الفرقان سورۃ حج‘ ادارہ طلوع اسلام رجسٹرڈ‘ لاہور‘ 2005‘ ص 315 ( فٹ نوٹ 1 (

(11) ٭ سابقہ یو ایس ایس آر (USSR)

(12) ٭اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے : مطالب القرآن فی دروس الفرقان سورء انبیاء‘ ادارہ طلوعِ اسلام رجسٹرڈ‘ لاہور‘ 2005 ء‘ ص ص 61 تا 75 بمعہ انہی صفحات کے فٹ نوٹ

Sura (download) |Useful links:)| --Lughat--| --Tabweeb--| --Mafhoom--| --Qurani Qavaneen--| --Previous Dars--| --Duroos List--| ----->Next Dars

facebook
youtube